Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)
PSX اسٹاک

OGDCL اورMARI کی معاونت سے سندھ کے نئے کنویں سے گیس کی پیداوار کا آغاز

او جی ڈی سی ایل (OGDCL) اور ماری (MARI) کی معاونت سے سندھ میں لنڈالی-1 کنویں سے گیس کی پیداوار کا آغاز کر دیا گیا ہے

Adeel khalid
Adeel khalid

OGDCL  اور MARI  کے  اشتراک سے  گیس کی تلاش کے پروجیکٹس کی نمائندگی کرتی تصویر۔
OGDCL اور MARI کے اشتراک سے گیس کی تلاش کے پروجیکٹس کی نمائندگی کرتی تصویر۔

او جی ڈی سی ایل (OGDCL) اور ماری (MARI) کی معاونت سے سندھ میں لنڈالی-1 کنویں سے گیس کی پیداوار کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پاکستان کے توانائی کے شعبے میں ایک اہم اور خوش آئند پیش رفت کے تحت، سندھ میں واقع OGDCL MARI Lundali 1 Gas Production کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ اس پیشرفت کا اعلان پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں دوران ٹریڈ OGDCL کی طرف سے کیا گیا۔

سکھپور-II بلاک (Sukhpur-II Block) میں واقع اس تلاشی کنویں سے یومیہ 10 ملین معیاری مکعب فٹ (MMscfd) گیس قومی گرید اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (SSGC) کو فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ سنگ میل نہ صرف ملک میں مقامی گیس کی طلب اور رسد کے فرق کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ آئل اینڈ گیس سیکٹر کی کمپنیوں کے لیے بھی طویل المدتی سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھولے گا۔

اہم ترین نکات۔

  • پیداوار کا آغاز: سکھپور-II بلاک کے لنڈالی-1 (Lundali-1) کنویں سے 6 ستمبر 2026 کو پہلی گیس حاصل کر لی گئی ہے۔

  • یومیہ پیداوار اور دباؤ: یہ کنوین اس وقت روزانہ 10 ملین مکعب فٹ (MMscfd) گیس 2,000 پونڈ فی مربع انچ کے کنہیڈ پریشر پر پیدا کر رہا ہے۔

  • خریدار ادارہ: پیداوار کا تمام تر گیس کو سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (SSGC) کے سپلائی نیٹ ورک کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

  • حصص دار کمپنیاں: اس منصوبے میں آئل اینڈ گیس ڈ ویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (OGDCL) اور ماری انرجیز (MARI) دونوں کے پاس 30، 30 فیصد ورکنگ انٹرسٹ موجود ہے۔

لنڈالی-1 (Lundali-1) گیس پراجیکٹ کہاں واقع ہے؟

OGDCL MARI Lundali 1 Gas Production کا یہ منصوبہ سندھ کے کھرٹھار فولڈ بیلٹ بیسن (Kirthar Foldbelt Basin) میں واقع سکھپور بلاک میں لگایا گیا ہے، جسے اب باضابطہ طور پر سکھپور-II (Sukhpur-II) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ علاقہ کراچی سے تقریباً 270 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔ اس پراجیکٹ کا بنیادی مقصد مقامی سطح پر ہائیڈرو کاربن کے ذخائر کو تلاش کرنا اور ملکی صنعتوں اور گھریلو صارفین کو توانائی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا ہے۔

اس بلاک کا پیٹرولیم کنسیشن ایگریمنٹ (Petroleum Concession Agreement) اور ایکسپلوریشن لائسنس 2 دسمبر 2025 کو مؤثر ہوا تھا، جس کے بعد پرانے جائنٹ وینچر ارینجمنٹ کے تحت کھدائی جانے والی اس فیلڈ کو موجودہ شراکت داروں نے کامیابی کے ساتھ پیداواری مرحلے میں داخل کیا۔

اس منصوبے میں کون سے بڑے ادارے شامل ہیں؟

فنانشل مارکیٹس اور Energy Sector میں کسی بھی بڑے منصوبے کی کامیابی کا انحصار اس کے Consortium اور شراکت دار اداروں کی تکنیکی مہارت، مالی استعداد اور آپریشنل تجربے پر ہوتا ہے۔ سکھپور-II بلاک کے اس مشترکہ منصوبے (Joint Venture) میں پاکستان اور ترکی سے تعلق رکھنے والی چار اہم کمپنیاں شامل ہیں، جو مختلف حصص کے ساتھ منصوبے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔

آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (OGDCL) اس منصوبے کے اہم شراکت داروں میں شامل ہے اور اس کے پاس سکھپور-II بلاک میں 30 فیصد Working Interest ہے۔ او جی ڈی سی ایل پاکستان کی سب سے بڑی Exploration & Production Company ہے اور ملک کے تیل و گیس کے شعبے میں وسیع تجربہ رکھتی ہے۔ کمپنی کے پاس پاکستان کے کل ایکسپلوریشن رقبے کا 40 فیصد سے زائد حصہ بھی موجود ہے، جس کی وجہ سے یہ ملک کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔

ماری انرجیز (MARI) بھی اس مشترکہ منصوبے میں 30 فیصد Working Interest کے ساتھ شامل ہے۔ ماری انرجیز پاکستان کے توانائی کے شعبے کی ایک نمایاں کمپنی ہے اور ملک میں تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار کے حوالے سے وسیع تجربہ رکھتی ہے۔ اس کی شمولیت منصوبے کو تکنیکی اور آپریشنل اعتبار سے مزید مضبوط بناتی ہے۔

پرائم گلوبل انرجیز لمیٹڈ (Prime Global Energies Limited) اس بلاک کی Operator کمپنی ہے اور اس کے پاس 25 فیصد Working Interest موجود ہے۔ آپریٹر ہونے کی حیثیت سے کمپنی منصوبے کی ایکسپلوریشن اور دیگر آپریشنل سرگرمیوں میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے، جبکہ دیگر شراکت دار ادارے اپنے حصص کے مطابق منصوبے میں شریک ہیں۔

اس مشترکہ منصوبے میں ترکش پیٹرولیم اوورسیز کمپنی لمیٹڈ (Turkish Petroleum Overseas Company Limited) بھی شامل ہے، جس کے پاس 15 فیصد Working Interest ہے۔ ترکی سے تعلق رکھنے والی یہ کمپنی اپنے بین الاقوامی تجربے کے ذریعے منصوبے میں ایک اہم غیر ملکی شراکت دار کا کردار ادا کر رہی ہے۔ اس کی شمولیت پاکستان کے توانائی کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون اور سرمایہ کاری کے امکانات کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ۔

OGDCL MARI Lundali 1 Gas Production کا آغاز پاکستان کے تیل و گیس کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ روزانہ 10 ملین مکعب فٹ گیس کا قومی سپلائی میں شامل ہونا نہ صرف سوئی سدرن گیس کمپنی کے نظام کو تقویت دے گا بلکہ اس سے ملک کی انرجی سیکیورٹی بھی مستحکم ہوگی۔ طویل المدتی سرمایہ کاروں کے لیے یہ وقت اس بات کا متقاضی ہے کہ وہ انرجی سیکٹر کے بنیادی اصولوں اور پیداواری رپورٹس کا گہرائی سے مطالعہ کریں تاکہ مارکیٹس کے اگلے طویل مدتی رجحان سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔

آپ کا اس حوالے سے کیا خیال ہے؟ کیا آپ کے پورٹ فولیو میں آئل اینڈ گیس سیکٹر کے شیئرز شامل ہیں، اور آپ ان نئی پیش رفتوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ نیچے کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں۔

اہم وضاحت۔

Urdu Markets کی جانب سے فراہم کردہ تمام معلومات، تجزیے، اعداد و شمار، خبریں، Market Data اور دیگر مواد صرف معلوماتی اور تعلیمی مقاصد کے لیے پیش کیے جاتے ہیں۔ یہ مواد کسی بھی صورت میں مالیاتی، سرمایہ کاری یا Trading مشورہ تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔

قارئین کسی بھی Trading Decision، سرمایہ کاری یا دیگر مالیاتی فیصلے سے قبل اپنی تحقیق کریں اور ضرورت کے مطابق کسی مستند مالیاتی مشیر سے مشورہ حاصل کریں۔ Urdu Markets اپنی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کی بنیاد پر کیے گئے کسی بھی Trading Decision یا سرمایہ کاری کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ نقصان یا منافع کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔

⚠ تجزیہ ڈسکلیمر

یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔

📩 یہ مضمون پسند آیا؟

روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر

w T 𝕏

متعلقہ موضوعات

Adeel khalid

✍ تحریر کردہ · UrduMarkets

اردو مارکیٹس کے مصنف · مالیاتی مارکیٹ تجزیہ

متعلقہ مضامین

3 مضامین
💬

تبصرے

0 گفتگو

💭

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔

🛡 تمام تبصرے ماڈریٹر کی منظوری کے بعد شائع ہوتے ہیں

🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں