امریکی ڈالر میں کچھ کمزوری کی وجہ سےآج لندن سیشن کے دوران EUR/USD میں محدود تیزی رہی، لیکن ابھی بھی Fed اور ECB کی monetary policy expectations کے درمیان فرق کی وجہسے pair کی مجموعی direction متاثر ہو رہی ہے۔ آنے والے یورپی معاشی ڈیٹا میں بہتری یورو کو support فراہم کر سکتی ہے، اس کے برعکس اگر امریکی data بہتری دکھاتے ہیں تو dollar کی demand دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔ دوسری طرف U.S. Treasury yields اور German Bund yields کے درمیان spread کا فرق بھی EUR/USD کے لیے نہایت اہم ہے۔ موجودہ price action کے حالات دیکھتے ہووے traders ابھی کسی واضح ڈائریکشن کے لیے macro signals کا انتظار کر رہے ہیں، اس لیے London session میں ہونے والی initial move کو final trend سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔
تلاش
"ecb rsised 50 points interest rate whereas snb declared support fot credit suisse" کے لیے 435 نتائج۔
امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) ستمبر کے آغاز میں مضبوط دکھائی دے رہا ہے، جسے فیڈ کی ہاکش توقعات، بلند US Treasury Yields اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی سے سپورٹ مل رہی ہے۔ 10 سالہ Treasury Yield تقریباً 4.78% تک پہنچ چکی ہے، جبکہ بلند تیل کی قیمتیں مہنگائی کے خدشات بڑھا رہی ہیں۔ تکنیکی طور پر 99.75 سے 100.00 اہم Resistance Zone ہے، جبکہ 99.00 اور 98.70 سے 98.75 اہم Support Levels ہیں۔ اب ISM Manufacturing PMI، JOLTS اور Nonfarm Payrolls جیسے امریکی اعداد و شمار DXY کی اگلی سمت کے لیے اہم ہوں گے۔ مضبوط ڈیٹا ڈالر کو مزید سپورٹ دے سکتا ہے، جبکہ کمزور ڈیٹا DXY پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر میں کمی جاری رکھے ہوئے ہے، جو 277.70 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی روپے کی کمزوری کی بنیادی وجوہات ہیں۔
آج صبح کرپٹو مارکیٹ میں ایک معمولی ریکوری دیکھنے میں آئی، جہاں Bitcoin نے $78,454 پر استحکام حاصل کیا، جبکہ Ethereum میں معمولی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ یہ حرکت وسیع تر میکرو اکنامک دباؤ کے باوجود رینج باؤنڈ کنسولیڈیشن کے تسلسل میں ہے۔
WTI Oil کی قیمت مشرق وسطیٰ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات کے باعث مضبوط ہے۔ $86.90 اہم resistance ہے، جس کے اوپر breakout کی صورت میں قیمت $87.69 اور $90 کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ دوسری جانب $84 اہم support ہے۔ اس کے نیچے break ہونے پر قیمت $82 اور $80 کی طرف جا سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں Strait of Hormuz، US oil inventories اور geopolitical developments WTI کی سمت کے لیے اہم رہیں گے۔
GBP/USD حالیہ بلند سطح سے نیچے آنے کے بعد دباؤ میں ہے۔ مضبوط امریکی ڈالر اور Fed کی شرح سود سے متعلق توقعات پاؤنڈ کی بحالی کو محدود کر رہی ہیں۔ برطانیہ کی شرح سود کے حوالے سے کم ہوتی توقعات بھی پاؤنڈ پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔ تکنیکی طور پر 1.3500 اہم سپورٹ ہے، جبکہ 1.3680 اہم resistance ہے۔ 1.3500 سے نیچے break مزید کمی کا امکان بڑھا سکتا ہے۔ دوسری جانب، 1.3680 کے اوپر breakout سے GBP/USD میں تیزی دوبارہ مضبوط ہو سکتی ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں مزید گراوٹ کا شکار ہوا، جو کہ 277.86 پر بند ہوا۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس رجحان کی بنیادی وجوہات ہیں۔
پاکستانی روپے (PKR) آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں مزید کمزور ہو کر 277.91 پر بند ہوا۔ درآمدی ادائیگیوں کا مسلسل دباؤ اور مقامی مارکیٹ میں ڈالر کی طلب میں اضافہ اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات ہیں۔
سونے (XAU/USD) نے فیڈ چیئر کے سخت گیر بیانات کے بعد 4610-4640 کی اہم مزاحمتی سطح سے ایک واضح بیئرش بریک ڈاؤن دکھایا ہے اور اب 4455-4460 کی حمایتی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ شدید اوور سولڈ RSI کے باوجود، مارکیٹ کا ڈھانچہ مندی کا رجحان ظاہر کرتا ہے، اور پل بیک پر فروخت کی حکمت عملی زیادہ موزوں ہو سکتی ہے۔
عالمی مالیاتی مارکیٹیں اس وقت ملے جلے رجحانات کا سامنا کر رہی ہیں، جہاں امریکی ڈالر کی مضبوطی اور بانڈ کی پیداوار میں اضافہ کرپٹو اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان اسٹاک ایکسچینج (KSE-100) اور USD/PKR میں نسبتاً استحکام دیکھا جا رہا ہے، جو مقامی عوامل اور محتاط سرمایہ کاری کی عکاسی کرتا ہے۔
امریکی Labor Market کی اصل صورتحال جاننے کے لیے US Bureau Of Labor Statistics (BLS) کی جانب سے جاری کیے جانے والے روزگار کے اعداد و شمار Nonfarm Payrolls کو عالمی مارکیٹس کی سمت کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ حالیہ Preliminary Benchmark Revision نے امریکی معیشت کی سابقہ تصویر پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
کرپٹو مارکیٹ میں آج معمولی ریکوری دیکھی گئی، جہاں Bitcoin اور Ethereum نے معمولی اضافہ دکھایا۔ تاہم، مارکیٹ اب بھی رینج باؤنڈ کنسولیڈیشن کے مرحلے میں ہے، جس میں میکرو اکنامک عوامل اور ڈیریویٹوز مارکیٹ میں محتاط پوزیشننگ غالب ہے۔ اہم سپورٹ اور مزاحمتی سطحوں پر نظر رکھنا ضروری ہے۔