Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)
کرپٹو

بائنانس کا 6.3 بلین ڈالر ہیک کے بعد مرحلہ وار فنڈز تک رسائی کا آغاز

★اہم نکات

  • •Crypto Withdrawals کی مرحلہ وار بحالی شروع کر دی گئی ہے، جس میں Bitcoin سمیت بڑی کرپٹو کرنسیز کو ترجیح دی گئی ہے۔
  • •تقریباً 6.3 ارب ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے مبینہ سائبر حملے میں چوری ہوئے۔
  • •TRM Labs کے مطابق چوری ہونے والے اثاثوں میں 18,270 بٹ کوائن اور 200,630 ایتھر شامل تھے۔
  • •بائنانس نے متاثرہ اثاثوں کی مالیت کا تقریباً 95 فیصد اپنے مالی وسائل سے پورا کر دیا ہے۔
  • •ایکسچینج نے بڑی کرپٹو کرنسیز میں صارفین کے تمام متعلقہ بیلنس کو 100 فیصد اثاثوں سے محفوظ رکھنے کی تصدیق کی ہے۔
  • •تقریباً 3 ارب ڈالر مالیت کے چوری شدہ اثاثے منجمد کیے جا چکے ہیں۔
  • •بائنانس نے مکمل Proof Of Reserves رپورٹ جاری کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔
Robina Adeel
Robina Adeel ←

50 مشاہدات

بائننس ہیکنگ، بٹ کوائن، ڈیجیٹل اثاثوں اور کرپٹو Withdrawals کی بحالی کو ظاہر کرتی مالیاتی تصویر۔
بائننس نے 6.3 ارب ڈالر کے سائبر حملے کے بعد کرپٹو کرنسی کی Withdrawals دوبارہ بحال کر دیں۔

دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج Binance نے تاریخ کے سب سے بڑے سائبر حملوں میں سے ایک کے بعد صارفین کے لیے رقم نکلوانے کی سہولت مرحلہ وار بحال کرنا شروع کر دی ہے۔ تقریباً 6.3 ارب ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل اثاثوں کی چوری کے باعث ایکسچینج کو عارضی طور پر اپنی متعدد خدمات محدود کرنا پڑی تھیں، تاہم اب Bitcoin (BTC) سمیت بڑی کرپٹو کرنسیز کی واپسی کا عمل دوبارہ شروع ہو چکا ہے۔

اس پیش رفت کی اہمیت صرف اس لیے نہیں کہ صارفین دوبارہ اپنے اثاثوں تک رسائی حاصل

کر رہے ہیں، بلکہ اس لیے بھی ہے کہ اتنے بڑے سائبر حملے کے بعد ایکسچینج کو صارفین کا اعتماد بحال کرنے، اپنے مالی وسائل سے نقصان پورا کرنے اور ڈیجیٹل اثاثوں کی حفاظت کے حوالے سے اپنی صلاحیت ثابت کرنے کا چیلنج درپیش ہے۔ بائنانس کے مطابق صارفین کو چوری شدہ اثاثوں کا مالی نقصان برداشت نہیں کرنا پڑے گا، کیونکہ اس کی ذمہ داری ایکسچینج خود اٹھائے گی۔

Binance کی جانب سے Crypto Withdrawals کی مرحلہ وار بحالی

Binance نے اتوار یکم نومبر 2026 کو رقم نکلوانے کی سہولت بحال کرنے کے پہلے مرحلے کا آغاز کیا، جس کے تحت ابتدائی ونڈو پاکستانی وقت کے مطابق صبح 11 بجے سے دوپہر 2 بجے تک مقرر کی گئی تھی۔ اس کا مقصد صارفین کو اپنے ڈیجیٹل اثاثوں تک دوبارہ رسائی فراہم کرنا تھا، تاہم ایکسچینج نے مکمل خدمات فوری طور پر بحال کرنے کے بجائے محتاط حکمت عملی اختیار کی۔

ابتدائی مرحلے میں Bitcoin (BTC) کے ساتھ Ethereum (ETH)، Tether (USDT)، USD Coin (USDC)، BNB اور XRP کی رقم نکلوانے کی سہولت بھی بحال کی گئی۔ اس دوران ان بلاک چین نیٹ ورکس کو ترجیح دی گئی جن کے ذریعے صارفین کی جانب سے سب سے زیادہ درخواستیں موصول ہو رہی تھیں۔

Binance کے مطابق اگلے مراحل میں مزید نیٹ ورکس اور ڈیجیٹل اثاثوں کو شامل کیا جائے گا، لیکن ہر بلاک چین کی سیکیورٹی اور استحکام کی جانچ مکمل ہونے کے بعد ہی اس کی خدمات بحال ہوں گی۔ اس طریقہ کار کا بنیادی مقصد کسی ممکنہ نئے سیکیورٹی خطرے سے بچنا اور صارفین کے اثاثوں کی محفوظ منتقلی کو یقینی بنانا ہے۔

کرپٹو مارکیٹ کا سب سے بڑا سائبر حملہ

Binance کو جمعرات کی رات ایک بڑے سائبر حملے کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے نتیجے میں تقریباً $6.3 Billion مالیت کے کرپٹو اثاثے اس کے Hot Wallets سے چوری ہوئے۔ ہالت والٹس وہ آن لائن ڈیجیٹل والٹس ہوتے ہیں جنہیں ایکسچینج روزمرہ کی رقم کی منتقلی اور صارفین کی ادائیگیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

بلاک چین تجزیاتی ادارے TRM Labs کے مطابق حملے میں تقریباً 18,270 بٹ کوائن چوری ہوئے، جن کی مالیت تقریباً 1.47 ارب ڈالر بتائی گئی۔ اس کے علاوہ 200,630 Ethereum، 1.875 ارب USDT اور 823 ملین USDC بھی Ethereum نیٹ ورک سے حاصل کیے گئے۔ چوری شدہ اثاثوں میں 233.46 ملین XRP، 970,500 Solana (SOL) اور دیگر بلاک چین نیٹ ورکس سے حاصل کیے گئے اضافی USDT بھی شامل تھے۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ حملے کا دائرہ صرف ایک کرپٹو کرنسی یا بلاک چین تک محدود نہیں تھا، بلکہ مختلف ڈیجیٹل اثاثوں اور نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی وجہ سے Binance کو رقم نکلوانے کی سہولت بحال کرنے سے پہلے مختلف بلاک چینز کی الگ الگ سیکیورٹی جانچ کرنا پڑ رہی ہے۔

شمالی کوریا سے منسلک گروپ پر سائبر حملے کا الزام

بلاک چین تجزیاتی اداروں نے اس بڑے سائبر حملے کا تعلق TraderTraitor نامی گروپ سے جوڑا ہے، جسے شمالی کوریا سے منسلک قرار دیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے سامنے آنے والے تجزیوں کے مطابق حملہ آوروں نے مختلف ڈیجیٹل اثاثوں کو حاصل کرنے کے بعد انہیں متعدد والٹس میں منتقل کیا، جس سے چوری شدہ فنڈز کی نگرانی اور ممکنہ ریکوری کا عمل مزید پیچیدہ ہو گیا۔

کرپٹو مارکیٹ میں ایسے واقعات اس لیے بھی اہم ہیں کہ بلاک چین پر ہونے والی ٹرانزیکشنز عام طور پر ناقابل واپسی ہوتی ہیں۔ اس لیے کسی ایکسچینج کے سیکیورٹی نظام میں بڑی خامی سامنے آنے کے بعد نہ صرف صارفین کے اثاثوں بلکہ پورے ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی ساکھ پر سوالات اٹھتے ہیں۔

Binance نے 95 فیصد نقصان اپنے وسائل سے پورا کیا

اس واقعے کے بعد سب سے اہم سوال یہ تھا کہ کیا بائنانس اپنے صارفین کے چوری ہونے والے اثاثوں کا مکمل مالی متبادل فراہم کر سکے گا؟ ایکسچینج کے تازہ بیان کے مطابق اس نے متاثرہ اثاثوں کی مجموعی مالیت کا تقریباً 95 فیصد اپنے مالی وسائل سے پورا کر دیا ہے، جبکہ اس سے پہلے یہ تناسب 90 فیصد بتایا گیا تھا۔

اس عمل میں بائنانس کے اپنے مالی وسائل کے ساتھ اس کا Secure Asset Fund For Users (SAFU) بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک ہنگامی ریزرو فنڈ ہے جسے صارفین کے اثاثوں سے متعلق غیر معمولی واقعات اور ممکنہ نقصانات سے نمٹنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

بائنانس کے مطابق باقی 5 فیصد اثاثوں کی خریداری اور فراہمی میں زیادہ وقت لگ رہا ہے، کیونکہ ان میں زیادہ تر ایسی کرپٹو کرنسیز شامل ہیں جو مارکیٹ میں کم لیکویڈیٹی رکھتی ہیں اور جنہیں بڑی مقدار میں حاصل کرنا نسبتاً مشکل ہے۔ ایکسچینج ان باقی اثاثوں کی خریداری کے لیے عام مارکیٹ اور Over The Counter (OTC) چینلز استعمال کر رہا ہے۔

بڑی کرپٹو کرنسیز کےفنڈز محفوظ ہونے کا دعویٰ

بائنانس نے واضح کیا ہے کہ اس کے صارفین کے Bitcoin، Ethereum، USDT، BNB، Solana، USDC، XRP، USD1، RLUSD اور Zcash (ZEC) کے تمام متعلقہ بیلنس 100 فیصد اثاثوں سے محفوظ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایکسچینج کے مطابق ان کرپٹو کرنسیز میں صارفین کے واجب الادا بیلنس کے برابر اثاثے موجود ہیں۔ صارفین اس دعوے کی جانچ بائنانس کی ویب سائٹ پر دستیاب Proof Of Reserves (PoR) کے ذریعے کر سکتے ہیں۔

یہ رپورٹنگ کا ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے ایکسچینج اپنے پاس موجود ڈیجیٹل اثاثوں اور صارفین کے واجب الادا بیلنس کے درمیان مطابقت ظاہر کرتا ہے۔ تاہم، مکمل اعتماد کی بحالی کے لیے صرف اثاثوں کی موجودگی کا دعویٰ کافی نہیں ہوگا، بلکہ صارفین اور مارکیٹ کو شفاف مالیاتی رپورٹنگ، سیکیورٹی کے آزادانہ جائزے اور مسلسل نگرانی کے نتائج بھی درکار ہوں گے۔

تقریباً 3 ارب ڈالر کے چوری شدہ اثاثے منجمد

بائنانس کے مطابق سائبر حملے میں چوری ہونے والے تقریباً 3 ارب ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے منجمد کیے جا چکے ہیں۔ ان میں بڑی مقدار میں USDT اور USDC جیسے اسٹیبل کوائنز شامل ہیں۔

اس معاملے میں اسٹیبل کوائنز کی نوعیت اہم کردار ادا کرتی ہے، کیونکہ ان کے جاری کنندگان مخصوص حالات میں متعلقہ ٹوکنز کو منجمد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس Bitcoin اور Ethereum کو اسی انداز میں مرکزی سطح پر منجمد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ان کے نیٹ ورکس کا بنیادی نظام کسی ایک ادارے کے کنٹرول میں نہیں ہوتا۔

اس فرق کے باعث چوری شدہ اثاثوں کی مکمل ریکوری ایک پیچیدہ عمل بن سکتی ہے۔ اگرچہ منجمد کیے گئے 3 ارب ڈالر ایک بڑی پیش رفت ہیں، لیکن باقی رقم کی واپسی کے لیے مختلف بلاک چین نیٹ ورکس، متعلقہ اداروں اور ایکسچینجز کے درمیان تعاون ضروری ہوگا۔

Proof Of Reserves رپورٹ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی

Binance نے مکمل Proof Of Reserves رپورٹ جاری کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے، جس کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ ایکسچینج کے پاس صارفین کے واجب الادا ڈیجیٹل اثاثوں کے برابر یا اس سے زیادہ اثاثے موجود ہیں۔ کرپٹو ایکسچینجز کے لیے اس قسم کی رپورٹنگ خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ صارفین اپنے اثاثے ایکسچینج کے والٹس میں رکھتے ہیں اور انہیں یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ ان کے فنڈز کس حد تک محفوظ ہیں۔

موجودہ صورتحال میں Binance کے لیے یہ رپورٹ محض ایک معمول کی مالیاتی دستاویز نہیں ہوگی، بلکہ اس کے ذریعے ایکسچینج کو اپنی مالی پوزیشن، اثاثوں کی دستیابی اور سیکیورٹی کے انتظامات کے حوالے سے اعتماد بحال کرنے کا موقع ملے گا۔

کرپٹو مارکیٹ پر اثرات

بائنانس پر ہونے والا یہ حملہ عالمی کرپٹو مارکیٹ کے لیے ایک اہم امتحان بن گیا ہے۔ دنیا کے بڑے ایکسچینجز میں سے ایک کو اتنے بڑے نقصان کا سامنا ہونا اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ ڈیجیٹل اثاثوں کی مارکیٹ میں سیکیورٹی کا خطرہ اب بھی ایک بنیادی چیلنج ہے۔

اگرچہ بائنانس نے اپنے مالی وسائل سے زیادہ تر نقصان پورا کرنے اور رقم نکلوانے کی سہولت بحال کرنے کی پیش رفت کی ہے، لیکن صارفین کا اعتماد مکمل طور پر بحال ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔

اس واقعے سے دیگر کرپٹو ایکسچینجز کے لیے بھی یہ سبق سامنے آتا ہے کہ Hot Wallets کی سیکیورٹی، اثاثوں کی علیحدہ نگرانی، ہنگامی مالیاتی ذخائر اور شفاف Proof Of Reserves نظام کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہے۔

آنے والے دنوں میں Binance کی جانب سے باقی 5 فیصد متاثرہ اثاثوں کی فراہمی، مکمل رقم نکلوانے کی سہولت کی بحالی اور تفصیلی ریزرو رپورٹ کی اشاعت اہم پیش رفت ہوگی۔ یہی اقدامات طے کریں گے کہ ایکسچینج اس بڑے سائبر حملے کے بعد صارفین کا اعتماد کس حد تک دوبارہ حاصل کر پاتا ہے۔ اصل امتحان اب صرف چوری شدہ اثاثوں کا نقصان پورا کرنا نہیں، بلکہ یہ ثابت کرنا ہے کہ اتنے بڑے سیکیورٹی بحران کے بعد بھی صارفین کے ڈیجیٹل اثاثے محفوظ رکھے جا سکتے ہیں۔

آپ کا اس معاملے میں کیا خیال ہے؟ کیا آپ اپنے فنڈز ایکسچینج پر رکھتے ہیں یا ہارڈویئر والیٹ کو ترجیح دیتے ہیں؟ اپنے تجربات کمنٹس میں شیئر کریں۔

اظہار لاتعلقی

Urdu Markets پر موجود تمام خبریں، تجزیے اورمارکیٹ انفارمیشن صرف معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی Trading Decision یا سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں اور ضرورت پڑنے پر معاشی ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں۔ مارکیٹ تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔

اطلاعات کے ذرائع

یہ مضمون اردو مارکیٹس کے فراہم کردہ مواد، مصنفہ کی ذاتی تحقیق و تجزیے کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے۔ بائنانس کی طرف سے کئے گئے تمام اعلانات کی تصدیق ان کی آفیشل ویب سائٹ https://www.binance.com/en سے کی گئی ہے۔

⚠ تجزیہ ڈسکلیمر

یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔

📩 یہ مضمون پسند آیا؟

روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر

w T 𝕏
”
Robina Adeel

✍ تحریر کردہ · UrduMarkets

اردو مارکیٹس کے مصنف · مالیاتی مارکیٹ تجزیہ

متعلقہ مضامین

3 مضامین
💬

تبصرے

0 گفتگو

💭

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔

🛡 تمام تبصرے ماڈریٹر کی منظوری کے بعد شائع ہوتے ہیں

🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں