پاکستانی روپے (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی گراوٹ جاری رکھے ہوئے ہے، آج 277.62 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی ڈالر کی مضبوطی اس رجحان کے اہم محرکات ہیں۔
"us cpi report released which caused decline in us dollar index" کے لیے 543 نتائج۔
پاکستانی روپے (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی گراوٹ جاری رکھے ہوئے ہے، آج 277.62 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی ڈالر کی مضبوطی اس رجحان کے اہم محرکات ہیں۔
پاکستانی روپے (PKR) امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں انٹربینک مارکیٹ میں اپنی قدر میں مزید کمی کا شکار ہے، جو 277.60 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات ہیں۔
Revolut کو امریکہ میں قومی بینک قائم کرنے کے لیے OCC کی مشروط منظوری مل گئی ہے، جو مارچ میں دی گئی درخواست کے بعد ایک اہم قانونی پیش رفت ہے۔ کمپنی کے مطابق اگلا مرحلہ FDIC سے ڈپازٹ انشورنس، Federal Reserve سے متعلقہ منظوری اور OCC کی آخری اجازت حاصل کرنا ہے۔ مجوزہ بینک کا صدر دفتر Stamford, Connecticut میں ہوگا اور Revolut تقریباً 95 ملین ڈالر ابتدائی سرمایہ فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ امریکی بینک چیکنگ اکاؤنٹس، قسطوں پر قرض، کریڈٹ کارڈ اور زرمبادلہ کی خدمات پیش کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے، جبکہ کمپنی اسٹیبل کوائن متعارف کرانے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ یہ منظوری حتمی بینکاری لائسنس نہیں۔ 2027 میں آغاز اس بات پر منحصر ہے کہ باقی نگران شرائط اور منظوریوں کا عمل مکمل ہوتا ہے یا نہیں۔
چینی کمرشل بینکوں Chinese Banks نے حال ہی میں US Treasury Bonds کی خریداری کا آغاز کیا ہے، جو کہ ان کی روایتی سرمایہ کاری کی حکمت عملی سے ایک بڑا انحراف ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر میں مزید کمی کا شکار ہے، جو 277.43 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ گراوٹ درآمدی ادائیگیوں کے مسلسل دباؤ اور مقامی مارکیٹ میں ڈالر کی طلب میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔
برطانیہ کی Bond Market میں دباؤ بدھ کو مزید بڑھ گیا، جہاں 10 سالہ UK Gilt Yield 5.268 فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ جون 2008 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) نے امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر میں مزید کمی کی ہے، انٹربینک مارکیٹ میں 277.87 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس گراوٹ کی اہم وجوہات ہیں۔
ریزرو بینک آف نیوزی لینڈ نے اپنیMonetary Policy میٹنگ کے بعد شرح سود میں 25 بنیادی پوائنتس کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 2.50 فیصد سے بڑھا کر 2.75 فیصد کر دیا ہے
تبدیلی صرف چین کی مانیٹری پالیسی کا ایک اشارہ نہیں بلکہ US Dollar اور Chinese Yuan کے درمیان طاقت کے توازن، چینی برآمدات اور عالمی کرنسی مارکیٹ کے لیے بھی اہم پیغام رکھتی ہے
امریکی ڈالر میں کچھ کمزوری کی وجہ سےآج لندن سیشن کے دوران EUR/USD میں محدود تیزی رہی، لیکن ابھی بھی Fed اور ECB کی monetary policy expectations کے درمیان فرق کی وجہسے pair کی مجموعی direction متاثر ہو رہی ہے۔ آنے والے یورپی معاشی ڈیٹا میں بہتری یورو کو support فراہم کر سکتی ہے، اس کے برعکس اگر امریکی data بہتری دکھاتے ہیں تو dollar کی demand دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔ دوسری طرف U.S. Treasury yields اور German Bund yields کے درمیان spread کا فرق بھی EUR/USD کے لیے نہایت اہم ہے۔ موجودہ price action کے حالات دیکھتے ہووے traders ابھی کسی واضح ڈائریکشن کے لیے macro signals کا انتظار کر رہے ہیں، اس لیے London session میں ہونے والی initial move کو final trend سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج PSX میں منگل کے روز تجارتی سیشن کے آغاز پر ہی نمایاں خریداری دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں بینچ مار KSE100 انڈیکس میں 400 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پاکستانی روپے (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر میں کمی جاری رکھے ہوئے ہے، جو 277.70 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی روپے کی کمزوری کی بنیادی وجوہات ہیں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں