اگست کی تجارتی رپورٹ Chinese Trade Balance نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ چینی معیشت عالمی سپلائی چین (Supply Chain) میں کتنی گہری جڑیں رکھتی ہے۔
"positive rally in psx after investment in oil and gas sector" کے لیے 553 نتائج۔
اگست کی تجارتی رپورٹ Chinese Trade Balance نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ چینی معیشت عالمی سپلائی چین (Supply Chain) میں کتنی گہری جڑیں رکھتی ہے۔
USD/JPY میں اس وقت Bearish Pressure برقرار ہے کیونکہ US Dollar Japanese Yen کے مقابلے میں مضبوط ہو رہا ہے۔ Bank of Japan کی Rate Hike Expectations، مضبوط Wage Growth اور Carry Trade Unwinding ین کو Support دے رہے ہیں۔ Technical Analysis کے مطابق 153.00 اہم Support Level ہے۔ اس کے نیچے Break ہونے کی صورت میں 152.50Pair اور 151.50 کی طرف جا سکتا ہے۔ دوسری طرف 154.00 اور 155.00 اہم Resistance Levels ہیں۔ آنے والا USD/JPY US CPI Data کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔ مضبوط US Inflation Data ڈالر کو Support دے سکتا ہے، جبکہ کمزور Pair Data پر مزید Selling Pressure بڑھا سکتا ہے۔
AUD/USD اس وقت 0.72 کے اوپر مضبوط ہے اور اس کا short term trend مثبت نظر آ رہا ہے۔ مضبوط Australian GDP growth اور RBA کی شرح سود میں اضافے کی توقعات Australian Dollar کو سپورٹ کر رہی ہیں۔ دوسری جانب Fed کی شرح سود کی پالیسی اور US CPI رپورٹ pair کی اگلی سمت کے لیے اہم ہوں گی۔ 0.7225 اہم resistance ہے، جبکہ 0.7198 اور 0.7180 اہم support levels ہیں۔ 0.7225 کے اوپر مضبوط break ہونے کی صورت میں 0.7278AUD/USD کی طرف بڑھ سکتا ہے، جبکہ 0.7198 سے نیچے جانے پر مزید correction کا امکان بڑھ سکتا ہے۔
بٹ کوائن 79,000 ڈالر کی حد کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے جبکہ مارکیٹ میں کیپیٹل روٹیشن (capital rotation) جاری ہے۔
فنانشل مارکیٹس میں جب بھی حکومتیں یا ریاستی ادارے بڑے پیمانے پر اشیاء کی درآمد و برآمد کے فیصلے کرتے ہیں، تو اس کے اثرات براہ راست کموڈیٹی مارکیٹس (Commodity Markets) پر مرتب ہوتے ہیں
کرپٹو کرنسی کی دنیا میں سکیورٹی کے مسائل ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہے ہیں۔ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران Liquid Network exploit نے پوری مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیاہے
USD/JPY میں Selling Pressure برقرار ہے۔ BoJ کی Rate Hike Expectations سے Japanese Yen مضبوط ہو رہا ہے۔ Carry Trade Unwinding بھی Yen کو Support دے رہی ہے۔ 160.00 کے قریب Japanese Intervention Risk اہم ہے۔ دوسری طرف مضبوط US Jobs Data اوDollar Fed Rate Expectations کو Support دے رہی ہیں۔ US CPI Data اگلی بڑی Market Move کے لیے اہم ہوگا۔ 155.00 اہم Support ہے، جبکہ 157.50 Key Resistance ہے۔ 155.00 کے نیچے Pair 154.00 اور 153.50 کی طرف جا سکتا ہے۔ 157.50 کے اوپر Breakout کی صورت میں 159.00 اور 160.00 کی طرف Recovery ممکن ہے۔ مجموعی طور پر USD/JPY کا Short Term Bias Cautiously Bearish ہے۔
AUD/USD میں Australian Dollar کی سمت کئی اہم عوامل سے متاثر ہو رہی ہے۔ RBA کی interest rate توقعات اور Fed کی monetary policy مارکیٹ کے اہم عوامل ہیں۔ US CPI اور PPI جیسے inflation data سے USD کی strength متاثر ہو سکتی ہے۔ Australia کے GDP، inflation اور employment data بھی اہم ہیں۔ China کی economic growth اور iron ore demand AUD کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ Commodity prices اور global risk sentiment بھی Pair کی movement پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ Technical Analysis میں 0.7150، 0.7100 اور 0.7000 اہم Support levels ہیں جبکہ 0.7200، 0.7250 اور 0.7300 اہم Resistance levels ہیں۔ آنے والے economic data اور central bank expectations AUD/USD کی اگلی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا KSE-100 انڈیکس 174,600 کی اہم سپورٹ سطح سے اوپر برقرار رہنے میں کامیاب رہا، جس نے پچھلی بیئرش تھیسس کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ یہ مارکیٹ میں استحکام کی کوششوں کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم، پائیدار رجحان کے لیے وسیع تر شرکت کی ضرورت ہے۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,420 کی اہم سپورٹ سطح کے قریب مستحکم ہے، جبکہ DXY میں معمولی کمی نے قلیل مدتی ریلیف فراہم کی ہے۔ تاہم، امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی سخت پالیسی کے امکانات سونے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
پاکستانی روپے (PKR) میں انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے، جو 277.60 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ رجحان درآمدی ادائیگیوں کے دباؤ، عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی طلب میں اضافے کا نتیجہ ہے۔ پچھلی 276.50 کی سطح اب اہم سپورٹ کے طور پر کام کر رہی ہے، جبکہ مارکیٹ نئی مزاحمت کی سطحوں کو جانچ رہی ہے۔
یورو بانڈ فنانسنگ: پاکستان نے دو حصوں (Dual-Tranche) پر مشتمل 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کیے، جن کے لیے عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے 6 ارب ڈالر کی زبردست مانگ سامنے آئی۔ مہنگائی کی بحالی: اگست میں قومی سالانہ CPI بڑھ کر 11.1 فیصد ہو گئی، جبکہ شہری کور افراطِ زر 8.8 فیصد اور دیہی کور 8.5 فیصد پر برقرار رہی۔ تجارتی خسارے کا پھیلاؤ: جولائی اور اگست میں تجارتی خسارہ 18.1 فیصد بڑھ کر 7.12 ارب ڈالر تک جا پہنچا، کیونکہ درآمدات کی رفتار برآمدات سے تقریباً دو گنا تیز رہی۔ اسٹیٹ بینک کے ذخائر: 28 اگست تک مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر 17.12 ارب ڈالر اور مجموعی ملکی سیال ذخائر 22.53 ارب ڈالر رہے، جبکہ انٹربینک میں USD/PKR ریٹ 277.41 پر مستحکم رہا۔ عالمی تیل کا خطرہ: برینٹ خام تیل ہفتے کے اختتام پر 92.68 ڈالر پر بند ہوا؛ 5 ستمبر سے ڈیزل کی قیمت میں 3.74 روپے کا اضافہ معیشت میں پیداواری لاگت کے نئے خدشات پیدا کر رہا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں