پاکستان میں سونا (Gold/Tola Rate) 6,900 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 460,336 روپے ہوگئی
★اہم نکات
- •پاکستان میں جمعہ، 18 ستمبر کو 24 قیراط سونا 6,900 روپے بڑھ کر 460,336 روپے فی تولہ ہوگیا؛ گزشتہ روز قیمت 453,436 روپے تھی اور اس میں 3,800 روپے کمی ہوئی تھی۔
- •دس گرام سونا 5,914 روپے اضافے سے 394,663 روپے ہوگیا، جبکہ 22 قیراط کے دس گرام نرخ 361,787 روپے رہے؛ زیورات کی اجرت ان نرخوں سے الگ ہوسکتی ہے۔
- •جمعہ کی تیزی نے جمعرات کی پوری کمی واپس لے لی؛ بدھ کی 457,236 روپے قیمت کے مقابلے میں دو سیشنز کا خالص اضافہ 3,100 روپے فی تولہ بنتا ہے۔
- •عالمی اسپاٹ سونا جمعہ کو مضبوط ہوا اور ایک ہفتے کی بلند سطح تک پہنچا؛ مختلف اوقات کی عالمی قیمتوں کو مقامی صرافہ نرخ کا یکساں حوالہ سمجھنا درست نہیں۔
- •انٹربینک ڈالر 277.26 سے معمولی کم ہو کر 277.25 روپے رہا، اس لیے مقامی تیزی روپے کی بڑی کمزوری کا نتیجہ نہیں؛ چاندی بھی 300 روپے بڑھ کر 7,169 روپے فی تولہ ہوگئی۔
پاکستان میں سونے کی قیمت (Gold/Tola Rate) جمعہ، 18 ستمبر 2026 کو گزشتہ روز کی پوری کمی واپس لیتے ہوئے مزید بلند ہوگئی۔ 24 قیراط سونا 6,900 روپے اضافے سے 460,336 روپے فی تولہ پر پہنچ گیا۔ جمعرات کو قیمت 3,800 روپے گری تھی، اس لیے دونوں سیشنز کا خالص نتیجہ 3,100 روپے فی تولہ اضافہ رہا۔ عالمی سونے میں مضبوطی کے دوران مقامی نرخ بڑھے، جبکہ انٹربینک میں روپیہ تقریباً مستحکم رہا۔ مقامی صرافہ نرخ، گزشتہ روز کا تقابل
سونے، چاندی اور ڈالر کے نرخ ایک نظر میں
اثاثہ اور اکائی | 18 ستمبر | 17 ستمبر | روزانہ تبدیلی |
|---|---|---|---|
24 قیراط سونا، فی تولہ | 460,336 روپے | 453,436 روپے | 6,900 روپے اضافہ |
24 قیراط سونا، دس گرام | 394,663 روپے | 388,749 روپے | 5,914 روپے اضافہ |
22 قیراط سونا، دس گرام | 361,787 روپے | 356,364 روپے | 5,423 روپے اضافہ |
چاندی، فی تولہ | 7,169 روپے | 6,869 روپے | 300 روپے اضافہ |
چاندی، دس گرام | 6,146 روپے | 5,889 روپے | 257 روپے اضافہ |
انٹربینک USD/PKR، اختتامی نرخ | 277.25 روپے | 277.26 روپے | ڈالر تقریباً ایک پیسہ سستا |
دھاتوں کے نرخ صرافہ ایسوسی ایشن سے منسوب شائع شدہ اعداد ہیں۔ ڈالر کی قیمت دو اعشاری مقامات تک دی گئی ہے۔ جمعہ کے نرخ، جمعرات کے نرخ، انٹربینک کلوز
جمعہ کی واپسی کتنی بڑی تھی؟
آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز صرافہ ایسوسی ایشن (APGJSA) سے منسوب نرخوں کے مطابق، فی تولہ سونے میں روزانہ اضافہ تقریباً 1.52 فیصد بنتا ہے۔ دس گرام اور 22 قیراط سونے کے نرخوں میں بھی اسی سمت تبدیلی آئی۔
گزشتہ دو سیشنز کا تقابل اس حرکت کو زیادہ واضح کرتا ہے۔ بدھ کو فی تولہ قیمت 457,236 روپے تھی، جو جمعرات کو کم ہو کر 453,436 روپے رہ گئی۔ جمعہ کی تیزی اسے بدھ کے نرخ سے بھی 3,100 روپے اوپر لے گئی۔ یوں جمعرات کی کمی پوری ہونے کے بعد تقریباً 0.68 فیصد خالص اضافہ باقی رہا۔ گزشتہ سیشنز کے اعداد
یہ مضبوط بحالی ضرور ہے، مگر دو دن میں مخالف سمت کی بڑی تبدیلیاں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو بھی نمایاں کرتی ہیں۔ صرف جمعہ کے اضافے سے مسلسل تیزی کا نتیجہ اخذ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
عالمی سونے کی کون سی قیمت متعلقہ ہے؟
جمعہ کی مقامی رپورٹ میں عالمی اسپاٹ سونا (Spot Gold) تقریباً 4,365 ڈالر فی ٹرائے اونس کے قریب بتایا گیا۔ بعد کی عالمی رپورٹ میں پاکستانی وقت کے مطابق شام 4:41 بجے قیمت 4,378.97 ڈالر تھی، جو گزشتہ سیشن کے مقابلے میں تقریباً 0.9 فیصد زیادہ تھی۔ عالمی سونا ایک ہفتے کی بلند سطح تک بھی پہنچا۔ مقامی رپورٹ کا عالمی حوالہ، وقت کے ساتھ عالمی اسپاٹ نرخ
یہ مختلف اوقات کے نرخ ہیں۔ انہیں ایک ہی لمحے کی قیمت یا جمعہ کی مکمل بلند و کم سطح کی حد سمجھنا درست نہیں۔ اسی طرح عالمی اسپاٹ قیمت، فیوچرز قیمت اور صرافہ نرخ کے ساتھ دیا گیا بین الاقوامی حوالہ الگ شناخت کے ساتھ پیش ہونا چاہیے۔
مقامی نرخ جاری ہونے کے بعد بھی عالمی تجارت جاری رہتی ہے، اس لیے بعد کی عالمی حرکت لازماً پہلے سے جاری پاکستانی نرخ میں شامل نہیں ہوتی۔
تیل اور شرح سود کے باوجود سونا کیوں بڑھا؟
جمعہ کی عالمی تجارت میں تیل کی قیمتوں میں کمی نے سونے کو سہارا دیا۔ مارکیٹ میں یہ امید بھی موجود تھی کہ توانائی کی مہنگائی میں نرمی امریکی شرح سود میں مزید اضافوں کی ضرورت محدود کرسکتی ہے۔ اس کے باوجود فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کی حالیہ سخت پالیسی سونے کے لیے مخالف عامل رہی۔ عالمی منڈی کا جائزہ
بانڈ منافع (Bond Yields) میں بلند سطحوں سے واپسی اور ڈالر کی کمزوری کو بھی جمعہ کی ابتدائی عالمی رپورٹ میں معاون عوامل قرار دیا گیا۔ ڈالر اور بانڈ منافع کا پس منظر
معاشی طور پر یہاں دو قوتیں بیک وقت کام کرتی ہیں۔ سونا سود نہیں دیتا، اس لیے زیادہ شرح سود رکھنے والے اثاثے اس کے مقابل زیادہ پُرکشش ہوسکتے ہیں۔ دوسری طرف، اگر توانائی کی قیمتوں میں کمی مستقبل کی سخت پالیسی کے خدشات کم کرے تو سونے پر دباؤ بھی ہلکا ہوسکتا ہے۔ اس تعلق کو ہر سیشن میں یکساں نتیجہ دینے والا اصول نہیں سمجھنا چاہیے۔
کیا روپے کی کمزوری نے مقامی سونا مہنگا کیا؟
جمعہ کے اعداد اس تشریح کی تائید نہیں کرتے۔ انٹربینک میں امریکی ڈالر 277.25 روپے پر بند ہوا، جبکہ گزشتہ کلوز 277.26 روپے تھا۔ روپیہ معمولی مضبوط ہوا اور مجموعی طور پر مستحکم رہا۔ انٹربینک مارکیٹ رپورٹ
اس لیے فی تولہ سونے میں 6,900 روپے کے اضافے کو روپے کی نمایاں روزانہ گراوٹ سے منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ دستیاب اعداد میں عالمی سونے کی مضبوطی زیادہ نمایاں پس منظر ہے، تاہم مقامی اضافے کا پورا حساب کسی ایک عامل کے نام کرنا بھی درست نہیں ہوگا۔
عالمی سونے، شرح مبادلہ اور وزن کی تبدیلی سے پاکستانی روپے میں ایک تقابلی قیمت نکالی جاسکتی ہے۔ لیکن اسے صرافہ ایسوسی ایشن کا جاری کردہ نرخ نہیں کہا جاسکتا، کیونکہ وقت، استعمال شدہ شرح مبادلہ اور مقامی پریمیم یا ڈسکاؤنٹ کے باعث فرق ہوسکتا ہے۔
چاندی میں اضافہ کیا بتاتا ہے؟
چاندی بھی جمعہ کو 300 روپے بڑھ کر 7,169 روپے فی تولہ ہوگئی۔ دس گرام قیمت 257 روپے اضافے سے 6,146 روپے رہی۔ فی تولہ چاندی کا روزانہ اضافہ تقریباً 4.37 فیصد بنتا ہے، جو تناسب کے لحاظ سے سونے کے اضافے سے زیادہ ہے۔ چاندی کے شائع شدہ نرخ
دونوں دھاتوں کی مضبوطی سے واضح ہے کہ مقامی قیمتوں میں اضافہ صرف سونے تک محدود نہیں رہا۔ تاہم چاندی کی اپنی طلب، رسد اور صنعتی استعمال بھی اہم ہوتے ہیں؛ سونے کے ساتھ ایک دن بڑھنے کا مطلب دونوں کی آئندہ رفتار یکساں ہونا نہیں۔
زیورات خریدنے والے صارف کے لیے کون سا نرخ اہم ہے؟
صرافہ ایسوسی ایشن کا نرخ بنیادی دھاتی قیمت کا حوالہ فراہم کرتا ہے۔ زیورات کی حتمی قیمت میں خالصیت، خالص سونے کا وزن، بنوائی کی اجرت، نگینوں کی قیمت اور دیگر قابلِ اطلاق اخراجات الگ ہوسکتے ہیں۔
اسی لیے 24 قیراط فی تولہ نرخ کو ہر زیور کی تیار شدہ قیمت نہیں سمجھنا چاہیے۔ خریدار کے لیے بل میں دھات کی خالصیت، وزن اور اجرت الگ درج ہونا زیادہ مفید ہے۔ دوبارہ فروخت کی صورت میں خرید و فروخت کے نرخ کا فرق اور ممکنہ کٹوتیاں بھی حاصل ہونے والی رقم کو متاثر کرسکتی ہیں۔
اگلے سیشن میں کن عوامل پر نظر رہے گی؟
عالمی سونے کی موجودہ مضبوطی برقرار رہتی ہے یا نہیں، یہ اگلے مقامی نرخ کے لیے اہم ہوگا۔ اس کے ساتھ USD/PKR، امریکی ڈالر، بانڈ منافع اور مرکزی بینکوں کی پالیسی توقعات بھی زیرِ نظر رہیں گی۔
مشرق وسطیٰ کی صورت حال دو راستوں سے اثر ڈال سکتی ہے: غیر یقینی بڑھنے سے محفوظ اثاثوں کی طلب پیدا ہوسکتی ہے، جبکہ مہنگا تیل افراط زر اور بلند شرح سود کے خدشات بڑھا سکتا ہے۔ اسی لیے جغرافیائی کشیدگی کو سونے کی یقینی تیزی کے مترادف سمجھنا درست نہیں۔
جمعہ کی بحالی نے گزشتہ روز کی کمی سے زیادہ قیمت واپس حاصل کی ہے۔ اگلا صرافہ نرخ یہ دکھائے گا کہ عالمی منڈی کی مضبوطی مقامی قیمت میں کس حد تک برقرار رہتی ہے۔
⚠ تجزیہ ڈسکلیمر
یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔📩 یہ مضمون پسند آیا؟
روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر
متعلقہ موضوعات
متعلقہ مضامین
3 مضامینتبصرے
0 گفتگو
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔