PSX سیکٹر تجزیہ: KSE-100 انڈیکس 168,155 پر مستحکم، نتائج کے سیزن اور انسٹی ٹیوشنل فلو کا تفصیلی جائزہ
★اہم نکات
- •KSE-100 انڈیکس 0.40 فیصد کی جزوی کمی کے ساتھ 168,155 کی اہم سطح پر رینج باؤنڈ مومینٹم دکھا رہا ہے۔
- •168,000 پوائنٹس کی سطح انڈیکس کی ساخت کو قائم رکھنے کے لیے انتہائی اہم نفسیاتی اور تکنیکی سپورٹ ہے۔
- •بینکنگ (15-18% ییلڈ) اور کھاد سیکٹر (12-16% ییلڈ) نتائج کے سیزن سے قبل بہترین آمدنی کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔
- •اگر انڈیکس 168,800 سے اوپر نکلتا ہے تو 170,000 کی نئی تاریخی اونچائی کا ہدف ممکن ہو سکتا ہے۔
- •168,000 کے نیچے وسیع البنیاد بندش کی صورت میں انڈیکس 166,200 کی اگلی سپورٹ زون تک گر سکتا ہے۔
کیا ہوا اور موجودہ مارکیٹ کی صورتحال
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں حالیہ تجارتی سیشن کے دوران محتاط پیش رفت دیکھی جا رہی ہے، جہاں بینچمارک KSE-100 انڈیکس 0.40 فیصد کی معمولی کمی کے بعد 168,155 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مارکیٹ اپنی نئی تاریخی بلندیوں کے قریب مستحکم ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔ انڈیکس میں یہ محدود اتار چڑھاؤ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مجموعی مارکیٹ میں ہائی لیول کنسولیڈیشن (consolidation) کا عمل جاری ہے، جہاں خریدار اور فروخت کنندگان کے درمیان توازن قائم دکھائی دیتا ہے۔
تجارتی حجم اور ٹرن اوور کے لحاظ سے مارکیٹ میں سست روی دیکھی گئی ہے، جو کہ نتائج کے سیزن (earnings season) سے قبل سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کی عکاسی کرتی ہے۔ اگرچہ KSE-100 انڈیکس ریڈ زون میں بند ہوا، لیکن مارکیٹ کی وسیع تر چوڑائی (breadth) یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ گراوٹ پورٹ فولیو میں پینک سیلنگ کے بجائے محض چند بھاری انڈیکس ویٹ (index-heavy) شیئرز میں پرافٹ ٹیکنگ کے باعث آئی ہے۔ ٹیکنالوجی، بجلی اور سیمنٹ کے چند منتخب حصص میں تجارتی سرگرمی مثبت رہی جبکہ بینکنگ اور توانائی کے شعبوں میں قدرے دباؤ دیکھا گیا۔
موجودہ قیمت پر، KSE-100 انڈیکس اپنی تکنیکی سٹرکچر کے لحاظ سے اہم ن نقطہ نظر پر قائم ہے۔ 168,000 کی نفسیاتی سطح انڈیکس کے لیے ایک اہم ترین فرسٹ لائن ڈیفنس کا کام کر رہی ہے۔ جب تک مارکیٹ اس سطح سے اوپر برقرار رہتی ہے، مجموعی بلش سٹرکچر برقرار رہنے کی توقع ہے۔ تاجر اور انسٹی ٹیوشنل فنڈز اس وقت بنیادی طور پر آنے والے مالیاتی نتائج کے اعداد و شمار اور کمپنیوں کی جانب سے متوقع کیش ڈویڈنڈ کے اعلانات پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔
ایسا کیوں ہوا: محرکات اور تعلقات
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی موجودہ سست اور رینج باؤنڈ حرکت کے پیچھے متعدد معاشی اور مالیاتی محرکات کارفرما ہیں۔ سب سے اہم عامل کارپوریٹ نتائج کے سیزن کی آمد ہے، جس کی وجہ سے ادارہ جاتی سرمایہ کار بڑی نئی پوزیشنز لینے کے بجائے موجودہ ہولڈنگز کی بنیادی جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔ جب مارکیٹ ایک طویل تیزی کے بعد کسی اہم تکنیکی سطح پر پہنچتی ہے، تو سرمایہ کار پورٹ فولیو میں خطرے کے تناسب (risk-reward ratio) کو متوازن کرنے کے لیے بنیادی تجزیے کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
انٹرسٹ ریٹس کے رجحان اور افراط زر (inflation) میں کمی کی متوقع رفتار نے مختلف شعبوں کی کارکردگی کو منفرد انداز میں متاثر کیا ہے۔ شرح سود میں ممکنہ تدریجی کمی کے امکانات کے باعث بینکنگ سیکٹر کے خالص سود کا مارجن (NIM) میں معمولی دباؤ کا خدشہ ہے، جبکہ اس کے برعکس شرح سود میں کمی کا امکان قرضوں کی مانگ میں اضافے اور سیمنٹ، اسٹیل اور آٹو جیسے لیوریجڈ سیکٹرز کے لیے مالیاتی اخراجات میں کمی کا سبب بن سکتا ہے۔ اس معاشی تبدیلی نے سرمائے کے بہاؤ کو ایک سیکٹر سے دوسرے سیکٹر میں منتقل کرنے کا عمل شروع کیا ہے۔
اس کے علاوہ، غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں (FIPI) اور مقامی اداروں (LIPI) کے درمیان تعامل بھی موجودہ مارکیٹ سٹرکچر کا ایک اہم جزو ہے۔ عالمی ابھرتی ہوئی منڈیوں (emerging markets) میں ریٹنگز اور بین الاقوامی جیو پولیٹیکل حالات کے اثرات کے باعث غیر ملکی سرمایہ کار فی الوقت چنیدہ شیئرز میں محتاط انداز اپنا رہے ہیں۔ مقامی پورٹ فولیو مینیجرز کی جانب سے منافع کی وصولی اور نقد رقم جمع کرنے کی حکمت عملی نے مارکیٹ کے اوپری لیولز کو محدود کر دیا ہے، جس سے انڈیکس 168,155 کی موجودہ سطح پر رک گیا ہے۔
حمایتی شواہد
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے اہم بنیادی سیکٹرز میں سے 6 مرکزی شعبوں کی گہری تجزیاتی جانچ پڑتال سے پتہ چلتا ہے کہ انڈیکس کی سطحی سست روی کے باوجود بنیادی شیئرز کی قدر اور ڈویڈنڈ کی پیشکش اب بھی پرکشش ہے۔ ان چھ اہم سیکٹرز کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:
1۔ بینکنگ سیکٹر (Banking Sector):
بینکنگ سیکٹر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا سب سے زیادہ منافع بخش شعبہ بنا ہوا ہے۔ اعلیٰ ترین 3 بینکوں — مائل اسٹون نامزدگیاں جیسے حبیب بینک لمیٹڈ (HBL)، ایم سی بی بینک لمیٹڈ (MCB)، اور یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ (UBL) — کے بنیادی عوامل انتہائی مضبوط ہیں۔ اس سیکٹر کی اوسط ڈویڈنڈ ییلڈ (dividend yield) 15 فیصد سے 18 فیصد کے درمیان ہے، جبکہ اس کا پرائس ٹو ارننگ ریشو (P/E ratio) محض 3.5x سے 4.5x کے پرکشش ترین لیول پر ہے۔ شرح سود میں معمولی کمی کے باوجود، ریکارڈ ڈپازٹ بیس اور سروس چارجز کے باعث نتائج کے سیزن میں ان بینکوں سے شاندار کیش پے آؤٹ کی توقع ہے۔
2۔ آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن (E&P Sector):
انرجی سیکٹر کی سرکردہ کمپنیوں جیسے آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی (OGDC)، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (PPL)، اور ماڑی پیٹرولیم (MARI) میں مضبوط کیش فلو اور بین الاقوامی خام تیل کی مستحکم قیمتوں کے باعث سرمایہ کاروں کی گہری دلچسپی موجود ہے۔ اس سیکٹر کا P/E ریشو 3.0x سے 4.0x کے ارد گرد ہے، اور یہ 12 فیصد سے 14 فیصد تک کی ڈویڈنڈ ییلڈ پیش کر رہا ہے۔ گردشی قرضے (circular debt) کے تصفیے سے متعلق متوقع پیش رفت اس شعبے کے لیے ایک اہم انلاکر ثابت ہو سکتی ہے۔
3۔ سیمنٹ سیکٹر (Cement Sector):
سیمنٹ انڈسٹری کی ٹاپ 3 کمپنیوں — لکی سیمنٹ (LUCK)، ڈی جی خان سیمنٹ (DGKC)، اور بہترین سیمنٹ (BESTWAY) — کو تعمیری سرگرمیوں میں بہتری اور کوئلے کی بین الاقوامی قیمتوں میں استحکام سے فائدے کی توقع ہے۔ اگرچہ موجودہ ڈویڈنڈ ییلڈ 4 فیصد سے 6 فیصد کی حد میں قدرے کم ہے، لیکن ان کا P/E ریشو 5.5x سے 7.0x کے درمیان پھیلا ہوا ہے، جو مانیٹری پالیسی میں نرمی کے نتیجے میں حجم میں اضافے پر تیز رفتار بحالی کی نشاندہی کرتا ہے۔
4۔ پاور جیو اینڈ ڈسٹری بیوشن (Power Sector):
پاور جنریشن سیکٹر کی کلیدی کمپنیوں مثلاً حب پاور کمپنی (HUBCO)، کوٹ اڈو پاور (KAPCO)، اور اینگرو پاورجن (EPQL) کو ان کے باقاعدہ اور متوقع کیش پے آؤٹ کی وجہ سے پسند کیا جاتا ہے۔ HUBCO اور KAPCO کا سیکٹر اوسط ڈویڈنڈ ییلڈ 18 فیصد سے 22 فیصد کے اعلیٰ ترین درجے پر ہے، جبکہ P/E ریشو 3.2x کے قریب ہے۔ یہ سیکٹر انکم پر مبنی پورٹ فولیو کے لیے ایک بنیادی کشن فراہم کرتا ہے۔
5۔ فرٹیلائزر سیکٹر (Fertilizer Sector):
کھاد کا شعبہ زرعی معیشت میں اپنی ناگزیر حیثیت کے باعث انتہائی پائیدار آمدنی پیش کرتا ہے۔ اینگرو فرٹیلائزرز (EFERT)، فوجی فرٹیلائزر کمپنی (FFC)، اور اینگرو کارپوریشن (ENGRO) اس سیکٹر کی قیادت کر رہے ہیں۔ فرٹیلائزر شیئرز کی ڈویڈنڈ ییلڈ 12 فیصد سے 16 فیصد ہے جبکہ P/E ریشو 5.0x سے 6.5x کے درمیان ہے۔ مقامی یوریا کی مستحکم قیمتیں اور پیداواری حجم آنے والے سہ ماہی نتائج میں مضبوط کیش فلو کی ضمانت دیتے ہیں۔
6۔ ٹیکنالوجی سیکٹر (Tech Sector):
ٹیکنالوجی سیکٹر جس میں سسٹم لمیٹڈ (SYS)، ایئر لنک کمیونیکیشن (AIRLINK)، اور اویکٹس پاکستان (AVN) شامل ہیں، ڈویڈنڈ کے بجائے سرمائے میں اضافے (capital appreciation) کا محرک ہے۔ اس سیکٹر کا P/E ریشو 10.0x سے 14.0x تک قدرے زیادہ ہے جبکہ ڈویڈنڈ ییلڈ 2 فیصد سے 4 فیصد کے درمیان ہے۔ آئی ٹی برآمدات میں مسلسل اضافہ اور ڈیجیٹلائزیشن کی شرح اس شعبے کو مستقبل کے لیے ایک بہترین گروتھ پلے بناتی ہے۔
متضاد شواہد اور اہم غیر یقینیاں
اگرچہ بنیادی اعداد و شمار اور سیکٹورل موازنہ طویل المدتی نقطہ نظر سے مثبت اشارے دیتا ہے، لیکن مارکیٹ کو مختصر مدت میں چند اہم تکنیکی اور میکرو معاشی چیلنجز کا سامنا ہے جو انڈیکس کو مزید نیچے دھکیل سکتے ہیں۔ سب سے بڑا خطرہ غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاری (FIPI) کے تسلسل کا غیر یقینی ہونا ہے۔ غیر ملکی فنڈز کی جانب سے مسلسل یا اچانک فروخت مقامی liquidity پر دباؤ ڈال سکتی ہے، خاص طور پر اس صورت میں جب مقامی مالیاتی ادارے (LIPI) بھی پرافٹ ٹیکنگ کی پوزیشن میں ہوں۔
علاوہ ازیں، گردشی قرضے (circular debt) کا دائمی مسئلہ خاص طور پر ای اینڈ پی اور پاور سیکٹر کی کمپنیوں کے بیلنس شیٹ پر بوجھ بنا ہوا ہے۔ اگر حکومت کی جانب سے گردشی قرضے کے خاتمے کے لیے کسی جامع اور عملی پیکیج کا اعلان تاخیر کا شکار ہوتا ہے، تو HUBCO، OGDC اور PPL جیسی بڑی کمپنیوں میں متوقع پے آؤٹ کی شرح متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ غیر یقینی صورتحال توانائی کے شعبے کی ریٹنگ میں بہتری کی راہ میں بنیادی رکاوٹ ہے۔
عالمی سطح پر معاشی سست روی اور خام تیل کی قیمتوں میں غیر متوقع اتار چڑھاؤ بھی ایک متضاد عنصر ہے، جو پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور افراط زر کی پیشن گوئیوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اگر خام تیل کی عالمی قیمتیں توقع سے زیادہ بڑھتی ہیں تو یہ پاکستان کے بیرونی کھاتے پر دباؤ ڈالے گی، جس سے مانیٹری پالیسی میں شرح سود گھٹانے کا راستہ محدود ہو جائے گا۔ یہ عوامل مجموعی مارکیٹ ملٹیپلز (P/E ratios) کی وسعت کو روک سکتے ہیں اور انڈیکس کو 168,000 کے پاس محدود رکھ سکتے ہیں۔
منظرنامے (تیزی اور مندی) اور ان کی تصدیق
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے KSE-100 انڈیکس کے لیے تکنیکی چارٹ کی ساخت کی روشنی میں دو واضح اور شرطی منظرنامے تشکیل دیے جا سکتے ہیں:
1۔ تیزی کا منظرنامہ (Bullish Scenario):
اگر KSE-100 انڈیکس موجودہ کنسولیڈیشن کے بعد 168,000 کی سپورٹ کو کامیابی سے برقرار رکھتا ہے اور 168,800 پوائنٹس کی ابتدائی انٹرا ڈے رکاوٹ کو عبور کر لیتا ہے، تو یہ بلش تسلسل کی پہلی تصدیق ہوگی۔ اس بائنگ مومینٹم کا حتمی ہدف انڈیکس کو 170,000 کی نئی تاریخی نفسیاتی سطح کی طرف لے جانا ہوگا۔ اس کی شرط یہ ہوگی کہ انٹربینک تجارتی حجم میں پچھلے ہفتے کے اوسط سے کم از کم 20 فیصد اضافہ دیکھی جائے اور بینکنگ نیز ای اینڈ پی سیکٹرز اس پیش رفت کی قیادت کریں۔
2۔ مندی کا منظرنامہ (Bearish Scenario):
اگر انڈیکس موجودہ خریداروں کی دلچسپی کھو دیتا ہے اور 168,000 کی اہم ترین تکنیکی سپورٹ کی سطح سے نیچے وسیع البنیاد حجم کے ساتھ بند ہوتا ہے، تو مندی کا منظرنامہ متحرک ہو جائے گا۔ ایسی صورت میں، KSE-100 انڈیکس کا اگلا تعمیری ہدف 166,200 کی ثانوی سٹرکچرل سپورٹ لیول ہوگی۔ اس منفی بائس کی تصدیق تب ہوگی جب FIPI اعداد و شمار میں بڑی خالص فروخت ریکارڈ ہو اور اہم وزن رکھنے والے اسٹاکس (OGDC, MCB, LUCK) میں سیلنگ پریشر بڑھے۔
کیا بدلا اور آگے کیا اہم ہے
پچھلی ڈیسک تھیسس کے مقابلے میں، مارکیٹ کا عمومی ڈھانچہ (regime) رینج باؤنڈ ہی رہا ہے، تاہم انڈیکس 168,000 کی تشویشناک حد کے انتہائی نزدیک پہنچ چکا ہے۔ اہم تبدیلی یہ ہے کہ پہلے جہاں سرمایہ کار مارکیٹ میں بریک آئوٹ کی تلاش میں تھے، اب نتائج کے سیزن کے عین قریب پورٹ فولیو کی ازسرنو ترتیب اور منافع کے تحفظ کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ انڈیکس کا 168,155 پر ہونا اس بات کی علامت ہے کہ پچھلی ڈیسک کی انویلیڈیشن لیول (168,000) کی سخت آزمائش ہو رہی ہے۔
آگے دیکھتے ہوئے، تمام تر نگاہیں آنے والے دنوں میں جاری ہونے والے کارپوریٹ مالیاتی نتائج کے کیلنڈر پر مرکوز رہیں گی۔ سب سے پہلے بڑے بینکوں اور کھاد ساز کمپنیوں کے سہ ماہی نتائج سامنے آئیں گے، جہاں اعلان کردہ نقد منافع (cash dividend) مارکیٹ کی اگلی سمت کا تعیّن کرے گا۔ سرمایہ کاروں کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے موصول ہونے والے بیرونی بہاؤ، ترسیلاتِ زر، اور تجارتی خسارے کے ماہانہ ڈیٹا پر بھی نظر رکھنی ہوگی جو مانیٹری پالیسی کمیٹی کی اگلی نشست کی بنیاد بنے گی۔
مختصر یہ کہ، سرمایہ کاروں کے لیے سٹریٹجک مشورہ یہ ہے کہ وہ انڈیکس کی متفرق سطحوں کے بجائے انفرادی کمپنیوں کے بنیادی عوامل اور ان کی P/E نیز ڈویڈنڈ ییلڈ کی طاقت پر مبنی ڈسیژن میکنگ کریں۔ 168,000 کی تکنیکی سپورٹ کے ٹوٹنے کی صورت میں رسک مینجمنٹ کو ترجیح دی جائے، جبکہ سپورٹ قائم رہنے پر نتائج سے فائدہ اٹھانے والے سیکٹرز میں مرحلہ وار یکجا سازی کا عمل برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
📊 ڈیسک کا جائزہ
- ریگیم: range
- کیا بدلا: KSE-100 انڈیکس پچھلی ڈیسک اپ ڈیٹ کے بعد سے 168,000 کی کلیدی سپورٹ کی طرف واپس آیا ہے اور 168,155 پر ٹریڈ کر رہا ہے، جس سے انڈیکس 168,000 کی اہم ترین تکنیکی سطح کی آزمائش کر رہا ہے لیکن سیکٹورل بنیادی عوامل اب بھی قائم ہیں۔
- تیزی کا منظرنامہ: اگر KSE-100 انڈیکس 168,500 کی مزاحمتی سطح سے اوپر پیش رفت کرتا ہے اور حجم کے ساتھ بند ہوتا ہے تو انڈیکس میں 170,000 کی نئی تاریخی اونچائی کی طرف تیزی کا امکان قائم ہوگا۔
- مندی کا منظرنامہ: اگر انڈیکس 168,000 کی اہم ترین سپورٹ لیول کو توڑ کر نیچے بند ہوتا ہے تو وسیع البنیاد فروخت کے نتیجے میں KSE-100 کے 166,200 کی اگلی سپورٹ سطح تک گرنے کا خطرہ ہو گا۔
- تھیسس کب غلط ہوگی: KSE-100 انڈیکس کا 168,000 کی نفسیاتی اور تکنیکی سپورٹ کی سطح سے نیچے وسیع البنیاد حجم کے ساتھ بند ہونا موجودہ رینج باؤنڈ اور سیکٹورل تیزی کے تھیسس کو ختم کر دے گا۔
- کلیدی سطحیں: Support 1: 168,000 (کلیدی نفسیاتی سپورٹ) | Support 2: 166,200 (ثانوی سٹرکچرل سپورٹ) | Resistance 1: 168,800 (انٹرا ڈے رکاوٹ) | Resistance 2: 170,000 (تاریخی مزاحمتی زون)
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا KSE-100 انڈیکس اس وقت 168,155 پوائنٹس کے قریب سائیڈ ویز رینج میں ہے، جس میں 0.40 فیصد کی معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔ مارکیٹ میں کلیدی انڈیکس ایک محدود دائرے میں حرکت کر رہا ہے جبکہ سیکٹرز کی سطح پر ری بیلنسنگ جاری ہے۔
نتائج کا سیزن PSX کے اہم سیکٹرز کو کیسے متاثر کر سکتا ہے؟
آئندہ سہ ماہی نتائج کا سیزن (earnings season) بینکنگ، ای اینڈ پی، اور کھاد کے سیکٹرز میں سرمایہ کاروں کی توجہ کا بنیادی مرکز ہے۔ جن کمپنیوں کی کارپوریٹ آمدنی اور ڈویڈنڈ پے آؤٹ کی توقعات مضبوط ہیں، وہاں انسٹی ٹیوشنل خرید میں اضافے کا امکان ہے۔
KSE-100 انڈیکس کے لیے کون سی تکنیکی سطحیں سب سے اہم ہیں؟
انڈیکس کے لیے 168,000 پوائنٹس کی سطح کو انتہائی اہم نفسیاتی اور تکنیکی سپورٹ حاصل ہے۔ اگر انڈیکس اس سے اوپر برقرار رہتا ہے تو 168,800 اور 170,000 کی مزاحمتی سطحیں دوبارہ ٹیسٹ ہو سکتی ہیں، جبکہ 168,000 کے نیچے بندش مندی کی نشاندہی کرے گی۔
غیر ملکی (FIPI) اور مقامی (LIPI) سرمایہ کاروں کا موجودہ فلو کیسا ہے؟
غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کار (FIPI) عالمی اقتصادی صورتحال کے پیش نظر محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور انتخابی فروخت کر رہے ہیں، جبکہ مقامی انسٹی ٹیوشنز (LIPI) بشمول باہمی فنڈز اور انشورنس کمپنیاں پورٹ فولیو میں ردوبدل کر رہی ہیں۔
🔗 انڈیکس سے متعلق مزید: PSX اسٹاک · تازہ ترین خبریں
🌐 بیرونی ذرائع: پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) ↗ · PSX Data Portal ↗
⚠ تجزیہ ڈسکلیمر
یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔📩 یہ مضمون پسند آیا؟
روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر
متعلقہ موضوعات
متعلقہ مضامین
3 مضامین
کاروباری ہفتے کے آخری سیشن میں PSX کا منفی اختتام، عالمی تنازعات کی اثرات
PSX کا کلوزنگ جائزہ: KSE-100 انڈیکس میں بریک آؤٹ ناکام، 171,500 کی سپورٹ ٹوٹنے کے بعد 168,155 پر بندش
PSX میں مندی: مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور عالمی مارکیٹس کا دباؤ
تبصرے
0 گفتگو
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔