Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)
فاریکس

ایران کشیدگی کے باوجود AUDUSD کی تیزی جاری ، RBA شرح سود بڑھانے کے امکانات

★اہم نکات

  • •AUDUSD مسلسل چوتھے کاروباری سیشن میں بڑھ کر 0.7027 تک پہنچ گیا، جبکہ روزانہ اضافہ 0.44 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
  • •RBA کے ڈپٹی گورنر اینڈریو ہاؤزر نے خبردار کیا کہ افراط زر کی صورتحال پہلے کے اندازوں سے زیادہ خراب دکھائی دے رہی ہے۔
  • •شرح سود میں 25 بنیادی پوائنٹس اضافے کے امکانات ایک روز میں تقریباً 30 فیصد سے بڑھ کر 60 فیصد ہو گئے۔
  • •مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے باوجود مثبت مارکیٹ رجحان اور آسٹریلوی شرح سود سے متعلق توقعات نے AUDUSD کو سہارا دیا۔
  • •تکنیکی اشاریوں میں 0.7077 کی سطح پہلی اہم مزاحمت ہے، جبکہ 0.7024 کے قریب قیمت برقرار رکھنا قلیل مدتی سمت کے لیے اہم ہوگا۔
  • •آسٹریلیا کے Flash PMI اعدادوشمار اور امریکہ کے افراط زر و مانیٹری پالیسی سے متعلق اعلانات کرنسی کی اگلی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
Robina Adeel
Robina Adeel ←

76 مشاہدات

آسٹریلوی ڈالر کے نوٹ، سکے، آسٹریلوی پرچم اور ریزرو بینک آف آسٹریلیا کی عمارت پر مشتمل مالیاتی تصویر۔
آسٹریلوی ڈالر، ریزرو بینک آف آسٹریلیا اور مالیاتی منڈیوں کی عکاسی کرتی ایک تصویر۔

عالمی مارکیٹس میں مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باوجود آسٹریلوی ڈالر نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں مسلسل چوتھے روز تیزی کا سلسلہ برقرار رکھا، جس سے AUDUSD کی قیمت 0.44 فیصد اضافے کے ساتھ 0.7027 تک پہنچ گئی۔

اس پیش رفت میں سب سے اہم کردار آسٹریلیا کے مرکزی بینک Reserve Bank of Australia (RBA) کی جانب سے افراط زر کے بارے میں سامنے آنے والے سخت مؤقف اور شرح سود میں مزید اضافے کی بڑھتی ہوئی توقعات نے ادا کیا۔

اگرچہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ تصادم کے خدشات عالمی سرمایہ کاروں کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہے ہیں، تاہم آسٹریلوی معیشت میں قیمتوں کے دباؤ سے متعلق خدشات نے ملکی کرنسی کو سہارا دیا ہے۔ اب سرمایہ کاروں کی توجہ آسٹریلیا کے کاروباری سرگرمیوں کے اعدادوشمار، امریکی افراط زر کے اشاریے اور Federal Reserve کے آئندہ مانیٹری پالیسی فیصلے پر مرکوز ہے۔

RBA کا سخت موقف اور AUDUSD پر اثرات

آسٹریلوی ڈالر کی حالیہ تیزی کی بنیادی وجہ Reserve Bank of Australia کی جانب سے افراط زر کے حوالے سے سامنے آنے والا محتاط مگر سخت مؤقف ہے۔ مرکزی بینک کے ڈپٹی گورنر اینڈریو ہاؤزر نے کہا کہ افراط زر کا مستقبل سے متعلق منظرنامہ پہلے کے اندازوں سے زیادہ خراب دکھائی دے رہا ہے اور قیمتوں کا دباؤ توقعات سے کچھ زیادہ ہے۔ ان کے مطابق، اگرچہ سخت مانیٹری پالیسی اپنا اثر دکھا رہی ہے، تاہم افراط زر کے امکانات میں بگاڑ کے آثار موجود ہیں۔

اس بیان نے سرمایہ کاروں کو یہ اندازہ لگانے پر مجبور کیا کہ RBA قیمتوں میں اضافے کو قابو کرنے کے لیے شرح سود میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔ جب کسی ملک میں شرح سود بڑھنے کے امکانات مضبوط ہوتے ہیں تو اس کی کرنسی کو نسبتاً زیادہ منافع کی تلاش میں آنے والے سرمایہ کاروں کی جانب سے حمایت مل سکتی ہے۔ یہی توقع آسٹریلوی ڈالر کے لیے مثبت ثابت ہوئی۔

شرح سود میں اضافے کے امکانات میں اضافہ

اینڈریو ہاؤزر کے بیان کے بعد فنانشل مارکیٹس میں RBA Rate Hike کی توقعات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ دستیاب مارکیٹ اعدادوشمار کے مطابق، شرح سود میں 25 بنیادی پوائنٹس اضافے کے امکانات تقریباً 30 فیصد سے بڑھ کر 60 فیصد ہو گئے۔ اگر یہ اضافہ نافذ کیا جاتا ہے تو شرح سود 4.85 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ تاہم، یہ مارکیٹ کی توقعات ہیں، مرکزی بینک کا حتمی فیصلہ نہیں۔ شرح سود کے مستقبل کا انحصار آنے والے معاشی اعدادوشمار، افراط زر کے رجحان اور پالیسی سازوں کے جائزے پر ہوگا۔

سرمایہ کاروں کے لیے اس تبدیلی کی اہمیت یہ ہے کہ شرح سود میں اضافے کی توقع آسٹریلوی ڈالر کی طلب کو بڑھا سکتی ہے۔ دوسری جانب، اگر آنے والے معاشی اعدادوشمار معیشت میں کمزوری یا افراط زر میں کمی ظاہر کرتے ہیں تو شرح سود سے متعلق موجودہ اندازے تبدیل بھی ہو سکتے ہیں۔

ایران کشیدگی کے باوجود عالمی مارکیٹ کا رجحان مثبت

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی مالیاتی منڈیوں کے لیے غیر یقینی صورتحال برقرار رکھی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے سے منسلک بعض اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کی روانگی سے متعلق ہدایات جاری کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔

دوسری جانب، ایران کے وزیر خارجہ نے سفارت کاری کو ایک اور موقع دینے کی آمادگی ظاہر کی، تاہم خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے جنگ کا راستہ اختیار کیا تو اسے مزید بڑے اسٹریٹیجک نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایران کے شہر سیریک میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، تاہم ان کی نوعیت اور وجہ فوری طور پر واضح نہیں تھی۔ایسے حالات میں عام طور پر سرمایہ کار محفوظ سمجھی جانے والی کرنسیوں کی طرف رجوع کر سکتے ہیں، جس سے امریکی ڈالر کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہوتا ہے۔

اس کے باوجود آسٹریلوی ڈالر کی حالیہ تیزی ظاہر کرتی ہے کہ اس وقت مرکزی بینک کی پالیسی اور شرح سود سے متعلق توقعات بھی کرنسی مارکیٹ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ تاہم، اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو خطرے سے بچنے کا رجحان دوبارہ آسٹریلوی ڈالر پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔

امریکی ڈالر اور Federal Reserve کی پالیسی

امریکہ میں اہم معاشی اعدادوشمار کی عدم موجودگی کے باعث سرمایہ کاروں کی توجہ آئندہ جاری ہونے والی رپورٹس پر مرکوز رہی۔ ابتدائی بے روزگاری الاؤنس کے دعوے اور یونیورسٹی آف مشی گن کے صارفین کے اعتماد سے متعلق اعدادوشمار امریکی معیشت کی صورتحال کے بارے میں مزید اشارے فراہم کر سکتے ہیں۔

اس کے ساتھ Federal Reserve کے آئندہ مانیٹری پالیسی اجلاس اور مرکزی بینک کے ترجیحی افراط زر کے پیمانے Core Personal Consumption Expenditures (PCE) Price Index کو بھی خاص اہمیت حاصل ہے۔

اگر امریکی افراط زر توقعات سے زیادہ رہتی ہے تو شرح سود میں کمی کے امکانات محدود ہو سکتے ہیں، جس سے امریکی ڈالر کو سہارا ملنے کا امکان ہے۔ اس کے برعکس، افراط زر میں نمایاں کمی امریکی مانیٹری پالیسی میں نرمی کی توقعات کو تقویت دے سکتی ہے۔ دونوں صورتوں میں AUDUSD کی سمت آسٹریلیا اور امریکہ کے درمیان شرح سود کے فرق اور معاشی امکانات سے متاثر ہو سکتی ہے۔

آسٹریلوی Flash PMI ڈیٹا اگلا اہم محرک

22 اکتوبر کو جاری ہونے والے آسٹریلیا کے S&P Global Flash PMI اعدادوشمار سرمایہ کاروں کے لیے اہم ہوں گے۔ یہ رپورٹس مینوفیکچرنگ اور خدمات کے شعبوں میں کاروباری سرگرمیوں، نئے آرڈرز اور معاشی رفتار کا ابتدائی اندازہ فراہم کرتی ہیں۔

اگر اعدادوشمار کاروباری سرگرمیوں میں مضبوطی اور معاشی طلب میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں تو آسٹریلوی ڈالر کو مزید حمایت مل سکتی ہے۔ اس کے ساتھ مضبوط معاشی سرگرمیاں اور برقرار رہنے والا افراط زر کا دباؤ RBA کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی توقعات کو مزید تقویت دے سکتے ہیں۔

تاہم، اگر PMI اعدادوشمار کمزور رہتے ہیں تو سرمایہ کار شرح سود میں اضافے کے امکانات پر دوبارہ غور کر سکتے ہیں۔ اس لیے کرنسی کی اگلی سمت صرف مرکزی بینک کے بیانات سے نہیں بلکہ معاشی اعدادوشمار اور عالمی خطرات کے مجموعی اثرات سے بھی متعین ہوگی۔

AUDUSD کا تکنیکی جائزہ

تکنیکی چارٹ پر AUDUSD کی قیمت 0.7024 سے 0.7027 کے علاقے میں دیکھی گئی، تاہم مختصر مدت کا رجحان ابھی مکمل طور پر تیزی میں تبدیل نہیں ہوا۔ قیمت تین اہم سمپل موونگ ایوریجز کے مجموعے، تقریباً 0.7077، سے نیچے ہے۔ اس کے علاوہ پہلے سپورٹ کے طور پر کام کرنے والی بڑھتی ہوئی ٹرینڈ لائنز اب 0.7086، 0.7087 اور 0.7111، 0.7118 کے زونز میں مزاحمت فراہم کر سکتی ہیں۔

ریلیٹیو اسٹرینتھ انڈیکس تقریباً 52.5 پر موجود ہے، جو قدرے مثبت مگر مجموعی طور پر غیر جانب دار رفتار کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خریداری کا دباؤ موجود ہے، تاہم ابھی اتنی مضبوطی نہیں کہ اہم مزاحمتی سطحوں کو باآسانی عبور کیا جا سکے۔

سپورٹ اور مزاحمتی سطحیں

AUDUSD کی اوپر کی جانب پہلی اہم مزاحمت 0.7077 پر ہے۔ اس سطح کے اوپر پائیدار پیش رفت کی صورت میں 0.7086,0.7087 اور پھر 0.7111,0.7118 کے علاقے اہم ہوں گے۔ اگر خریداری کا دباؤ برقرار رہتا ہے تو اس کے بعد 0.7198 کی سطح بھی زیرِ غور آ سکتی ہے۔

دوسری جانب، 0.7024 کے قریب موجودہ قیمت کا برقرار رہنا فوری طور پر اہم ہے۔ اس سطح سے نیچے دباؤ بڑھنے کی صورت میں 0.6946 کے قریب ٹرینڈ لائن سپورٹ پر توجہ مرکوز ہو سکتی ہے۔ طویل مدتی چارٹ پر 0.6246 کا حوالہ جاتی ٹرینڈ لائن پوائنٹ بھی موجود ہے، تاہم یہ موجودہ قیمت سے خاصا نیچے ہے اور اسے فوری ہدف کے بجائے طویل مدتی تکنیکی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

حاصل کلام

AUDUSD کی مسلسل چوتھے روز تیزی سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت RBA Rate Hike کی توقعات کرنسی مارکیٹ میں نمایاں اثر ڈال رہی ہیں۔ افراط زر کے بگڑتے ہوئے امکانات نے شرح سود میں اضافے کی بحث کو تقویت دی ہے، جبکہ عالمی سطح پر مثبت مارکیٹ رجحان نے بھی آسٹریلوی ڈالر کو سہارا دیا ہے۔

تاہم، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، امریکی ڈالر کی بحالی اور Federal Reserve کے آئندہ فیصلے اس تیزی کے لیے خطرات برقرار رکھتے ہیں۔ تکنیکی اعتبار سے 0.7077 کے اوپر مضبوط پیش رفت خریداروں کے لیے مزید گنجائش پیدا کر سکتی ہے، جبکہ 0.7024 سے نیچے کمزوری قیمت کو 0.6946 کے قریب سپورٹ کی طرف لے جا سکتی ہے۔

سرمایہ کاروں کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ صرف شرح سود میں اضافے کی توقعات پر انحصار کرنے کے بجائے آسٹریلوی PMI، امریکی افراط زر کے اعدادوشمار، مرکزی بینکوں کے بیانات اور جغرافیائی سیاسی صورتحال کو بھی مدنظر رکھیں۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا ریزرو بینک آف آسٹریلیا نومبر میں واقعی 25 بنیادی پوائنٹس تک شرح سود بڑھائے گا، یا مشرق وسطیٰ کا تنازع عالمی معیشت کو شدید متاثر کرے گا؟ نیچے کمنٹس سیکشن میں اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں!

انتباہ

Urdu Markets پر موجود تمام خبریں، تجزیے اور مارکیٹ انفارمیشن صرف معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی Trading Decision یا سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں اور ضرورت پڑنے پر معاشی ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں۔ مارکیٹ تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔

سورس (Source)

Reuters News Agency: https://www.reuters.com/markets/

⚠ تجزیہ ڈسکلیمر

یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔

📩 یہ مضمون پسند آیا؟

روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر

w T 𝕏
”
Robina Adeel

✍ تحریر کردہ · UrduMarkets

اردو مارکیٹس کے مصنف · مالیاتی مارکیٹ تجزیہ

متعلقہ مضامین

3 مضامین
💬

تبصرے

0 گفتگو

💭

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔

🛡 تمام تبصرے ماڈریٹر کی منظوری کے بعد شائع ہوتے ہیں

🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں