اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج موجودہ مالی سال کے لیے دوسری بار منعقد ہونے جا رہا ہے، اور مارکیٹ کے بیشتر ماہرین کا خیال ہے کہ اسٹیٹ بینک اپنی مانیٹری پالیسی Monetary Policy یعنی شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا۔
"new zealand dollar plunged after rbnz monetary policy" کے لیے 344 نتائج۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج موجودہ مالی سال کے لیے دوسری بار منعقد ہونے جا رہا ہے، اور مارکیٹ کے بیشتر ماہرین کا خیال ہے کہ اسٹیٹ بینک اپنی مانیٹری پالیسی Monetary Policy یعنی شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا۔
پاکستانی روپیہ (PKR) آج امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں انٹربینک مارکیٹ میں معمولی بہتری کے ساتھ 277.59 پر بند ہوا، جو عالمی ڈالر کی مضبوطی کے باوجود مقامی طلب میں کمی کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم، بنیادی اقتصادی دباؤ اور عالمی عوامل PKR کے لیے چیلنجز برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
پاکستانی روپیہ (PKR) آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں 0.36% کی معمولی بہتری کے ساتھ 277.69 پر بند ہوا، جو عالمی ڈالر انڈیکس (DXY) میں معمولی گراوٹ اور مقامی مارکیٹ میں طلب کے دباؤ میں عارضی کمی کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم، بنیادی اقتصادی چیلنجز اور بیرونی کھاتوں کا دباؤ برقرار ہے۔
پاکستانی روپیہ (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی معمولی گراوٹ کا رجحان برقرار رکھے ہوئے ہے، جو 277.72 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ عالمی ڈالر کی مستحکم پوزیشن اور مقامی مارکیٹ میں درآمدی طلب کے مسلسل دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔
Bitcoin $78,000 کی اہم سطح سے نیچے مستحکم ہو رہا ہے، جو ایک بیئرش رجحان کی تصدیق کرتا ہے۔ ڈیریویٹوز مارکیٹ میں اوپن انٹرسٹ میں کمی اور فنڈنگ ریٹس میں معمولی بہتری ڈیلیوریجنگ کے جاری عمل کی نشاندہی کر رہی ہے۔ Ethereum بھی کمزور کارکردگی دکھا رہا ہے جبکہ USDT/PKR P2P مارکیٹ مستحکم ہے۔
پاکستانی روپیہ (PKR) آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں معمولی گراوٹ کا شکار ہوا، جو 277.64 پر بند ہوا۔ یہ گراوٹ عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی مارکیٹ میں درآمدی دباؤ کے درمیان جاری بیرونی کھاتے کے چیلنجز کی عکاسی کرتی ہے۔
یورپی مرکزی بینک نے ستمبر کے اجلاس کے بعد توقعات کے عین مطابق ECB Monetary Policy کا اعلان کرتے ہوئے 25 بنیادی پوائنٹس کا اضافہ کر دیا ہے
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج ایک شدید زلزلہ خیز صورتحال دیکھنے میں آئی جب مشرق وسطی کی انتہائی کشیدہ صورتحال کی زیر سایہ PSX کا بینچ مارک انڈیکس 3,000 پوائنٹس سے زائد کی بڑی گراوٹ کے ساتھ بند ہوا۔
پاکستانی روپیہ انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی استحکام دکھا رہا ہے، جو 277.28 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ صورتحال عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی درآمدی دباؤ کے درمیان ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی آنے والی مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کے اجلاس میں شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کا امکان ہے۔ یہ کمی کم ہوتی ہوئی افراطِ زر اور معاشی سرگرمیوں کو متحرک کرنے کی ضرورت کے پیش نظر ہے۔ تاہم، بیرونی کھاتوں پر دباؤ اور عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال SBP کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
پاکستانی روپے نے آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی گراوٹ کو روکا ہے اور 277.53 پر ٹریڈ کر رہا ہے، جو پچھلے سیشن کے مقابلے میں معمولی بہتری ہے۔ تاہم، عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی درآمدی دباؤ کے پیش نظر یہ استحکام نازک ہے۔
AP نے امریکی اہلکار کے حوالے سے ایرانی ٹینکروں پر نئی امریکی کارروائی رپورٹ کی ہے؛ ایرانی سرکاری ٹی وی نے خارک اور جاسک کے قریب حملوں کی اطلاع دی۔ امریکی اہلکار نے کارروائی کو بحری جنگی جہاز پر ایرانی میزائل حملوں کی کوشش کا جواب قرار دیا؛ یہ مؤقف اہلکار سے منسوب ہے، آزاد فوجی تحقیق کا نتیجہ نہیں۔ CENTCOM نے 5 ستمبر کو تین ایرانی ٹینکروں کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا تھا؛ تازہ حملوں کے تمام اہداف اور نقصان کی تفصیلی عوامی تصدیق باقی ہے۔ خارک ایران کی خام تیل برآمدات کا مرکزی مقام ہے، جبکہ جاسک ہرمز کے مشرق میں واقع ہے؛ ٹینکروں پر حملے اور برآمدی ٹرمینل کو نقصان الگ حقائق ہیں۔ تیل پہلے ہی 100 ڈالر کے قریب رہا ہے؛ مسلسل حملے جہاز رانی، بیمہ اور برآمدی لاگت بڑھا سکتے ہیں، مگر تازہ کارروائی سے رسد میں کمی کی مقدار ابھی واضح نہیں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں