نیشنل بیورو آف سٹیٹسٹکس آف چائنا کی جانب سے Chinese CPI کے جو اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں، وہ نہ صرف معاشی ماہرین کی توقعات کے عین مطابق ہیں بلکہ ان کے اندر مستقبل کے کئی اہم تجارتی اشارے بھی چھپے ہیں
"euro lost recovery momentum due to cautius market mood lacking volume" کے لیے 502 نتائج۔
نیشنل بیورو آف سٹیٹسٹکس آف چائنا کی جانب سے Chinese CPI کے جو اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں، وہ نہ صرف معاشی ماہرین کی توقعات کے عین مطابق ہیں بلکہ ان کے اندر مستقبل کے کئی اہم تجارتی اشارے بھی چھپے ہیں
$4,350Gold کے قریب دباؤ میں ہے کیونکہ مضبوط US jobs data، Treasury yields اور Fed rate expectations نے XAU/USD کو متاثر کیا ہے۔ دوسری جانب Middle East tensions اورXAU safe haven demand کو support دے رہی ہیں۔ Traders کی نظریں US PPI اور CPI data پر ہیں، جو Gold کی اگلی direction طے کر سکتے ہیں۔ $4,400 اہم resistance ہے، جبکہ $4,300، $4,160 اور $4,000 اہم support levels ہیں۔ $4,400 سے اوپر Gold breakout کو bullish momentum دے سکتا ہے، جبکہ $4,300 سے نیچے مزید کمی کا امکان بڑھ سکتا ہے۔
ایشیائی سیشن کے دوران مغربی ٹیکساس انٹرمیڈیٹ یعنی WTI Crude Oil کی قیمتیں مسلسل تیسرے روز بڑھتے ہوئے تقریباً 92.30 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کر رہی ہیں۔
AP نے امریکی اہلکار کے حوالے سے ایرانی ٹینکروں پر نئی امریکی کارروائی رپورٹ کی ہے؛ ایرانی سرکاری ٹی وی نے خارک اور جاسک کے قریب حملوں کی اطلاع دی۔ امریکی اہلکار نے کارروائی کو بحری جنگی جہاز پر ایرانی میزائل حملوں کی کوشش کا جواب قرار دیا؛ یہ مؤقف اہلکار سے منسوب ہے، آزاد فوجی تحقیق کا نتیجہ نہیں۔ CENTCOM نے 5 ستمبر کو تین ایرانی ٹینکروں کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا تھا؛ تازہ حملوں کے تمام اہداف اور نقصان کی تفصیلی عوامی تصدیق باقی ہے۔ خارک ایران کی خام تیل برآمدات کا مرکزی مقام ہے، جبکہ جاسک ہرمز کے مشرق میں واقع ہے؛ ٹینکروں پر حملے اور برآمدی ٹرمینل کو نقصان الگ حقائق ہیں۔ تیل پہلے ہی 100 ڈالر کے قریب رہا ہے؛ مسلسل حملے جہاز رانی، بیمہ اور برآمدی لاگت بڑھا سکتے ہیں، مگر تازہ کارروائی سے رسد میں کمی کی مقدار ابھی واضح نہیں۔
امریکی ہنگامی خام تیل ذخیرہ (SPR) گزشتہ ہفتے تقریباً 12 لاکھ بیرل کم ہوکر 28 کروڑ 54 لاکھ بیرل رہ گیا؛ یہ نومبر 1982 کے بعد کم ترین سطح ہے۔ مارچ میں ذخیرہ تقریباً 41 کروڑ 50 لاکھ بیرل تھا؛ اس تقابلی مقدار سے موجودہ سطح تقریباً 12 کروڑ 96 لاکھ بیرل، یعنی 31 فیصد کم بنتی ہے۔ امریکہ نے 17 کروڑ 20 لاکھ بیرل جاری کرنے کا اعلان کیا تھا، جو عالمی سطح پر 40 کروڑ بیرل تیل اور تیار مصنوعات کی مربوط فراہمی کے منصوبے کا حصہ ہے۔ تبادلے کے تحت حاصل کیا گیا تیل کمپنیوں کو اضافی بیرل کے ساتھ واپس کرنا ہے؛ تاہم مستقبل کی واپسی موجودہ دستیاب ذخیرے میں شمار نہیں کی جاسکتی۔ Brent تقریباً 98 ڈالر کے آس پاس اور خلیجی رسد خطرات کی زد میں ہے؛ کم SPR فوری امریکی قلت ثابت نہیں کرتا، مگر نئے جھٹکے سے نمٹنے کی گنجائش محدود کرتا ہے۔ تجارتی ذخائر اور ملکی پیداوار اس سے الگ ہیں۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج شدید فروخت کا دباؤ دیکھنے میں آیا جب دنیا بھر میں بالخصوص مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے
جنوبی کوریا میں Stablecoins کا نفاذ نہ صرف ملکی ٹریڈرز کو اربوں ڈالر کی سالانہ فیس سے بچا سکتا ہے، بلکہ یہ ملک کے روایتی بینکنگ نظام اور مالیاتی استحکام کے لیے بھی گہرے اثرات کا حامل ہو سکتا ہے۔
یورپی بینکنگ کے شعبے میں ایک بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ آج اٹلی کے معروف مالیاتی ادارے UniCredit کو یورپی مرکزی بینک کی جانب سے ایک بہت بڑا ریگولیٹری ریلیف مل گیا ہے۔
جاپان کی دنیا بھر میں معروف تجارتی اور سرمایہ کاری کمپنی، سمیتومو کارپوریشن (Sumitomo Corporation) کے ساتھ پاکستان کے مائننگ سیکٹر (mining sector) میں سرمایہ کاری کے حوالے سے ہونے والا رابطہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
ٹوکیو میں قائم کمپنی Metaplanet نے جب اپنی کارپوریٹ حکمت عملی کو تبدیل کر کے بٹ کوائن ٹریژری اسٹریٹجی (Bitcoin Treasury Strategy) اپنائی، تو اس نے عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر لی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج ابتدائی سیشن کے دوران جو مندی دیکھی گئی ہے، اس نے سرمایہ کاروں کو ایک بار پھر محتاط رہنے پر مجبور کر دیا ہے
USD/JPY ایشیائی سیشن میں گر کر 152.89 پر آ گیا، جو کہ 18 فروری 2026 کے بعد جاپانی ین کی امریکی ڈالر کے مقابلے میں مضبوط ترین قدر ہے۔ جاپان میں جولائی کے دوران حقیقی اجرتوں میں سالانہ بنیاد پر 2.4 فیصد کا ٹھوس اضافہ ہوا، جس نے گھریلو قوتِ خرید کو تحفظ دے کر بینک آف جاپان (BoJ) کے لیے شرحِ سود بڑھانے کا راستہ ہموار کیا ہے۔ دوسری سہ ماہی کی حقیقی GDP growth سالانہ شرح پر ابتدائی 1.1 فیصد سے بڑھا کر 1.4 فیصد کر دی گئی۔ کاروباری سرمایہ کاری بدستور منفی رہی، تاہم اس میں کمی ابتدائی تخمینے سے کم تھی، جبکہ بیرونی طلب نے مجموعی نمو کو اہم سہارا دیا۔ امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) پر دباؤ: ڈالر کا اشاریہ گر کر 98.83 کی دو ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گیا، جس سے جوڑی پر نیچے کی جانب دو طرفہ دباؤ قائم ہوا۔ اگرچہ ین مضبوط ہے، تاہم 10 سالہ امریکی ٹریژری ییلڈ 4.79 فیصد پر برقرار رہنے اور خام تیل کی اونچی قیمتوں کے باعث پیدا ہونے والا شرحِ سود کا فرق فیڈ اور ڈالر کے لیے بدستور ایک دفاعی دیوار بنا ہوا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں