پاکستانی فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین بجٹ وضاحتی سرکلر میں سروسز اور مخصوص ڈیٹ سیکیورٹیز پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرحوں میں اہم ترامیم کا اعلان کیا گیا ہے
"saudi arabia deposits pakistan 8 billion impact analysis" کے لیے 498 نتائج۔
پاکستانی فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین بجٹ وضاحتی سرکلر میں سروسز اور مخصوص ڈیٹ سیکیورٹیز پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرحوں میں اہم ترامیم کا اعلان کیا گیا ہے
1.3560GBP/USD کے قریب مستحکم ہے۔ UK inflation کے 2.9% تک بڑھنے سے BoE کی سخت monetary policy کی توقعات نے پاؤنڈ کو support دیا ہے، جبکہ US PPI اور CPI data امریکی Dollar کی اگلی direction کے لیے اہم رہیں گے۔ 1.3500 اہم support اور 1.3600 key resistance ہے۔ 1.3600 کے اوپر breakout سے 1.3650 کی طرف upside ممکن ہے، جبکہ 1.3500 سے نیچے break ہونے پر 1.3450 کی طرف selling pressure بڑھ سکتا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ایک بار پھر شدید مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے جہاں کاروباری ہفتے کے دوران Middle East conflict کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے گئے۔
1.1640EUR/USD کے قریب مستحکم ہے، جبکہ مارکیٹ کی توجہ ECB کے interest rate decision، Christine Lagarde کے comments اور Eurozone کی 3.3% inflation پر ہے۔ ECB سے interest rate کو 2.50% تک بڑھانے کی توقع ہے۔ دوسری جانب US PPI اور CPI inflation data Federal Reserve کی rate expectations اور US dollar کی direction کو متاثر کر سکتے ہیں۔ Oil prices کا 100 per barrel dollar سے اوپر رہنا بھی inflation concerns میں اضافہ کر رہا ہے، جبکہ US Treasury yields میں اضافے سے dollar کو support مل سکتا ہے۔ Technical analysis میں 1.1600 اہم support جبکہ 1.1700 اہم resistance ہے۔ 1.1700 کے اوپر breakout ہونے پر 1.1750 کی طرف مزید upside ممکن ہے، جبکہ 1.1600 سے نیچے break ہونے پر 1.1550 کی طرف selling pressure بڑھ سکتا ہے۔
پاکستانی روپیہ انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی استحکام دکھا رہا ہے، جو 277.28 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ صورتحال عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی درآمدی دباؤ کے درمیان ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے۔
153.00USD/JPY کے قریب trade کر رہا ہے اور Japanese Yen کی مضبوطی کے باعث Dollar پر bearish pressure برقرار ہے۔ BoJ کی ممکنہ rate hike اور مزید monetary tightening کی توقعات Yen کو support دے رہی ہیں، جبکہ Dollar US inflation data کی اگلی direction کے لیے اہم ہوگا۔ Technical Analysis میں 152.12 اہم support ہے، جس کے break ہونے پر 149.30 تک decline کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ اوپر کی جانب 154.39 پہلی resistance اور 154.88 اہم resistance ہے۔ 154.88 کے اوپر USD/JPY sustained move میں recovery کا امکان بڑھا سکتا ہے، جبکہ اس level کے نیچے رہنے سے bearish outlook برقرار رہ سکتا ہے۔
AUD/USD میں تیزی کا رجحان مضبوط ہو رہا ہے اور آسٹریلوی ڈالر کئی ماہ کی بلند سطح کے قریب پہنچ گیا ہے۔ RBA کی جانب سے شرح سود میں ممکنہ اضافے کی توقعات AUD کو سپورٹ دے رہی ہیں، جبکہ آسٹریلیا میں مہنگائی ہدف سے اوپر اور روزگار کی صورتحال نسبتاً مضبوط ہے۔ دوسری جانب کمزور Consumer Sentiment اور بلند شرح سود صارفین پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ US Dollar کے لیے آنے والا PPI اور CPI data اہم ہے۔ مضبوط امریکی Inflation سے US Dollar کو سپورٹ مل سکتی ہے اور AUD/USD پر دباؤ آ سکتا ہے، جبکہ کمزور Inflation پیئر کو مزید اوپر لے جا سکتی ہے۔ Technical Analysis میں 0.7278، 0.7300 اور 0.7350 اہم Resistance levels ہیں، جبکہ 0.7200، 0.7150 اور 0.7100 اہم Support levels ہیں۔ 0.7278 کے اوپر Breakout مزید تیزی کا راستہ کھول سکتا ہے، جبکہ 0.7200 سے نیچے جانے سے Correction کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ مجموعی طور پر 0.7200 کے اوپر AUD/USD کا Bias Bullish ہے۔
Bitcoin $78,000 کی اہم سطح پر استحکام دکھا رہا ہے، جس میں ETF flows اور on-chain metrics سے مضبوط حمایت حاصل ہے۔ مارکیٹ halving cycle کے بعد کی ریلی کے لیے بنیاد بنا رہی ہے، لیکن $79,000 پر فوری مزاحمت برقرار ہے۔
حالیہ دنوں میں Pakistan LNG کے تناظر میں، پاکستان کو قطر سے مائع قدرتی گیس ( LNG) کی نئی کھیپ موصول ہونے کی اطلاعات ہیں
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی آنے والی مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کے اجلاس میں شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کا امکان ہے۔ یہ کمی کم ہوتی ہوئی افراطِ زر اور معاشی سرگرمیوں کو متحرک کرنے کی ضرورت کے پیش نظر ہے۔ تاہم، بیرونی کھاتوں پر دباؤ اور عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال SBP کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
پاکستانی روپے نے آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی گراوٹ کو روکا ہے اور 277.53 پر ٹریڈ کر رہا ہے، جو پچھلے سیشن کے مقابلے میں معمولی بہتری ہے۔ تاہم، عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی درآمدی دباؤ کے پیش نظر یہ استحکام نازک ہے۔
امریکی ہنگامی خام تیل ذخیرہ (SPR) گزشتہ ہفتے تقریباً 12 لاکھ بیرل کم ہوکر 28 کروڑ 54 لاکھ بیرل رہ گیا؛ یہ نومبر 1982 کے بعد کم ترین سطح ہے۔ مارچ میں ذخیرہ تقریباً 41 کروڑ 50 لاکھ بیرل تھا؛ اس تقابلی مقدار سے موجودہ سطح تقریباً 12 کروڑ 96 لاکھ بیرل، یعنی 31 فیصد کم بنتی ہے۔ امریکہ نے 17 کروڑ 20 لاکھ بیرل جاری کرنے کا اعلان کیا تھا، جو عالمی سطح پر 40 کروڑ بیرل تیل اور تیار مصنوعات کی مربوط فراہمی کے منصوبے کا حصہ ہے۔ تبادلے کے تحت حاصل کیا گیا تیل کمپنیوں کو اضافی بیرل کے ساتھ واپس کرنا ہے؛ تاہم مستقبل کی واپسی موجودہ دستیاب ذخیرے میں شمار نہیں کی جاسکتی۔ Brent تقریباً 98 ڈالر کے آس پاس اور خلیجی رسد خطرات کی زد میں ہے؛ کم SPR فوری امریکی قلت ثابت نہیں کرتا، مگر نئے جھٹکے سے نمٹنے کی گنجائش محدود کرتا ہے۔ تجارتی ذخائر اور ملکی پیداوار اس سے الگ ہیں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں