Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)
پاکستان معیشت

پاکستان میں مہنگائی 10.3 فیصد پر آگئی، بجلی اور ایندھن کے اخراجات میں تیز اضافہ

★اہم نکات

  • •ستمبر میں سالانہ مہنگائی 10.3 فیصد رہی، جو اگست کے مقابلے میں 0.8 فیصد پوائنٹ کم ہے۔
  • •ماہانہ قیمتیں 1.3 فیصد بڑھیں؛ اگست میں اضافہ 1.2 فیصد تھا۔
  • •شہری اور دیہی دونوں اشاریوں میں بجلی کے چارجز 15.28 فیصد بڑھے، جبکہ موٹر فیول کا اضافہ بالترتیب 10.76 اور 11.13 فیصد رہا۔
  • •ٹماٹر اور مرغی سستے ہوئے، لیکن قومی سطح پر خوراک اور مشروبات کا مجموعی اشاریہ ماہانہ 0.19 فیصد بڑھا۔
  • •خوراک اور توانائی کے بغیر بنیادی مہنگائی (Core Inflation) میں کمی آئی، تاہم توانائی کی بڑھتی لاگت شرح سود کے آئندہ فیصلوں کے لیے اہم رہے گی۔
Muhammad Azhar Saleem
Muhammad Azhar Saleem ←

Pakistan میں September 2026 inflation کم ہوکر 10.3 فیصد ہوگئی، لیکن مہنگی electricity اور motor fuel نے household budget پر دباؤ برقرار رکھا۔
Pakistan Inflation پر Energy Costs کا دباؤ

پاکستان میں مہنگائی 10.3 فیصد پر آگئی، بجلی اور ایندھن کے اخراجات میں تیز اضافہ

پاکستان میں ستمبر کے دوران سالانہ مہنگائی کی شرح کم ہوئی، لیکن ماہانہ بنیاد پر قیمتیں بڑھنے کی رفتار قدرے تیز رہی۔ کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) کے مطابق مہنگائی اگست کے 11.1 فیصد سے کم ہوکر 10.3 فیصد پر آگئی، جبکہ ماہانہ اضافہ 1.2 فیصد سے بڑھ کر 1.3 فیصد ہوگیا۔

گھریلو بجٹ کے لیے یہی فرق اہم ہے۔ سالانہ شرح میں کمی کے باوجود مجموعی قیمتیں نیچے نہیں آئیں۔ ٹماٹر اور مرغی جیسی بعض غذائی اشیا نے ریلیف دیا، مگر بجلی اور موٹر فیول کے بڑھتے اخراجات نے صارفین پر دباؤ برقرار رکھا۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (PBS) نے ستمبر کی ماہانہ مہنگائی رپورٹ یکم اکتوبر کو جاری کی۔

اہم اعداد ایک نظر میں

اشاریہ

ستمبر 2026

اگست 2026

قومی CPI، سالانہ تبدیلی

10.3%

11.1%

قومی CPI، ماہانہ تبدیلی

1.3%

1.2%

شہری CPI، سالانہ تبدیلی

10.1%

10.4%

دیہی CPI، سالانہ تبدیلی

10.5%

12.2%

شہری بنیادی مہنگائی، سالانہ

8.6%

8.8%

دیہی بنیادی مہنگائی، سالانہ

8.1%

8.5%

سالانہ مہنگائی کم ہوئی، قیمتیں نہیں

پاکستان میں مہنگائی کی تازہ تصویر سمجھنے کے لیے سالانہ اور ماہانہ تبدیلی کو الگ دیکھنا ضروری ہے۔ 10.3 فیصد سالانہ مہنگائی کا مطلب ہے کہ صارفین کی عمومی باسکٹ ستمبر 2025 کے مقابلے میں اب بھی مہنگی ہے۔ دوسری طرف، ماہانہ اضافہ بتاتا ہے کہ اگست کے مقابلے میں بھی اخراجات بڑھے ہیں۔

سالانہ شرح پچھلے سال کی تقابلی قیمتوں سے بھی متاثر ہوتی ہے، جسے بیس ایفیکٹ (Base Effect) کہتے ہیں۔ اسی لیے سالانہ مہنگائی کم ہونے اور ماہانہ قیمتیں بڑھنے میں کوئی تضاد نہیں۔

صارف کے لیے عملی سوال یہ ہے کہ آمدنی کے مقابلے میں راشن، بجلی اور سفر پر کتنا خرچ بڑھا۔ صرف سالانہ شرح میں کمی اس خرچ کے کم ہونے کی ضمانت نہیں۔

بجلی اور ایندھن نے دباؤ بڑھایا

PBS کی تفصیلی قیمتوں کی رپورٹ کے مطابق ستمبر میں بجلی کے چارجز شہری اور دیہی دونوں اشاریوں میں ماہانہ 15.28 فیصد بڑھے۔ موٹر فیول شہری سطح پر 10.76 فیصد اور دیہی سطح پر 11.13 فیصد مہنگا ہوا۔

یہ CPI میں درج قیمتوں کی تبدیلی ہے؛ ہر گھر کے بجلی بل میں لازماً اتنا ہی اضافہ نہیں ہوتا۔ اصل بل استعمال، صارف کی کیٹیگری اور متعلقہ چارجز سے مختلف ہوسکتا ہے۔

توانائی مہنگی ہونے کا اثر گھریلو بلوں سے آگے بھی جاسکتا ہے۔ کاروباروں کے لیے پیداوار، نقل و حمل اور سامان کی ترسیل کے اخراجات بڑھتے ہیں۔ تاہم یہ لاگت دوسری قیمتوں میں کتنی منتقل ہوگی، اس کا انحصار طلب، مقابلے اور کاروباروں کی قیمت بڑھانے کی گنجائش پر ہوگا۔

خوراک میں ریلیف یکساں نہیں رہا

سبزیوں اور مرغی میں کمی نے کچھ ریلیف دیا، مگر شہری اور دیہی نرخوں میں فرق نمایاں تھا۔

شے

شہری ماہانہ تبدیلی

دیہی ماہانہ تبدیلی

ٹماٹر

−24.67%

−27.87%

مرغی

−8.14%

−7.57%

پیاز

+29.17%

+39.38%

دیہی سطح پر پیاز ایک سال پہلے کے مقابلے میں بھی 136.70 فیصد مہنگا تھا۔ اس لیے چند اشیا میں تیز کمی کو پوری غذائی باسکٹ سستی ہونے کے برابر سمجھنا درست نہیں۔

قومی سطح پر خوراک اور غیر الکوحل مشروبات کا مجموعی اشاریہ ماہانہ 0.19 فیصد بڑھا۔ بعض اشیا کی کمی نے دباؤ محدود کیا، لیکن مجموعی غذائی اخراجات ختم نہیں ہوئے۔

اسی طرح قیمتوں میں ایک ماہ کی کمی سے زرعی پیداوار یا سپلائی میں مستقل بہتری ثابت نہیں ہوتی۔ اس کے لیے فصلوں، منڈیوں میں آمد اور آئندہ مہینوں کے نرخوں کو بھی دیکھنا ہوگا۔

بنیادی مہنگائی میں کمی کتنی اہم ہے؟

خوراک اور توانائی کو نکال کر ناپی جانے والی بنیادی مہنگائی (Non-Food Non-Energy Inflation) شہری سطح پر 8.8 فیصد سے کم ہوکر 8.6 فیصد اور دیہی سطح پر 8.5 فیصد سے 8.1 فیصد ہوگئی۔

یہ کمی بتاتی ہے کہ اس پیمانے پر قیمتوں کی سالانہ رفتار کچھ نرم ہوئی ہے۔ لیکن بنیادی مہنگائی صرف طلب کا خالص پیمانہ نہیں؛ اس میں شامل اشیا اور خدمات کی قیمتیں اجرت، کرایوں اور دوسری کاروباری لاگت سے بھی متاثر ہوتی ہیں۔

توانائی کے براہ راست اخراجات اس پیمانے سے خارج ہوتے ہیں، مگر ان کے بالواسطہ اثرات بعد میں دوسری اشیا اور خدمات تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بنیادی مہنگائی میں موجودہ کمی کے ساتھ اگلے چند ماہ کا تسلسل بھی اہم ہوگا۔

اسٹیٹ بینک کے لیے کیا مطلب نکلتا ہے؟

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے 14 ستمبر کے فیصلے میں پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھا تھا۔ ستمبر کی CPI رپورٹ شرح سود کے اگلے فیصلے کے لیے مختلف سمتوں کے اشارے دیتی ہے۔

سالانہ اور بنیادی مہنگائی میں کمی پالیسی سازوں کے لیے معاون پیش رفت ہے۔ اس کے مقابلے میں ماہانہ قیمتوں کی نسبتاً تیز رفتار اور بجلی و ایندھن کا اضافہ احتیاط کی وجہ بن سکتے ہیں۔

اس رپورٹ سے فوری شرح سود کٹوتی یا اضافے کا حتمی نتیجہ نہیں نکلتا۔ مہنگائی اور شرح سود کے تعلق میں مرکزی بینک کو آئندہ قیمتوں کے امکانات، معاشی سرگرمی، روپے کی قدر اور بیرونی کھاتے بھی دیکھنے ہوتے ہیں۔

خاص طور پر یہ جانچ اہم ہوگی کہ توانائی کا اضافہ محدود رہتا ہے یا دوسری قیمتوں اور مہنگائی کی توقعات پر مسلسل اثر ڈالنے لگتا ہے۔

آئندہ کن اشاروں پر نظر رہے گی؟

اگلی رپورٹوں میں بجلی اور ایندھن کے نرخوں کے ساتھ خوراک میں ملنے والے ریلیف کا تسلسل اہم ہوگا۔ ٹماٹر اور مرغی کی قیمتیں دوبارہ بڑھیں تو موجودہ ریلیف کم ہوسکتا ہے؛ توانائی کی لاگت نرم پڑنے سے مجموعی دباؤ میں کمی آسکتی ہے۔

بنیادی مہنگائی اور ماہانہ CPI بھی توجہ میں رہیں گے۔ سالانہ شرح میں مزید کمی زیادہ اطمینان بخش تب ہوگی جب ماہانہ قیمتوں کی رفتار بھی مسلسل نرم ہو۔

ستمبر میں صارفین کو بعض غذائی اشیا سے ریلیف ملا، لیکن بڑھتے بجلی اور ایندھن کے اخراجات نے گھریلو بجٹ پر اس کا فائدہ محدود رکھا۔


اشاعت اور SEO

  • Meta Title: Pakistan CPI: ستمبر میں مہنگائی 10.3%، توانائی کا دباؤ

  • Meta Description: پاکستان میں ستمبر کی CPI مہنگائی 10.3 فیصد رہی، مگر ماہانہ قیمتیں 1.3 فیصد بڑھیں۔ بجلی، ایندھن، خوراک اور SBP کی شرح سود پر اثرات جانیے۔

  • Focus Keyphrase: Pakistan CPI inflation

  • English Slug: pakistan-cpi-inflation-september-2026

  • Category: پاکستان معیشت

  • موجودہ متعلقہ Tags: Pakistan inflation، Inflation

  • New Tag Add: ضروری نہیں۔

  • Image Alt Text: پاکستان میں ستمبر 2026 کی مہنگائی، بجلی اور ایندھن کے اخراجات میں اضافہ

  • اشاعت نوٹ: ویب سائٹ پر ستمبر CPI کی خبر پہلے سے موجود دکھائی دے رہی ہے؛ اس تفصیلی ورژن سے موجودہ مضمون اپ ڈیٹ کریں اور اس کا URL برقرار رکھیں۔

تصدیق: جائزہ 2 اکتوبر 2026، دوپہر 12:03 پاکستانی وقت پر کیا گیا۔ اعداد ستمبر کی ماہانہ رپورٹ کے ہیں؛ انہیں آج کی نئی ریلیز نہیں کہا گیا۔ PBS سے شہری و دیہی تفصیل اور بنیادی مہنگائی، جبکہ SBP سے تازہ پالیسی ریٹ کی تصدیق کی گئی۔ pbs.gov.pk

⚠ تجزیہ ڈسکلیمر

یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔

📩 یہ مضمون پسند آیا؟

روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر

w T 𝕏
”
Muhammad Azhar Saleem

✍ تحریر کردہ · UrduMarkets

اردو مارکیٹس کے مصنف · مالیاتی مارکیٹ تجزیہ

محمد اظہر سلیم UrduMarkets کے بانی، مالیاتی منڈیوں کے تجربہ کار تجزیہ کار اور مارکیٹ سائیکالوجی ریسرچر ہیں۔ ان کا کیریئر تقریباً تین دہائیوں پر محیط ہے، جس کا آغاز انہوں نے امریکی ایکسچینجز سے منسلک بروکرز کے ریجنل نمائندے کے طور پر کیا۔ ان کی بنیادی مہارت technical analysis، fundamental analysis، intermarket relati...

متعلقہ مضامین

3 مضامین
💬

تبصرے

0 گفتگو

💭

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔

🛡 تمام تبصرے ماڈریٹر کی منظوری کے بعد شائع ہوتے ہیں

🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں