Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)
PSX اسٹاک

PSX میں دن کا منفی آغاز، مشرق وسطی کے حالات اور عالمی اسٹاکس پر دباؤ کے اثرات

★اہم نکات

  • •KSE100 انڈیکس جمعہ کو ابتدائی کاروبار میں 236.26 پوائنٹس یا 0.14 فیصد گر کر 166,957.17 پوائنٹس پر آگیا۔
  • •بینکنگ، سیمنٹ، آٹوموبائل، فرٹیلائزر اور توانائی کے شعبوں میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا۔
  • •HUBCO، MARI، PPL، MCB، MEBL، NBP اور UBL سمیت انڈیکس پر اثرانداز ہونے والے اہم شیئرز منفی زون میں رہے۔
  • •وزارت خزانہ نے اکتوبر 2026 کے لیے افراط زر کی شرح 9.5 سے 10.5 فیصد کے درمیان رہنے کا تخمینہ ظاہر کیا۔
  • •گزشتہ سیشن میں مشرق وسطیٰ میں ممکنہ امن مذاکرات کی امید پر KSE100 انڈیکس 1,456.68 پوائنٹس بڑھ کر 167,193.44 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
  • •عالمی مارکیٹس میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے شیئرز کی گراوٹ، مصنوعی ذہانت پر بڑھتے اخراجات اور کرپٹو مارکیٹ میں سیکیورٹی خدشات نے سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی کو مزید تقویت دی۔
Adeel khalid
Adeel khalid ←

71 مشاہدات

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت کی تصویر، جس میں کے ایس ای 100 انڈیکس بھی دکھایا گیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت کی تصویر، جس میں کے ایس ای 100 انڈیکس بھی دکھایا گیا ہے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج PSX میں جمعہ کے کاروباری سیشن کے آغاز پر فروخت کا دباؤ دوبارہ نمایاں ہوگیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک KSE100 انڈیکس ابتدائی لمحات میں 200 پوائنٹس سے زیادہ نیچے آگیا۔ مقامی سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی، اکتوبر میں افراط زر کے خدشات اور عالمی اسٹاک مارکیٹس میں ٹیکنالوجی شیئرز کی گراوٹ نے مارکیٹ کے مجموعی رجحان کو متاثر کیا۔

صبح 9 بج کر 50 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 236.26 پوائنٹس یا 0.14 فیصد کمی کے ساتھ 166,957.17 پوائنٹس پر ٹریڈ کررہا تھا۔ فروخت کا دباؤ صرف چند کمپنیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ آٹوموبائل، سیمنٹ، کمرشل بینکنگ، فرٹیلائزر، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سمیت اہم شعبوں میں بھی مندی دیکھی گئی۔

PSX میں بینکنگ اور توانائی کے شیئرز دباؤ میں

ابتدائی سیشن میں فروخت کا نمایاں رجحان ان کمپنیوں میں دیکھا گیا جن کا KSE-100 Index میں زیادہ وزن ہے۔ HUBCO، MARI، PPL، MCB، MEBL، NBP اور UBL کے شیئرز منفی زون میں ٹریڈ کرتے رہے، جس سے مجموعی انڈیکس کی کارکردگی متاثر ہوئی۔

بینکنگ سیکٹر میں فروخت کے ساتھ آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن، سیمنٹ اور فرٹیلائزر کمپنیوں میں بھی سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کیا۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں خریداری کا رجحان ابھی مکمل طور پر مستحکم نہیں ہوا اور سرمایہ کار مختلف معاشی اور عالمی عوامل کا جائزہ لے رہے ہیں۔

اکتوبر میں افراط زر 10.5 فیصد تک رہنے کا امکان

پاکستان کی وزارت خزانہ کے مطابق اکتوبر 2026 میں افراط زر کی شرح 9.5 سے 10.5 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ توانائی اور غذائی اشیاء کی بلند قیمتیں اس تخمینے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں، جبکہ عالمی مارکیٹس میں قیمتوں کے رجحانات بھی مقامی معیشت پر اثرانداز ہورہے ہیں۔

افراط زر کی بلند شرح کا امکان سرمایہ کاروں کے لیے اہم ہے کیونکہ اس سے اسٹیٹ بینک کی آئندہ مانیٹری پالیسی، شرح سود اور کاروباری لاگت کے بارے میں توقعات متاثر ہوسکتی ہیں۔ اگر قیمتوں کا دباؤ برقرار رہتا ہے تو قرضوں پر انحصار کرنے والی کمپنیوں، صنعتی شعبوں اور صارفین کی قوت خرید کے لیے مزید مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار صرف کمپنیوں کے معاشی نتائج کے بجائے معاشی اشاریوں اور مستقبل کی پالیسی سمت کو بھی اپنی سرمایہ کاری کے فیصلوں میں اہمیت دے رہے ہیں۔

گزشتہ روز کی بحالی اور امن مذاکرات سے توقعات

جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں بحالی دیکھی گئی تھی اور KSE100 انڈیکس مجموعی طور پر 1,456.68 پوائنٹس یا 0.88 فیصد اضافے کے ساتھ 167,193.44 پوائنٹس پر بند ہوا۔

اس تیزی کے پیچھے مشرق وسطیٰ میں ممکنہ امن مذاکرات سے وابستہ امیدیں اہم عنصر تھیں۔ تاہم امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے لیے مجوزہ معاہدے کو ایک ایرانی عہدیدار کی جانب سے مسترد کیے جانے کی اطلاعات نے غیر یقینی صورتحال برقرار رکھی۔

مشرق وسطیٰ کی صورتحال پاکستان کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ خطے میں کشیدگی عالمی توانائی کی قیمتوں، درآمدی بل، زرمبادلہ کے ذخائر اور مقامی افراط زر پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔ چنانچہ عالمی سیاسی حالات میں کسی بھی بڑی تبدیلی کا اثر PSX میں سرمایہ کاروں کے اعتماد پر بھی پڑ سکتا ہے۔

عالمی اسٹاک مارکیٹس میں ٹیکنالوجی شیئرز کی بڑی گراوٹ

PSX کے لیے بین الاقوامی ماحول بھی زیادہ حوصلہ افزا نہیں رہا۔ جمعہ کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے شیئرز دباؤ میں آگئے، جبکہ سرمایہ کاروں نے محفوظ سرمایہ کاری کے ذرائع کی جانب رخ کیا۔ اس تبدیلی کی بڑی وجہ مصنوعی ذہانت پر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بھاری اخراجات اور ان سرمایہ کاریوں سے متوقع منافع کے بارے میں بڑھتے خدشات تھے۔

امریکی مارکیٹ میں Alphabet کے شیئرز تقریباً 12.6 فیصد گر گئے، جس سے کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں تقریباً 500 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔ کمپنی کے مصنوعی ذہانت سے متعلق بڑھتے اخراجات نے اس کے نقد مالی بہاؤ پر دباؤ بڑھایا، جس کے بعد سرمایہ کاروں نے مستقبل کے منافع اور سرمایہ کاری کی افادیت پر سوالات اٹھائے۔

اسی طرح Intel کے شیئرز میں مارکیٹ کے بعد ہونے والی ٹریڈنگ کے دوران تقریباً 23 فیصد جبکہ Amazon کے شیئرز میں 7 فیصد کمی نے امریکی ٹیکنالوجی مارکیٹ کے خدشات میں اضافہ کیا۔ اس صورتحال کے باعث Nasdaq 100 Futures بھی 1.4 فیصد نیچے آگئے۔

جنوبی کوریا اور جاپان کی مارکیٹس میں بھی شدید مندی

عالمی سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی کا اثر ایشیا کی بڑی اسٹاک مارکیٹس پر بھی نمایاں ہوا۔ جنوبی کوریا کا KOSPI Index تقریباً 5 فیصد گر گیا، جبکہ اکتوبر کے دوران اس کی مجموعی کمی 17 فیصد سے تجاوز کرگئی۔ جاپان کا Nikkei Index بھی 3 فیصد نیچے آگیا۔

چین میں CSI300 Index بھی نمایاں دباؤ کا شکار رہا اور ایک دہائی میں اپنی سب سے بڑی ماہانہ گراوٹ کی جانب بڑھتا دکھائی دیا۔ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مستقبل، چپ ساز کمپنیوں کی طلب اور ڈیٹا سینٹرز کے لیے آلات کی فروخت میں ممکنہ سست روی نے چینی ٹیکنالوجی شیئرز کے لیے مشکلات پیدا کیں۔

اس رجحان سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی مارکیٹس میں مصنوعی ذہانت سے وابستہ کمپنیوں کی بلند مالیت اور ان کے بھاری سرمایہ جاتی اخراجات کے درمیان توازن پر سرمایہ کار دوبارہ غور کررہے ہیں۔

Binance کےسیکیورٹی خدشات سے کرپٹو مارکیٹ بھی متاثر

عالمی مالیاتی مارکیٹس میں بے یقینی کی ایک اور وجہ دنیا کی بڑی کرپٹو ایکسچینج Binance سے متعلق ممکنہ بڑے سائبر حملے کی اطلاعات بھی رہیں۔ اس واقعے نے بٹ کوائن سمیت دیگر کرپٹو کرنسیز پر دباؤ بڑھایا، جبکہ حریف ایکسچینج Coinbase کے شیئرز بھی متاثر ہوئے۔

کرپٹو مارکیٹ میں سیکیورٹی خدشات ایسے وقت میں سامنے آئے جب عالمی سرمایہ کار پہلے ہی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے معاشی نتائج اور مصنوعی ذہانت پر ہونے والے اخراجات کے بارے میں محتاط تھے۔ اس طرح مختلف مالیاتی شعبوں میں ایک ساتھ پیدا ہونے والے خدشات نے مجموعی سرمایہ کاری کے ماحول کو متاثر کیا۔

مستقبل کا منظرنامہ

PSX کی آئندہ سمت کا انحصار مقامی معاشی اشاریوں، اکتوبر کے افراط زر کے اعدادوشمار، کمپنیوں کے مالی نتائج اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر ہوگا۔ گزشتہ سیشن کی نمایاں تیزی کے باوجود جمعہ کو دوبارہ فروخت کا سامنے آنا ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ میں سرمایہ کار ابھی محتاط ہیں۔

اگر عالمی مارکیٹس میں استحکام آتا ہے اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کے آثار پیدا ہوتے ہیں تو PSX میں خریداری کا رجحان دوبارہ مضبوط ہوسکتا ہے۔ تاہم توانائی کی بلند قیمتیں، افراط زر کے خدشات اور عالمی ٹیکنالوجی شیئرز میں مسلسل گراوٹ مقامی مارکیٹ کے لیے دباؤ برقرار رکھ سکتی ہے۔

فی الحال سرمایہ کاروں کی توجہ اس بات پر مرکوز رہے گی کہ KSE100 Index گزشتہ سیشن کی حاصل کردہ تیزی کو برقرار رکھ پاتا ہے یا عالمی اور مقامی غیر یقینی صورتحال کے باعث فروخت کا دباؤ مزید بڑھتا ہے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کے خیال میں PSX رواں ہفتے بحالی کی طرف گامزن ہوگی یا عالمی مارکیٹس کا دباؤ برقرار رہے گا؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں!

اہم وضاحت

Urdu Markets پر موجود تمام خبریں، تجزیے اور مارکیٹ انفارمیشن صرف معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی Trading Decision یا سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں اور ضرورت پڑنے پر معاشی ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں۔ مارکیٹ تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔

سورس (Source)

Pakistan Stock Market News, PSX Business News & Updates | Investify

⚠ تجزیہ ڈسکلیمر

یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔

📩 یہ مضمون پسند آیا؟

روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر

w T 𝕏
”
Adeel khalid

✍ تحریر کردہ · UrduMarkets

اردو مارکیٹس کے مصنف · مالیاتی مارکیٹ تجزیہ

متعلقہ مضامین

3 مضامین
💬

تبصرے

0 گفتگو

💭

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔

🛡 تمام تبصرے ماڈریٹر کی منظوری کے بعد شائع ہوتے ہیں

🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں