چین کی وزارتِ خزانہ کی جانب سے تقریباً 54 ارب ڈالر، یعنی لگ بھگ 360 ارب یوآن، کے بڑے Capital Injection نے اسی لیے عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی ہے۔
"us pce report released which caused uncertainity in us dollar index" کے لیے 560 نتائج۔
چین کی وزارتِ خزانہ کی جانب سے تقریباً 54 ارب ڈالر، یعنی لگ بھگ 360 ارب یوآن، کے بڑے Capital Injection نے اسی لیے عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی ہے۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,400 کی نفسیاتی سطح پر استحکام دکھا رہی ہے، جبکہ DXY میں معمولی کمی نے اسے کچھ ریلیف فراہم کیا ہے۔ تاہم، امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی سخت مانیٹری پالیسی کے امکانات سونے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں، جس سے 'bearish trend continuation' کے ساتھ 'range-bound consolidation' کا رجحان غالب ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی گراوٹ جاری رکھے ہوئے ہے، آج 277.62 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی ڈالر کی مضبوطی اس رجحان کے اہم محرکات ہیں۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,420 کی اہم سپورٹ سطح کے قریب مستحکم ہے، جبکہ DXY میں معمولی کمی نے قلیل مدتی ریلیف فراہم کی ہے۔ تاہم، امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی سخت پالیسی کے امکانات سونے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,420 کی نفسیاتی سپورٹ کے قریب استحکام دکھا رہی ہے، جبکہ DXY میں معمولی کمی نے قلیل مدتی ریلیف فراہم کی ہے۔ تاہم، امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی سخت مانیٹری پالیسی کے امکانات سونے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں، جس سے 'bearish trend continuation' کا رجحان غالب ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں انٹربینک مارکیٹ میں اپنی قدر میں مزید کمی کا شکار ہے، جو 277.60 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات ہیں۔
بنیادی سفارش: نارجس بینک انویسٹمنٹ مینجمنٹ (NBIM) نے اپنے بانڈ اشاریے میں سرکاری بانڈز کا وزن 70 فیصد سے کم کر کے 50 فیصد کرنے کی باضابطہ تجویز دی ہے۔ امریکی ٹریژریز پر اثر: نئی ساخت نافذ ہونے کی صورت میں امریکی سرکاری قرض میں فنڈ کی ہولڈنگز میں اندازاً 80 ارب ڈالر کی کمی بن سکتی ہے۔ وزن میں ردوبدل: بینچ مارک میں امریکی سرکاری قرض کا حصہ 34.1 فیصد سے کم ہو کر 21.9 فیصد رہ جائے گا، تاہم مجموعی امریکی ڈالر اثاثوں کا وزن 52.5 فیصد کے قریب مستحکم رہے گا۔ نفاذ کا ٹائم فریم: یہ فوری فروخت نہیں ہے؛ قانون سازوں کی منظوری کی صورت میں بھی اس پالیسی پر عملی عمل درآمد 2027 کے وسط سے پہلے متوقع نہیں۔ حکمتِ عملی کا اصل رخ: یہ پیش رفت امریکی ڈالر سے انخلا نہیں، بلکہ امریکی سرکاری بانڈز سے سرمایہ نکال کر نسبتاً زیادہ منافع بخش مارگیج بیکڈ سیکیورٹیز اور دیگر امریکی کارپوریٹ قرضوں میں منتقل کرنے کی اندرونی ری بیلنسنگ ہے۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) نے $4,454.99 کی اہم سطح سے اوپر 'daily close' دے کر قلیل مدتی استحکام کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم DXY کی مضبوطی اور بڑھتی ہوئی امریکی ٹریژری ییلڈز سونے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اس پیش رفت نے پچھلی 'bearish invalidation' سطح کو چیلنج کیا ہے، لیکن مجموعی 'bearish trend' اب بھی غالب ہے۔
توانائی کی عالمی مارکیٹس میں اس وقت شدید غیر یقینی صورتحال جاری ہے۔، جہاں WTI Crude Oil prices Strait of Hormuz آبنائے ہرمز کے گرد گھومتی ہوئی صورتحال اور جغرافیائی سیاسی تنازعات کی وجہ سے قیمتیں 89.50 ڈالر کے قریب مستحکم ہیں۔
بیرونی تجارت کا توازن ہمیشہ سے ہی ملکی معیشت کی صحت کا سب سے بڑا عکاس رہا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کا Trade Deficit مالی سال 2026-27 کے پہلے دو ماہ میں 18.1 فیصد اضافے کے ساتھ 7.12 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
کرپٹو کرنسی کی دنیا میں اس بار نہ صرف مجموعی مارکیٹ میں بہتری آئی ہے، بلکہ چند خاص شعبوں نے حیرت انگیز ریکارڈ بھی قائم کیے ہیں۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) اپنی 'bearish trend continuation' کو برقرار رکھے ہوئے ہے، جو $4,454.99 کی سابقہ سپورٹ سطح کے نیچے ایک مستحکم 'daily close' کے بعد مزید مضبوط ہوئی ہے۔ DXY کی مسلسل مضبوطی سونے پر دباؤ ڈال رہی ہے، جبکہ امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ 'non-yielding' سونے کی کشش کو کم کر رہا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں