Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)
فاریکس

شرحِ سود کے فرق اور ایران کشیدگی کے بیچ ڈالر، ین پر حاوی؛ USDJPY کی نظریں 160 پر

اہم نکات

  • USDJPY کی یہ جوڑی 160.00 کی اہم نفسیاتی سطح کے قریب ٹریڈ کر رہی ہے، جو Japanese Yen پر موجود دباؤ کو ظاہر کرتی ہے۔
  • امریکہ اور جاپان کے درمیان شرح سود کا فرق تقریباً 250 سے 275 Basis Points کے قریب ہے، جو Carry Trade کو سپورٹ کر رہا ہے۔
  • Bank Of Japan (BoJ) کی جانب سے مستقبل میں مزید شرح سود بڑھانے کی توقعات کے باوجود ین پر دباؤ برقرار ہے۔
  • امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے Safe Haven Demand میں اضافہ کیا ہے، جس سے US Dollar کو اضافی سہارا ملا ہے۔
  • تکنیکی اعتبار سے 160.34، 160.64 اور 162.10 اہم مزاحمتی سطحیں جبکہ 159.61، 159.12، 158.58 اور 157.31 اہم سپورٹ لیولز ہیں۔
Robina Adeel
Robina Adeel

83 مشاہدات

شرحِ سود کے  فرق اور ایران کشیدگی کے بیچ ڈالر، ین پر حاوی؛ USDJPY کی نظریں 160 پر

حالیہ دنوں میں عالمی مارکیٹس میں USDJPY کے حوالے سے خاصی سرگرمی دیکھی جا رہی ہے۔ امریکی ڈالر اور جاپانی ین کا یہ اہم کرنسی پیئر مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار ہے، جبکہ جاپانی ین نفسیاتی سطح 160.00 کے قریب کمزور پوزیشن میں دکھائی دے رہا ہے۔

اس کمزوری کے پیچھے کئی اہم عوامل ہیں، جن میں امریکہ اور جاپان کے درمیان نمایاں شرح سود کا فرق ، Bank Of Japan کی مستقبل کی پالیسی اور مشرق وسطیٰ، خصوصاً ایران سے متعلق بڑھتے ہوئے جیو پولیٹیکل خطرات شامل ہیں۔

موجودہ صورتحال میں سرمایہ کار اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا USDJPY دوبارہ 160.00 کی سطح عبور کرکے مزید بلندی کی طرف جائے گا یا جاپانی ین کی ممکنہ بحالی اس جوڑی کو نیچے دھکیل سکتی ہے۔

امریکہ اور جاپان کے درمیان شرح سود کا فرق کیوں اہم ہے؟

USDJPY کا جائزہ لیں تو امریکہ اور جاپان کی مختلف Monetary Policy سب سے اہم بنیادی عوامل میں سے ایک ہے۔ دونوں ممالک کے مرکزی بینکوں کی شرح سود میں واضح فرق سرمایہ کاروں کے فیصلوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔

فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق Federal Reserve کی شرح سود 3.5% سے 3.75% کے درمیان ہے، جبکہ Bank Of Japan نے جون میں اپنی قلیل المدتی شرح سود بڑھا کر 1% کر دی تھی، جو کئی دہائیوں کی بلند سطح قرار دی گئی ہے۔

اس کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان موجود شرح سود کا نمایاں فرق سرمایہ کاروں کو کم شرح سود والے جاپانی ین میں قرض لے کر زیادہ منافع دینے والے امریکی اثاثوں میں سرمایہ کاری کی جانب راغب کرتا ہے۔ اس حکمت عملی کو عام طور پر Carry Trade کہا جاتا ہے۔

شرح سود کا فرق ین پر کیسے دباؤ ڈال رہا ہے؟

جب سرمایہ کاروں کو امریکہ میں جاپان کے مقابلے میں زیادہ شرح سود ملنے کی توقع ہو تو وہ عموماً ین کو فروخت کرکے امریکی ڈالر خریدتے ہیں۔ اس عمل سے USDJPY کو اوپر جانے میں مدد مل سکتی ہے جبکہ ین کمزور ہو سکتا ہے۔

جب تک امریکہ اور جاپان کے درمیان شرح سود کا فرق نمایاں رہتا ہے، Japanese Yen پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان موجود رہتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب سرمایہ کار زیادہ منافع کے حصول کے لیے امریکی کرنسی اور بانڈز کو ترجیح دیں۔

ایران پر امریکی حملے فاریکس مارکیٹ کو کیسے متاثر کر رہے ہیں؟

USDJPY کی قدر میں صرف شرح سود ہی نہیں بلکہ عالمی سیاسی صورتحال بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی فنانشل مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھایا ہے۔

آج امریکی فضائی حملوں اور ایران کی جانب سے جوابی کارروائیوں کے بعد خطے میں تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ لارک جزیرے اور Strait Of Hormuz کے اردگرد پیدا ہونے والی صورتحال نے مارکیٹ میں رسک پریمیئم کو بھی متاثر کیا ہے۔

ایسی صورتحال میں سرمایہ کار اکثر نسبتاً محفوظ سمجھے جانے والے اثاثوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ US Dollar کی عالمی مالیاتی نظام میں اہم حیثیت اسے اس طرح کی غیر یقینی صورتحال میں اضافی طلب فراہم کر سکتی ہے۔ نتیجتاً، جغرافیائی سیاسی خطرات USDJPY کے لیے بھی اہم محرک بن رہے ہیں، کیونکہ ڈالر کی مضبوطی اس جوڑی کو اوپر کی جانب دھکیل سکتی ہے۔

USDJPY کا تیکنیکی تجزیہ

USDJPY کا تیکنیکی جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ 4 گھنٹوں کے چارٹ پر قیمت 200 دنوں کی Simple Moving Average (SMA) کے بالکل نیچے مستحکم ہونے کے مرحلے میں ہے۔

یہ صورتحال ظاہر کر رہی ہے ہے کہ مارکیٹ اس وقت ایک اہم فیصلہ کن زون میں موجود ہے۔ اگر خریدار مزاحمتی سطح کو توڑنے میں کامیاب رہتے ہیں تو مزید اوپر جانے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ اہم سپورٹ لیولز کے نیچے بریک ہونے کی صورت میں کریکشن کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

اہم مزاحمتی سطحیں

USDJPY کے لیے اوپری جانب فوری مزاحمتی سطح تقریباً 160.34 پر موجود ہے، جہاں 200 دنوں کی Simple Moving Average ایک اہم تکنیکی رکاوٹ کے طور پر کام کر رہی ہے۔ اگر قیمت اس سطح کے اوپر مضبوطی سے برقرار رہنے میں کامیاب ہوتی ہے تو مارکیٹ میں خریداروں کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے اور جوڑی میں مزید تیزی کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

اس کے بعد 160.64 ایک اہم Resistance Level ہے، جو 61.8% Fibonacci Retracement کے قریب واقع ہے۔ اگر USDJPY اس سطح کو واضح طور پر عبور کرنے میں کامیاب رہتا ہے تو یہ تیزی کے مومینٹم میں اضافے کی علامت ہو سکتی ہے اور قیمت کو اگلی اہم مزاحمتی سطح 162.10 کی جانب لے جا سکتی ہے۔ 162.10 اس صورت میں اہم ہدف بن سکتا ہے اور اس سطح پر مارکیٹ کے ردعمل سے جوڑی کی اگلی سمت کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔

اہم سپورٹ لیولز

دوسری جانب USDJPY کے لیے ابتدائی سپورٹ تقریباً 159.61 پر موجود ہے، جو 50.0% Fibonacci Retracement کے قریب واقع ہے۔ اگر قیمت اس سطح کے اوپر برقرار رہتی ہے تو خریدار مارکیٹ میں اپنی پوزیشنز برقرار رکھنے کی کوشش کر سکتے ہیں، جس سے جوڑی کو دوبارہ اوپر جانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اس کے نیچے 159.12 ایک اہم سپورٹ لیول ہے، جہاں 100 دنوں کی Simple Moving Average موجود ہے۔ اگر قیمت اس سطح سے نیچے مضبوط بریک دیتی ہے تو یہ جوڑی میں مزید کریکشن کے دباؤ کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ ایسی صورت میں مارکیٹ کی توجہ 158.58 اور پھر 157.31 کے اہم Structural Support Levels پر منتقل ہو سکتی ہے۔

اگر فروخت کا دباؤ بڑھتا ہے اور قیمت ان سپورٹ زونز تک پہنچتی ہے تو ان سطحوں پر مارکیٹ کا ردعمل انتہائی اہم ہوگا۔ 158.58 اور 157.31 سے مضبوط بحالی Bullish Structure کو برقرار رکھ سکتی ہے، جبکہ ان سطحوں کے نیچے مسلسل کمزوری بیئرش ٹرینڈ کے مزید مضبوط ہونے کا اشارہ دے سکتی ہے۔

حرف آخر

مجموعی طور پر موجودہ جاپانی ین کی کمزوری، امریکہ اور جاپان کے درمیان شرح سود کا فرق اور عالمی جیوپولیٹیکل رسک اس جوڑی کے لیے فی الحال Bullish Bias کی حمایت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

اگر USD/JPY، 160.34 اور پھر 160.64 کی مزاحمتی سطحوں کو واضح طور پر عبور کر لیتا ہے تو 162.10 کی جانب مزید پیش رفت کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، اگر قیمت 159.61 اور 159.12 کے اہم سپورٹ زون سے نیچے چلی جاتی ہے تو مارکیٹ میں کریکشن کا دباؤ بڑھ سکتا ہے اور قیمت 158.58 یا اس سے بھی نیچے 157.31 کی جانب بڑھ سکتی ہے۔

Bank Of Japan کی جانب سے مزید پالیسی سخت کرنے کے امکانات جاپانی ین کو کچھ سہارا دے سکتے ہیں، لیکن جب تک امریکہ اور جاپان کے درمیان Interest Rate Gap نمایاں رہتا ہے، ین کے لیے پائیدار بحالی ایک چیلنج بن سکتی ہے۔

آخرکار، USDJPY کے اگلے بڑے موومنٹ کا انحصار Federal Reserve اور Bank Of Japan کی پالیسی توقعات، امریکی ڈالر کی طلب، جاپانی ین کی طاقت اور مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال پر ہوگا۔

اہم وضاحت

Urdu Markets کی جانب سے فراہم کردہ تمام معلومات، تجزیے، اعداد و شمار، خبریں، مارکیٹ ڈیٹا اور دیگر مواد صرف معلوماتی اور تعلیمی مقاصد کے لیے پیش کیے جاتے ہیں۔ یہ مواد کسی بھی صورت میں مالیاتی، سرمایہ کاری یا ٹریڈنگ مشورہ تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔

قارئین کسی بھی Trading Decision، سرمایہ کاری یا دیگر کاروباری و مالیاتی فیصلے سے قبل اپنی تحقیق کریں اور ضرورت کے مطابق کسی مستند ایڈوائزر سے مشورہ حاصل کریں۔ Urdu Markets اپنی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کی بنیاد پر کیے گئے کسی بھی Trading Decision یا سرمایہ کاری کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ نقصان یا منافع کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔

⚠ تجزیہ ڈسکلیمر

یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔

📩 یہ مضمون پسند آیا؟

روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر

w T 𝕏

متعلقہ موضوعات

Robina Adeel

✍ تحریر کردہ · UrduMarkets

اردو مارکیٹس کے مصنف · مالیاتی مارکیٹ تجزیہ

متعلقہ مضامین

3 مضامین
💬

تبصرے

0 گفتگو

💭

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔

🛡 تمام تبصرے ماڈریٹر کی منظوری کے بعد شائع ہوتے ہیں

🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں