جنگ صرف میدانِ جنگ کو نہیں ہلاتی بلکہ اس کے اثرات دنیا کی معیشت، تیل کی قیمتوں اور فنانشل مارکیٹس تک پہنچتے ہیں۔ US Iran War نے بھی عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے
"todays economic events and their impacts" کے لیے 352 نتائج۔
جنگ صرف میدانِ جنگ کو نہیں ہلاتی بلکہ اس کے اثرات دنیا کی معیشت، تیل کی قیمتوں اور فنانشل مارکیٹس تک پہنچتے ہیں۔ US Iran War نے بھی عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے
تبدیلی صرف چین کی مانیٹری پالیسی کا ایک اشارہ نہیں بلکہ US Dollar اور Chinese Yuan کے درمیان طاقت کے توازن، چینی برآمدات اور عالمی کرنسی مارکیٹ کے لیے بھی اہم پیغام رکھتی ہے
امریکی ڈالر میں کچھ کمزوری کی وجہ سےآج لندن سیشن کے دوران EUR/USD میں محدود تیزی رہی، لیکن ابھی بھی Fed اور ECB کی monetary policy expectations کے درمیان فرق کی وجہسے pair کی مجموعی direction متاثر ہو رہی ہے۔ آنے والے یورپی معاشی ڈیٹا میں بہتری یورو کو support فراہم کر سکتی ہے، اس کے برعکس اگر امریکی data بہتری دکھاتے ہیں تو dollar کی demand دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔ دوسری طرف U.S. Treasury yields اور German Bund yields کے درمیان spread کا فرق بھی EUR/USD کے لیے نہایت اہم ہے۔ موجودہ price action کے حالات دیکھتے ہووے traders ابھی کسی واضح ڈائریکشن کے لیے macro signals کا انتظار کر رہے ہیں، اس لیے London session میں ہونے والی initial move کو final trend سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔
امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) ستمبر کے آغاز میں مضبوط دکھائی دے رہا ہے، جسے فیڈ کی ہاکش توقعات، بلند US Treasury Yields اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی سے سپورٹ مل رہی ہے۔ 10 سالہ Treasury Yield تقریباً 4.78% تک پہنچ چکی ہے، جبکہ بلند تیل کی قیمتیں مہنگائی کے خدشات بڑھا رہی ہیں۔ تکنیکی طور پر 99.75 سے 100.00 اہم Resistance Zone ہے، جبکہ 99.00 اور 98.70 سے 98.75 اہم Support Levels ہیں۔ اب ISM Manufacturing PMI، JOLTS اور Nonfarm Payrolls جیسے امریکی اعداد و شمار DXY کی اگلی سمت کے لیے اہم ہوں گے۔ مضبوط ڈیٹا ڈالر کو مزید سپورٹ دے سکتا ہے، جبکہ کمزور ڈیٹا DXY پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔
آج کرپٹو مارکیٹ میں Bitcoin اور Ethereum نے معمولی ریکوری کی کوشش کی، لیکن وسیع تر میکرو اکنامک دباؤ اور ڈیریویٹوز مارکیٹ میں محتاط پوزیشننگ کے باعث اہم مزاحمتی سطحوں کو توڑنے میں ناکام رہے۔ Bitcoin $78,000 کی سطح سے نیچے مستحکم ہے، جو موجودہ رینج باؤنڈ رجحان کی تصدیق کرتا ہے۔
پاکستان کی بڑی سماجی و فلاحی تنظیموں میں سے ایک، Fauji Foundation نے عسکری جنرل انشورنس میں آرمی ویلفیئر ٹرسٹ سے 51% شیئرز اور کنٹرول حاصل کر لیا ہے
پاکستان اسٹاک ایکسچینج PSX میں منگل کے روز تجارتی سیشن کے آغاز پر ہی نمایاں خریداری دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں بینچ مار KSE100 انڈیکس میں 400 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
موجودہ صورتحال میں USDJPY دنیا بھر کے ٹریڈرز کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، کیونکہ ِ ین کے مقابلے میں امریکی ڈالر م160.00 کے اہم نفسیاتی ہندسے کے قریب اپنی پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے۔
عالمی مارکیٹس اس وقت غیر یقینی صورتحال نمایاں ہے۔ AUDUSD کے تناظر میں دیکھا جائے تو آسٹریلوی ڈالر نے حالیہ سیشن میں نسبتاً مستحکم کارکردگی دکھائی جبکہ سوموار کو 0.7165 کی سطح پر برقرار رہا۔
Brent Crude Oil کی قیمت کا دوبارہ 90 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچنا اب محض Energy Stocks کی کہانی نہیں رہی، بلکہ اس کے اثرات یورپ کی Bonds Market اور Monetary Policy کی توقعات تک پہنچ چکے ہیں۔
سنٹرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگز (CDNS) نے مالی سال 2026-27 کے آغاز میں 313 ارب روپے کی بچتیں جمع کرکے National Savings Mobilization Target کے تحت مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
WTI Oil کی قیمت مشرق وسطیٰ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات کے باعث مضبوط ہے۔ $86.90 اہم resistance ہے، جس کے اوپر breakout کی صورت میں قیمت $87.69 اور $90 کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ دوسری جانب $84 اہم support ہے۔ اس کے نیچے break ہونے پر قیمت $82 اور $80 کی طرف جا سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں Strait of Hormuz، US oil inventories اور geopolitical developments WTI کی سمت کے لیے اہم رہیں گے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں