Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)
PSX اسٹاک

PSX میں فروخت کا دباؤ برقرار، KSE100 انڈیکس 1335 پوائنٹس گر گیا

★اہم نکات

  • •KSE100 Index جمعہ کو دوپہر 12 بجے تک 1,335 پوائنٹس گر کر 162,589 پوائنٹس پر آ گیا۔
  • •گزشتہ سیشن میں انڈیکس 2,006 پوائنٹس کی کمی کے بعد 163924 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
  • •عالمی مارکیٹس میں کمزوری اور خام تیل کی بلند قیمتوں نے PSX پر دباؤ بڑھایا۔
  • •آئندہ سوموار کے مانیٹری پالیسی فیصلے سے پہلے شرح سود میں اضافے کے خدشات نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا۔
  • •آٹوموبائل، سیمنٹ، کمرشل بینکنگ، تیل و گیس، پاور جنریشن اور ریفائنری کے شعبوں میں فروخت دیکھی گئی۔
  • •ایشیائی شیئر بازاروں میں مندی اور عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مالی ضروریات سے متعلق خدشات نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا۔
Adeel khalid
Adeel khalid ←

69 مشاہدات

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت کی تصویر، جس میں کے ایس ای 100 انڈیکس بھی دکھایا گیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت کی تصویر، جس میں کے ایس ای 100 انڈیکس بھی دکھایا گیا ہے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں نماز جمعہ کے وقفے سے قبل فروخت کا دباؤ برقرار رہا اور KSE100 Index ایک ہزار 335 پوائنٹس سے زیادہ گر گیا۔ عالمی مارکیٹس میں کمزوری، خام تیل کی بلند قیمتوں اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا، جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پیر کو متوقع مانیٹری پالیسی فیصلے سے پہلے شرح سود میں اضافے کے خدشات نے بھی اسٹاکس کی فروخت میں اضافہ کیا۔

دوپہر 12 بجے بینچ مارک انڈیکس 162589 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو گزشتہ بندش کے مقابلے میں 1,335.01 پوائنٹس یا 0.81 فیصد کمی ظاہر کرتا ہے۔ اس سے ایک روز قبل بھی مارکیٹ میں شدید مندی دیکھی گئی تھی، جب انڈیکس 2006 پوائنٹس یا 1.21 فیصد گر کر 163,924.32 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔ مسلسل دو سیشنز کی اس کمزوری نے ظاہر کیا کہ سرمایہ کار عالمی معاشی حالات اور ملکی مانیٹری پالیسی کے ممکنہ اثرات کو سامنے رکھتے ہوئے محتاط حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں۔

PSX میں مسلسل مندی، سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی

PSX میں حالیہ گراوٹ کا اہم پہلو یہ ہے کہ فروخت کا دباؤ صرف چند کمپنیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ مختلف بڑے شعبوں تک پھیل گیا۔ KSE100 انڈیکس میں زیادہ وزن رکھنے والی کمپنیوں کے اسٹاکس میں کمی نے مجموعی انڈیکس کو نیچے دھکیلنے میں اہم کردار ادا کیا۔

عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق کے مطابق مارکیٹ میں کمزوری کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ بلند عالمی تیل قیمتوں کے باعث بین الاقوامی مارکیٹس میں منفی رجحان ہے، جبکہ دوسری وجہ پیر کے مانیٹری پالیسی فیصلے سے پہلے سرمایہ کاروں کی احتیاط ہے، کیونکہ مارکیٹ میں شرح سود بڑھنے کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔

یہ صورتحال پاکستان کے شیئر بازار PSX کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ شرح سود میں اضافہ کمپنیوں کی قرض لینے کی لاگت بڑھا سکتا ہے، جبکہ سرمایہ کاروں کے لیے بینک ڈپازٹس اور مقررہ آمدن والے مالیاتی اثاثوں کی کشش بھی بڑھ سکتی ہے۔ تاہم، پالیسی ریٹ میں حقیقی تبدیلی اور اس کے حجم کا تعین اسٹیٹ بینک کے فیصلے سے ہی ہوگا۔

تیل کی قیمتیں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی مارکیٹ پر بھاری

عالمی خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور سعودی عرب، دنیا کے سب سے بڑے خام تیل برآمد کنندہ، اور یمن میں حوثی گروپ کے درمیان شدت اختیار کرتی لڑائی سے متعلق خدشات نے عالمی سرمایہ کاری کے ماحول کو متاثر کیا۔ خطے میں کشیدگی بڑھنے سے تیل کی ترسیل، سپلائی اور توانائی کی عالمی قیمتوں کے بارے میں غیر یقینی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔

پاکستان جیسی تیل درآمد کرنے والی معیشت کے لیے مہنگا خام تیل درآمدی بل، توانائی کی لاگت اور بیرونی ادائیگیوں پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں کمپنیوں کے منافع، کاروباری اخراجات اور ملکی معیشت کے بارے میں سرمایہ کاروں کی توقعات متاثر ہونے کا امکان رہتا ہے۔

اسی تناظر میں تیل و گیس کے شعبے میں بعض کمپنیوں کو عالمی قیمتوں سے فائدہ پہنچنے کے امکانات کے باوجود، مجموعی مارکیٹ میں منفی رجحان اور سرمایہ کاروں کی جانب سے خطرات کم کرنے کی کوشش نے مختلف شعبوں کے حصص کو دباؤ میں رکھا۔

بینکنگ، سیمنٹ اور توانائی کے اسٹاکس میں فروخت

جمعہ کو مارکیٹ کے متعدد اہم شعبوں میں فروخت ریکارڈ کی گئی، جن میں آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینک، تیل و گیس کی تلاش و پیداوار کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں، بجلی پیدا کرنے والے ادارے اور ریفائنریز شامل تھے۔

ARL، HUBCO، MARI، PPL، POL، MCB، MEBL، NBP اور UBL جیسے انڈیکس پر نمایاں اثر رکھنے والے اسٹاکس منفی زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔ ان کمپنیوں میں کمزوری نے بینچ مارک انڈیکس پر اضافی دباؤ ڈالا۔

بینکنگ شعبے میں سرمایہ کاروں کی توجہ مانیٹری پالیسی کے ممکنہ فیصلے پر مرکوز ہے، کیونکہ شرح سود میں تبدیلی بینکوں کی آمدن، ڈپازٹس، قرضوں کی طلب اور سرمایہ کاری کے ماحول کو مختلف طریقوں سے متاثر کر سکتی ہے۔ اسی طرح سیمنٹ اور آٹوموبائل کمپنیوں کے لیے بلند شرح سود صارفین کی مالی استطاعت اور قرض پر مبنی خریداری کو متاثر کر سکتا ہے۔

توانائی اور ریفائنری کمپنیوں میں بھی عالمی تیل قیمتوں، مقامی طلب اور کاروباری اخراجات سے متعلق خدشات مارکیٹ کے رجحان پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مندی کا دباؤ

PSX کی کمزوری ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب بیشتر اہم ایشیائی شیئر بازار بھی دباؤ کا شکار تھے۔ مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے لیے درکار مالی وسائل سے متعلق خدشات نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص کو متاثر کیا۔ سرمایہ کاروں میں یہ تشویش بھی سامنے آئی کہ اگر مصنوعی ذہانت سے وابستہ سرمایہ کاری کی رفتار توقعات کے مطابق برقرار نہ رہی تو عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی شعبے کی ترقی متاثر ہو سکتی ہے۔

MSCI Asia Pacific Index، جس میں جاپان شامل نہیں، جمعہ کو 0.3 فیصد نیچے آیا اور ہفتہ وار بنیاد پر اس کی کمی 2.7 فیصد تک پہنچ گئی۔ جاپان کا Nikkei 225 انڈیکس 1.3 فیصد گر گیا، جبکہ ہفتے کے دوران اس کی مجموعی کمی تقریباً 5 فیصد رہی۔

جنوبی کوریا کے KOSPI انڈیکس میں 1.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور ہفتہ وار گراوٹ 4.3 فیصد تک پہنچنے کا امکان تھا۔ میموری چپ بنانے والی کمپنی SK Hynix کے اسٹاکس بھی 2.5 فیصد نیچے رہے۔ دوسری جانب مین لینڈ چین کے بڑے اسٹاکس پر مشتمل انڈیکس 1.1 فیصد گر کر جولائی 2025 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آ گیا، جبکہ ہانگ کانگ کا Hang Seng Index معمولی 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ ٹریڈ کرتا رہا۔

عالمی مارکیٹس میں اس وسیع کمزوری نے پاکستان سمیت ابھرتی ہوئی معیشتوں کے حصص بازاروں میں سرمایہ کاروں کی احتیاط کو مزید بڑھایا۔

US Treasury Bonds کی طلب میں اضافہ اور شرح سود کی توقعات

عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے خطرے والے اثاثوں سے نکل کر محفوظ سرمایہ کاری کی طرف رجحان بڑھنے کے باعث امریکی سرکاری بانڈز (US Treasury Bonds) میں طلب میں اضافہ دیکھا گیا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی ٹریژری مارکیٹ میں تین سال سے زیادہ عرصے کی بڑی یومیہ تیزی سامنے آئی، جس سے بانڈز کی قیمتوں اور شرح منافع میں تبدیلی آئی۔

اس کے ساتھ امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ شرح سود میں مزید اضافے کی توقعات بھی کم ہوئیں۔ مارکیٹ نے اگلے سال کے لیے متوقع شرح سود میں اضافے کا تقریباً ایک چوتھائی فیصد پوائنٹ حصہ اپنی توقعات سے نکال دیا، جبکہ دسمبر میں شرح سود بڑھنے کا امکان مکمل طور پر قیمتوں میں شامل نہیں رہا۔ رپورٹ کے مطابق اس اضافے کا مضمر امکان 85 فیصد تک گر گیا۔

تاہم، امریکی شرح سود کی توقعات میں تبدیلی کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان میں بھی پالیسی ریٹ لازماً اسی سمت میں جائے گا۔ اسٹیٹ بینک پاکستان کے افراط زر، ملکی معاشی حالات، شرح مبادلہ اور دیگر معاشی اشاریوں کی بنیاد پر اپنا فیصلہ کرے گا۔

PSX کی آئندہ سمت، Monetary Policy فیصلہ اہم

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے لیے اب سرمایہ کاروں کی توجہ پیر کے Monetary Policy فیصلے، عالمی خام تیل کی قیمتوں اور جغرافیائی سیاسی حالات پر مرکوز رہے گی۔ اگر شرح سود میں اضافے کا فیصلہ سامنے آتا ہے تو اس کا اثر بینکنگ، سیمنٹ، آٹوموبائل اور دیگر شرح سود سے حساس شعبوں پر پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب شرح سود برقرار رکھنے یا پالیسی بیان میں نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کرنے کی صورت میں مارکیٹ کے ردعمل کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ فیصلہ سرمایہ کاروں کی پہلے سے موجود توقعات سے کتنا مختلف ہے۔

قریب مدت میں عالمی شیئر بازاروں کا رجحان، توانائی کی قیمتیں اور بڑی کمپنیوں کے حصص میں خرید و فروخت KSE100 انڈیکس کی سمت کے لیے اہم عوامل رہیں گے۔ مسلسل دو سیشنز کی نمایاں گراوٹ کے بعد سرمایہ کاروں کے لیے مارکیٹ کی بحالی کا اندازہ لگانے میں انڈیکس کی سطح کے ساتھ ساتھ کاروباری حجم اور مختلف شعبوں میں خریداری کی واپسی بھی اہم ہوگی۔

موجودہ صورتحال میں مارکیٹ کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا مندی کا دباؤ عالمی غیر یقینی کیفیت اور پالیسی فیصلے سے پہلے کی احتیاط تک محدود رہتا ہے یا فروخت کا رجحان مزید سیشنز میں بھی برقرار رہتا ہے۔ اس کا جواب آنے والے کاروباری دنوں میں عالمی حالات اور ملکی مانیٹری پالیسی کے ردعمل سے واضح ہوگا۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو پیر کی مانیٹری پالیسی میں شرح سود میں اضافہ کرنا چاہیے یا اسے موجودہ سطح پر برقرار رکھنا چاہیے؟ اور کیا عالمی خام تیل کا موجودہ بحران

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو مزید نیچے لے جائے گا؟ کمنٹس باکس میں اپنے خیالات کا اظہار کریں!

اہم وضاحت

Urdu Markets پر موجود تمام خبریں، تجزیے اور مارکیٹ انفارمیشن صرف معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ کسی بھی Trading Decision یا سرمایہ کاری سے پہلے اپنی تحقیق ضرور کریں اور ضرورت پڑنے پر معاشی ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں۔ مارکیٹ تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔

سورس (Source)

Pakistan Stock Market News, PSX Business News & Updates | Investify

⚠ تجزیہ ڈسکلیمر

یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔

📩 یہ مضمون پسند آیا؟

روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر

w T 𝕏
”
Adeel khalid

✍ تحریر کردہ · UrduMarkets

اردو مارکیٹس کے مصنف · مالیاتی مارکیٹ تجزیہ

متعلقہ مضامین

3 مضامین
💬

تبصرے

0 گفتگو

💭

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔

🛡 تمام تبصرے ماڈریٹر کی منظوری کے بعد شائع ہوتے ہیں

🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں