پاکستان کی معیشت افراط زر میں 11.10 فیصد تک کمی، 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور ایکسچینج ریٹ کے 276.91 روپے پر استحکام کے ساتھ مانیٹری نرمی اور بیرونی توازن کی مستحکم راہ پر گامزن ہے۔
"delay in imf agreement decline in psx" کے لیے 1111 نتائج۔
پاکستان کی معیشت افراط زر میں 11.10 فیصد تک کمی، 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور ایکسچینج ریٹ کے 276.91 روپے پر استحکام کے ساتھ مانیٹری نرمی اور بیرونی توازن کی مستحکم راہ پر گامزن ہے۔
پاکستان کی معیشت میں افراطِ زر کی شرح 11.10 فیصد تک نیچے آنے اور روپے کی قدر 277.00 پر مستحکم رہنے کے بعد شرح سود میں مزید کمی کے امکانات روشن ہو گئے ہیں، جبکہ کے ایس ای-100 انڈیکس 170,765 کی نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔
پاکستان کی معاشی بحالی کا عمل تیز تر ہو گیا ہے جہاں 11.10 فیصد افراطِ زر اور 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کے ساتھ حقیقی شرح سود مثبت زون میں ہے۔ ترسیلاتِ زر اور آئی ایم ایف پروگرام کی بدولت روپیہ 276.96 پر مستحکم ہے جبکہ کے ایس ای 100 انڈیکس 170,765 کی نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی آئندہ میٹنگ میں پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس کی کمی کر سکتی ہے۔ اگست میں افراط زر 11.10% پر آ گیا ہے، جو موجودہ پالیسی ریٹ 11.50% سے کم ہے، جس سے حقیقی شرح سود مثبت ہو گئی ہے۔ یہ صورتحال معاشی سرگرمیوں کو سہارا دینے کے لیے شرح سود میں کمی کی راہ ہموار کرتی ہے۔
پاکستان کی معیشت میں آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات اور متوازن بیرونی کھاتوں کے باعث استحکام آ رہا ہے۔ افراطِ زر میں کمی کے بعد مرکزی بینک کی طرف سے شرح سود میں مزید نرمی کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کا ابتدائی سیشن محتاط انداز میں جاری ہے، جہاں KSE-100 انڈیکس 172,100 پوائنٹس پر -0.21% کی معمولی کمی دکھا رہا ہے۔ سرمایہ کار عالمی اور مقامی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر منافع خوری (profit-taking) اور محتاط پوزیشننگ کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ مارکیٹ دن کی حد 170,885 سے 172,756 کے درمیان اتار چڑھاؤ کا شکار ہے۔
آج KSE-100 انڈیکس نے 0.48% کے اضافے کے ساتھ 172,233 پوائنٹس پر بندش دی، جو پچھلی مزاحمتی سطح سے اوپر ایک بریک آؤٹ کی کوشش کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم، کمزور مارکیٹ breadth اور ٹرن اوور میں عدم تسلسل اس اضافے کی پائیداری پر سوال اٹھا رہا ہے، جس سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا KSE-100 انڈیکس آج معمولی 0.10% کی کمی کے ساتھ 171,402 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 170,000 اور 172,000 کے درمیان استحکام کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم، کمزور مارکیٹ breadth اور ٹرن اوور میں کمی کے باعث انڈیکس پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جس سے 170,000 کی نفسیاتی سپورٹ سطح خطرے میں ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا KSE-100 انڈیکس آج معمولی 0.16% کے اضافے کے ساتھ 171,153 پوائنٹس پر بند ہوا، جو پچھلے دن کی مندی کے بعد استحکام کی کوشش کو ظاہر کرتا ہے۔ مارکیٹ 170,000 کی اہم نفسیاتی اور تکنیکی سپورٹ سطح کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ وسیع تر شرکت کی کمی اب بھی تشویش کا باعث ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 انڈیکس نے آج 1.18% کے اضافے کے ساتھ 171,037 پوائنٹس پر بندش دی، جو 166,200 کی اہم سپورٹ سطح سے ایک مضبوط واپسی کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ حرکت پچھلے دن کے بیئرش بریک ڈاؤن کو کمزور کرتی ہے اور مارکیٹ میں رجحان کی تبدیلی کے امکانات کو بڑھاتی ہے، تاہم، پائیدار تیزی کے لیے مزید تصدیق درکار ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج KSE-100 انڈیکس نے 166,206 کی انٹرا ڈے کم ترین سطح سے نمایاں ریکوری کرتے ہوئے 0.85% کے اضافے کے ساتھ 169,392 پر بندش دی ہے۔ یہ حرکت پچھلے دن کے بیئرش بریک ڈاؤن کے بعد ایک ممکنہ ریورسل اٹیمپٹ کی نشاندہی کرتی ہے، تاہم 170,000 کی نفسیاتی مزاحمتی سطح سے نیچے کی بندش اب بھی محتاط رویے کا تقاضا کرتی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج KSE-100 انڈیکس نے دن کی نچلی سطح 166,206 سے ایک نمایاں ریکوری دکھاتے ہوئے 170,512 پر بندش دی۔ یہ مضبوط واپسی 170,000 کی نفسیاتی سپورٹ پر خریداروں کی دلچسپی اور مارکیٹ میں رینج باؤنڈ کنسولیڈیشن کے رجحان کی تصدیق کرتی ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں