امریکی وال اسٹریٹ پر میگا کیپ اسٹاکس اور مالیاتی سیکٹر کی ملا جلی کارکردگی نے انڈیکس کو رینج باؤنڈ رکھا ہوا ہے۔ اینویڈیا کی قیادت میں مصنوعی ذہانت کا شعبہ مستحکم ہے جبکہ بینکنگ اور کچھ ٹیک جائنٹس پر مسلسل دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔
"indices news" کے لیے 625 نتائج۔
امریکی وال اسٹریٹ پر میگا کیپ اسٹاکس اور مالیاتی سیکٹر کی ملا جلی کارکردگی نے انڈیکس کو رینج باؤنڈ رکھا ہوا ہے۔ اینویڈیا کی قیادت میں مصنوعی ذہانت کا شعبہ مستحکم ہے جبکہ بینکنگ اور کچھ ٹیک جائنٹس پر مسلسل دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔
عالمی سرکاری بانڈ مارکیٹ میں امریکی ٹریژری کی قیادت میں 'اسٹیپننگ' کا رجحان مزید گہرا ہو گیا ہے۔ US 10Y ییلڈ 5.162% تک بڑھ گئی ہے جبکہ US 2Y ییلڈ میں کمی آئی ہے، جو مستقبل میں مضبوط معاشی نمو اور افراط زر کی توقعات میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ پیش رفت فیڈرل ریزرو کی مستقبل کی پالیسی کے بارے میں مارکیٹ کی توقعات کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
فیڈرل ریزرو کے حالیہ FOMC اجلاس کے بعد 'ڈاٹ پلاٹ' میں شرح سود کی پیش گوئی میں نمایاں اضافے نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں 'گروتھ اسکیئر' کو گہرا کر دیا ہے۔ امریکی 10 سالہ ٹریژری ییلڈ 5.162% کی 2007 کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جبکہ ڈالر مستحکم ہے اور ابھرتی ہوئی معیشتوں پر سرمائے کے اخراج کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ چیئرمین پاول کے بیانات نے 'بلند شرح سود طویل عرصے تک' کے بیانیے کو مزید تقویت دی ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیاں ایک 'رسک-آن' ماحول میں مزید مستحکم ہو رہی ہیں، جس کی بنیادی وجہ امریکی افراط زر (US CPI) میں مسلسل کمی اور مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود میں کمی کے بڑھتے ہوئے امکانات ہیں۔ ڈالر (DXY) پر دباؤ بڑھ رہا ہے جبکہ کیری ٹریڈز (carry trades) میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے عالمی ایکویٹی مارکیٹوں کو تقویت مل رہی ہے۔
توانائی کی مارکیٹس میں اس وقت غیر یقینی صورتحال جاری ہے کیونکہ ڈبلیو ٹی آئی کروڈ آئل (WTI Crude Oil) کی قیمتیں 92 ڈالر کی نفسیاتی حد سے نیچے آ گئی ہیں۔ ایشیائی سیشن کے دوران اس کمی نے تیل کی دو روزہ مسلسل تیزی کے تسلسل کو توڑ دیا ہے
مشرق وسطیٰ کے نازک حالات میں پاکستان اور ترکی کا سعودی عرب کے ساتھ غیر متزلزل اظہارِ یکجہتی اور مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کے تحت مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا خطے کی سیاست میں ایک اہم موڑ ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی آئندہ میٹنگ میں پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس کی کمی کر سکتی ہے۔ اگست میں افراط زر 11.10% پر آ گیا ہے، جو موجودہ پالیسی ریٹ 11.50% سے کم ہے، جس سے حقیقی شرح سود مثبت ہو گئی ہے۔ یہ صورتحال معاشی سرگرمیوں کو سہارا دینے کے لیے شرح سود میں کمی کی راہ ہموار کرتی ہے۔
پاکستان کی معیشت میں آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات اور متوازن بیرونی کھاتوں کے باعث استحکام آ رہا ہے۔ افراطِ زر میں کمی کے بعد مرکزی بینک کی طرف سے شرح سود میں مزید نرمی کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔
چینی صدر شی جن پنگ کے دورہ واشنگٹن US China Summit کے دوران جو اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی اور اسکے بعد جاری کئے جانیوالے بیانات نے عالمی معیشت کا رخ بدلنے کی صلاحیت کو اجاگر کیا ہے
OpenAI Agent کی طرف سے آسٹریلوی حکومت کی ویب سائٹ ہیک کرنے کا یہ پہلا ممکنہ باضابطہ واقعہ نہ صرف مصنوعی ذہانت کی لامحدود صلاحیتوں کا عکاس ہے
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 انڈیکس آج 0.62% کی گراوٹ کے ساتھ 170,499 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 170,000 کی نفسیاتی اور تکنیکی حمایت کے بہت قریب ہے۔ یہ پیش رفت مارکیٹ کے 'حد میں رہنے' (range-bound) کے رجحان میں نچلی جانب جھکاؤ کو ظاہر کرتی ہے، اور اگلے سیشن میں اس اہم سطح کے دفاع یا ٹوٹنے پر نظریں مرکوز ہوں گی۔
عالمی سرکاری بانڈ مارکیٹ میں امریکی ٹریژری کی قیادت میں ایک واضح 'اسٹیپننگ' کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، جہاں طویل مدتی ییلڈز میں اضافہ جبکہ قلیل مدتی ییلڈز میں نسبتاً استحکام یا کمی آ رہی ہے۔ یہ صورتحال مستقبل میں معاشی نمو اور افراط زر کی توقعات میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ DXY میں کمی عالمی رسک سینٹیمنٹ میں بہتری کی نشاندہی کرتی ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں