یمنی حوثی فورسز کی طرف سے سعودی عرب کی اہم توانائی تنصیبات (Energy Facilities) اور شہروں پر کیے جانے والے حملوں نے سرمایہ کاروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
"positive rally in psx after investment in oil and gas sector" کے لیے 553 نتائج۔
یمنی حوثی فورسز کی طرف سے سعودی عرب کی اہم توانائی تنصیبات (Energy Facilities) اور شہروں پر کیے جانے والے حملوں نے سرمایہ کاروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
یورپی اوپن میں STOXX 600 تقریباً 0.2 فیصد، DAX 0.3 فیصد اور CAC 40 تقریباً 0.4 فیصد نیچے رہے، جبکہ FTSE 100 تقریباً مستحکم رہا؛ یہ ابتدائی سیشن کی تصویر ہے، حتمی اختتامی قیمتوں کی رپورٹ نہیں۔ Brent تقریباً 98.5 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے سے توانائی رسد، کاروباری لاگت اور مہنگائی کے خدشات بڑھے، تاہم ہر یورپی شعبے پر اس کے اثرات یکساں نہیں ہوں گے۔ جرمن برآمدات جولائی میں ماہانہ 0.8 فیصد اور درآمدات 5.7 فیصد کم ہوئیں؛ تجارتی فاضل 21.3 ارب یورو ہوگیا، مگر برآمدات سالانہ بنیاد پر اب بھی بڑھی ہیں۔ Novartis میں تقریباً 8.8 فیصد کمی کا تعلق del-desiran کے مطالعے سے تھا، جبکہ Sandoz تقریباً 2.9 فیصد بڑھا؛ کمپنی مخصوص عوامل کو معاشی دباؤ سے الگ دیکھنا ضروری ہے۔ ECB کا فیصلہ 10 ستمبر کو متوقع ہے؛ اگست کا ابتدائی افراط زر 3.3 فیصد ہے، لیکن آئندہ پالیسی کے لیے توانائی کے ساتھ اجرتیں، بنیادی مہنگائی اور نمو بھی اہم ہیں۔
جاپان کی دنیا بھر میں معروف تجارتی اور سرمایہ کاری کمپنی، سمیتومو کارپوریشن (Sumitomo Corporation) کے ساتھ پاکستان کے مائننگ سیکٹر (mining sector) میں سرمایہ کاری کے حوالے سے ہونے والا رابطہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
نامور عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز ریٹنگز (Moody’s Ratings) کے ایک تجزیے کے مطابق، پاکستان نے اس Hormuz Shock کو 2022 کے ہولناک تیل بحران کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر طریقے سے برداشت کیا ہے۔
جاپانی حکومت کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، جولائی کے دوران ملک میں Japan real wages میں سالانہ بنیادوں پر 2.4 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
فیڈرل ریزرو کی سخت مانیٹری پالیسی کی توقعات اور مشرق وسطیٰ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے نے سونے کی چال کو سست کر دیا ہے
آج جاپانی ین نے اپنی تمام بڑی حریف کرنسیوں کے مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی ماہ کی بلند ترین سطح کو چھو لیا ہے۔ جبکہ اس کے خلاف امریکی ڈالر یعنی USDJPY رواں سال کے کم ترین حصوں تک آ چکا ہے۔
موجودہ حالات میں UAE Energy Exports Security کا معاملہ صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ عالمی معیشت کی سمت کا تعین کرنے والا ایک بنیادی عنصر بن چکا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 انڈیکس نے آج 177,167 پر کھلنے کے بعد 0.97 فیصد کی نمایاں گراوٹ کے ساتھ 173,636 پوائنٹس پر بندش دی، جو 174,600 کی اہم سپورٹ سطح سے نیچے ہے۔ یہ گراوٹ مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے بیئرش دباؤ اور پچھلی رینج باؤنڈ ریکوری کی تھیسس کی نفی کی نشاندہی کرتی ہے۔
آج جرمنی کے وفاقی ادارہ شماریات (Federal Statistics office) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار نے مارکیٹ کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔
عالمی مارکیٹس میں جب بھی جغرافیائی سیاسی ( تنازعات شدت اختیار کرتے ہیں، تو اس کے براہ راست اثرات توانائی کے شعبے اور کموڈیٹیز کی قیمتوں پر پڑتے ہیں۔ موجودہ تناظر میں، US Iran conflict نے سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی ہے۔
Gold Price اس وقت $4,400 کے قریب pressure میں trade کر رہا ہے۔ Fed Rate Hike Expectations اور Treasury Yields میں اضافہ Gold پر دباؤ ڈال رہا ہے، جبکہ Geopolitical Risks اور کمزور US Dollar اسے Support دے رہے ہیں۔ $4,400 اہم Support ہے۔ اس کے نیچے Break ہونے کی صورت میں $4,300 اگلا Target بن سکتا ہے۔ دوسری طرف $4,500 سے $4,530 کے اوپر Recovery Gold کے Bullish Outlook کو مضبوط کر سکتی ہے۔ Traders کی توجہ US Inflation Data، Federal Reserve Policy، US Dollar اور Treasury Yields پر رہے گی۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں