Strait Of Hormuz کے دوبارہ کھلنے کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے Global Energy Markets میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والی تیل کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹ نے مارکیٹ میں Supply Risk Premium کو بڑھا دیا ہے۔
"iran crypto toll strait of hormuz oil tanker fees" کے لیے 521 نتائج۔
Strait Of Hormuz کے دوبارہ کھلنے کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے Global Energy Markets میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والی تیل کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹ نے مارکیٹ میں Supply Risk Premium کو بڑھا دیا ہے۔
توانائی کی عالمی مارکیٹس میں اس وقت شدید غیر یقینی صورتحال جاری ہے۔، جہاں WTI Crude Oil prices Strait of Hormuz آبنائے ہرمز کے گرد گھومتی ہوئی صورتحال اور جغرافیائی سیاسی تنازعات کی وجہ سے قیمتیں 89.50 ڈالر کے قریب مستحکم ہیں۔
WTI Oil کی قیمت مشرق وسطیٰ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات کے باعث مضبوط ہے۔ $86.90 اہم resistance ہے، جس کے اوپر breakout کی صورت میں قیمت $87.69 اور $90 کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ دوسری جانب $84 اہم support ہے۔ اس کے نیچے break ہونے پر قیمت $82 اور $80 کی طرف جا سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں Strait of Hormuz، US oil inventories اور geopolitical developments WTI کی سمت کے لیے اہم رہیں گے۔
عالمی مارکیٹس میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھائو ہمیشہ سے سرمایہ کاروں کے لیے ایک پُرجوش اور حساس موضوع رہا ہے۔ آج ڈبلیو ٹی آئی خام تیل میں اس وقت نمایاں کمی دیکھنے میں آئی جب یہ 100 ڈالر فی بیرل کے قریب آ گیا۔
اختتام ہفتہ پر تقریباً 4 فیصد کی گراوٹ کے بعد، مغربی ٹیکساس انٹرمیڈیٹ ( WTI Crude Oil) کی قیمتیں ایشیائی تجارتی اوقات میں بحالی کے بعد تقریباً 99.40 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہی ہیں۔
عالمی مارکیٹس میں ایک بار پھر جغرافیائی سیاسی تناؤ سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ مغربی ٹیکساس انٹرمیڈیٹ، جو کہ امریکی خام تیل کی قیمتوں کا بنیادی معیار ہے، میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
نامور عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز ریٹنگز (Moody’s Ratings) کے ایک تجزیے کے مطابق، پاکستان نے اس Hormuz Shock کو 2022 کے ہولناک تیل بحران کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر طریقے سے برداشت کیا ہے۔
WTI Crude Oil Prices اس وقت توجہ کا مرکز بن گئیں جب ایران کی جانب سے امریکی حملوں کے جواب میں میزائل داغے گئے۔ اس کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو چوکنا کر دیا ہے، کیونکہ دنیا کے ایک اہم ترین تجارتی راستے یعنی آبنائے ہرمز (Strait Of Hormuz) پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔
AP نے امریکی اہلکار کے حوالے سے ایرانی ٹینکروں پر نئی امریکی کارروائی رپورٹ کی ہے؛ ایرانی سرکاری ٹی وی نے خارک اور جاسک کے قریب حملوں کی اطلاع دی۔ امریکی اہلکار نے کارروائی کو بحری جنگی جہاز پر ایرانی میزائل حملوں کی کوشش کا جواب قرار دیا؛ یہ مؤقف اہلکار سے منسوب ہے، آزاد فوجی تحقیق کا نتیجہ نہیں۔ CENTCOM نے 5 ستمبر کو تین ایرانی ٹینکروں کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا تھا؛ تازہ حملوں کے تمام اہداف اور نقصان کی تفصیلی عوامی تصدیق باقی ہے۔ خارک ایران کی خام تیل برآمدات کا مرکزی مقام ہے، جبکہ جاسک ہرمز کے مشرق میں واقع ہے؛ ٹینکروں پر حملے اور برآمدی ٹرمینل کو نقصان الگ حقائق ہیں۔ تیل پہلے ہی 100 ڈالر کے قریب رہا ہے؛ مسلسل حملے جہاز رانی، بیمہ اور برآمدی لاگت بڑھا سکتے ہیں، مگر تازہ کارروائی سے رسد میں کمی کی مقدار ابھی واضح نہیں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشمکش اور سفارتی محاذ پر پیدا ہونے والی نئی پیشرفت کے بعد WTI Crude Oil کی قدر میں گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے
ایشیائی سیشن کے دوران مغربی ٹیکساس انٹرمیڈیٹ یعنی WTI Crude Oil کی قیمتیں مسلسل تیسرے روز بڑھتے ہوئے تقریباً 92.30 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کر رہی ہیں۔
ایران نے امریکہ کے خلاف براہ راست Iran US economic warfare (ایران اور امریکہ کے درمیان اقتصادی جنگ) اور میزائل حملوں کی دھمکی دی ہے، جس سے نہ صرف خطے میں جنگ کا دائرہ وسیع ہونے کا خدشہ ہے بلکہ عالمی توانائی کی سپلائی لائنز بھی شدید خطرے میں ہیں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں