پاکستانی شیئر بازار نے ابتدائی گھنٹوں میں شدید دباؤ اور فروخت کے رجحان کا سامنا کیا، لیکن دن کے دوسرے حصے میں جغرافیائی کشیدگی میں کمی کی امیدوں نے ایسا پلٹا کھایا کہ انڈیکس تمام نقصانات کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دن کی بلند ترین سطح کے قریب بند ہوا۔
"کروڈ آئل کی قیمتوں میں مسلسل کمی 103 ڈالر" کے لیے 542 نتائج۔
پاکستانی شیئر بازار نے ابتدائی گھنٹوں میں شدید دباؤ اور فروخت کے رجحان کا سامنا کیا، لیکن دن کے دوسرے حصے میں جغرافیائی کشیدگی میں کمی کی امیدوں نے ایسا پلٹا کھایا کہ انڈیکس تمام نقصانات کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دن کی بلند ترین سطح کے قریب بند ہوا۔
GBP/USD نے 1.3500 کی اہم سطح کے اوپر اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے۔ UK کی جولائی کی GDP میں 0.4 فیصد ماہانہ اضافہ ہوا، جو توقعات سے بہتر رہا اور Pound کو Support ملا۔ UK Bond Yields میں اضافہ بھی Sterling کے لیے مثبت ہے، جبکہ بلند Energy Prices نے Inflation کے خدشات برقرار رکھے ہیں۔ اب Market کی توجہ US CPI Data پر ہے، کیونکہ مضبوط US Inflation سے US Dollar کو Support مل سکتا ہے اور GBP/USD پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ دوسری طرف، کمزور US Inflation سے Dollar میں کمی اور GBP/USD میں مزید بہتری کا امکان ہے۔ Technical طور پر 1.3500 اور 1.3475 اہم Support جبکہ 1.3550 اور 1.3600 اہم Resistance ہیں۔
پاکستانی ادارہ شماریات کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، کیڑے مار ادویات، زرعی مشینری، کیمیکلز اور کھادوں کی درآمدات میں اہم تبدیلیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,411 کی سطح پر مستحکم ہے، جہاں $4,370 کی اہم تکنیکی سپورٹ برقرار ہے۔ DXY میں معمولی کمی نے قلیل مدتی ریلیف فراہم کی ہے، تاہم امریکی ٹریژری ییلڈز میں مسلسل اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی سخت پالیسی کے امکانات سونے پر بنیادی دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں، جس سے $4,455 کی مزاحمتی سطح کو عبور کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
آج امریکی محکمہ خزانہ (US Treasury) نے ایک اہم اعلان کیا ہے جس کے تحت وہ 10 ستمبر 2026 سے US Treasury buyback operation کے ذریعے 10 سے 20 سالہ بانڈز خریدنے جا رہا ہے۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,370 کی اہم تکنیکی سپورٹ پر استحکام دکھا رہی ہے، جہاں DXY میں معمولی کمی نے 'technical rebound' کی کوشش کو جنم دیا ہے۔ تاہم، امریکی ٹریژری ییلڈز میں مسلسل اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی سخت مانیٹری پالیسی کے امکانات سونے پر بنیادی دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں، جو کسی بھی تیزی کی حرکت کو محدود کر سکتے ہیں۔
AP نے امریکی اہلکار کے حوالے سے ایرانی ٹینکروں پر نئی امریکی کارروائی رپورٹ کی ہے؛ ایرانی سرکاری ٹی وی نے خارک اور جاسک کے قریب حملوں کی اطلاع دی۔ امریکی اہلکار نے کارروائی کو بحری جنگی جہاز پر ایرانی میزائل حملوں کی کوشش کا جواب قرار دیا؛ یہ مؤقف اہلکار سے منسوب ہے، آزاد فوجی تحقیق کا نتیجہ نہیں۔ CENTCOM نے 5 ستمبر کو تین ایرانی ٹینکروں کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا تھا؛ تازہ حملوں کے تمام اہداف اور نقصان کی تفصیلی عوامی تصدیق باقی ہے۔ خارک ایران کی خام تیل برآمدات کا مرکزی مقام ہے، جبکہ جاسک ہرمز کے مشرق میں واقع ہے؛ ٹینکروں پر حملے اور برآمدی ٹرمینل کو نقصان الگ حقائق ہیں۔ تیل پہلے ہی 100 ڈالر کے قریب رہا ہے؛ مسلسل حملے جہاز رانی، بیمہ اور برآمدی لاگت بڑھا سکتے ہیں، مگر تازہ کارروائی سے رسد میں کمی کی مقدار ابھی واضح نہیں۔
امریکی ہنگامی خام تیل ذخیرہ (SPR) گزشتہ ہفتے تقریباً 12 لاکھ بیرل کم ہوکر 28 کروڑ 54 لاکھ بیرل رہ گیا؛ یہ نومبر 1982 کے بعد کم ترین سطح ہے۔ مارچ میں ذخیرہ تقریباً 41 کروڑ 50 لاکھ بیرل تھا؛ اس تقابلی مقدار سے موجودہ سطح تقریباً 12 کروڑ 96 لاکھ بیرل، یعنی 31 فیصد کم بنتی ہے۔ امریکہ نے 17 کروڑ 20 لاکھ بیرل جاری کرنے کا اعلان کیا تھا، جو عالمی سطح پر 40 کروڑ بیرل تیل اور تیار مصنوعات کی مربوط فراہمی کے منصوبے کا حصہ ہے۔ تبادلے کے تحت حاصل کیا گیا تیل کمپنیوں کو اضافی بیرل کے ساتھ واپس کرنا ہے؛ تاہم مستقبل کی واپسی موجودہ دستیاب ذخیرے میں شمار نہیں کی جاسکتی۔ Brent تقریباً 98 ڈالر کے آس پاس اور خلیجی رسد خطرات کی زد میں ہے؛ کم SPR فوری امریکی قلت ثابت نہیں کرتا، مگر نئے جھٹکے سے نمٹنے کی گنجائش محدود کرتا ہے۔ تجارتی ذخائر اور ملکی پیداوار اس سے الگ ہیں۔
یمنی حوثی فورسز کی طرف سے سعودی عرب کی اہم توانائی تنصیبات (Energy Facilities) اور شہروں پر کیے جانے والے حملوں نے سرمایہ کاروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
USD/JPY ایشیائی سیشن میں گر کر 152.89 پر آ گیا، جو کہ 18 فروری 2026 کے بعد جاپانی ین کی امریکی ڈالر کے مقابلے میں مضبوط ترین قدر ہے۔ جاپان میں جولائی کے دوران حقیقی اجرتوں میں سالانہ بنیاد پر 2.4 فیصد کا ٹھوس اضافہ ہوا، جس نے گھریلو قوتِ خرید کو تحفظ دے کر بینک آف جاپان (BoJ) کے لیے شرحِ سود بڑھانے کا راستہ ہموار کیا ہے۔ دوسری سہ ماہی کی حقیقی GDP growth سالانہ شرح پر ابتدائی 1.1 فیصد سے بڑھا کر 1.4 فیصد کر دی گئی۔ کاروباری سرمایہ کاری بدستور منفی رہی، تاہم اس میں کمی ابتدائی تخمینے سے کم تھی، جبکہ بیرونی طلب نے مجموعی نمو کو اہم سہارا دیا۔ امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) پر دباؤ: ڈالر کا اشاریہ گر کر 98.83 کی دو ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گیا، جس سے جوڑی پر نیچے کی جانب دو طرفہ دباؤ قائم ہوا۔ اگرچہ ین مضبوط ہے، تاہم 10 سالہ امریکی ٹریژری ییلڈ 4.79 فیصد پر برقرار رہنے اور خام تیل کی اونچی قیمتوں کے باعث پیدا ہونے والا شرحِ سود کا فرق فیڈ اور ڈالر کے لیے بدستور ایک دفاعی دیوار بنا ہوا ہے۔
AUD/USD اس وقت 0.72 کے اوپر مضبوط ہے اور اس کا short term trend مثبت نظر آ رہا ہے۔ مضبوط Australian GDP growth اور RBA کی شرح سود میں اضافے کی توقعات Australian Dollar کو سپورٹ کر رہی ہیں۔ دوسری جانب Fed کی شرح سود کی پالیسی اور US CPI رپورٹ pair کی اگلی سمت کے لیے اہم ہوں گی۔ 0.7225 اہم resistance ہے، جبکہ 0.7198 اور 0.7180 اہم support levels ہیں۔ 0.7225 کے اوپر مضبوط break ہونے کی صورت میں 0.7278AUD/USD کی طرف بڑھ سکتا ہے، جبکہ 0.7198 سے نیچے جانے پر مزید correction کا امکان بڑھ سکتا ہے۔
آج جاپانی ین نے اپنی تمام بڑی حریف کرنسیوں کے مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی ماہ کی بلند ترین سطح کو چھو لیا ہے۔ جبکہ اس کے خلاف امریکی ڈالر یعنی USDJPY رواں سال کے کم ترین حصوں تک آ چکا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں