پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 انڈیکس 168,155 پر گراوٹ کے ساتھ بند ہوا، جبکہ کارپوریٹ نتائج کے سیزن سے قبل انسٹی ٹیوشنل فنڈز کا توجہ بینکنگ، ای اینڈ پی اور فرٹیلائزر سیکٹرز پر مرکوز ہے۔
"how will todays economic day impact your trade" کے لیے 732 نتائج۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 انڈیکس 168,155 پر گراوٹ کے ساتھ بند ہوا، جبکہ کارپوریٹ نتائج کے سیزن سے قبل انسٹی ٹیوشنل فنڈز کا توجہ بینکنگ، ای اینڈ پی اور فرٹیلائزر سیکٹرز پر مرکوز ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس 11.10 فیصد افراطِ زر اور 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کی موجودگی کے باعث 40 بیسس پوائنٹس کی مثبت حقیقی شرحِ سود موجود ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی میٹنگ میں شرحِ سود میں 50 تا 100 بیسس پوائنٹس کمی کا راستہ صاف نظر آتا ہے۔
آسٹریلین ڈالر نے امریکی لیبر مارکیٹ کے کمزور اعداد و شمار کے بعد ایشیائی سیشن کے آغاز میں مثبت رجحان دکھاتے ہوئے 0.6950 کی سطح کو عبور کر لیا ہے۔ اس وقت مارکیٹ کے شرکاء اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ کس طرح امریکہ اور آسٹریلیا کے معاشی اشاریے AUDUSD کو متاثر کر رہے ہیں۔
EUR/USD کی قیمت 1.12513 پر محدود رہتے ہوئے 0.34 فیصد گراوٹ کا شکار ہے، جہاں امریکی 10 سالہ ییلڈ میں اضافے نے ڈالر کے پلے کو مضبوط رکھا ہے۔
امریکی 10 سالہ ٹریژری ییلڈ 5.277 فیصد تک بڑھنے اور 2 سالہ ییلڈ گرنے سے 2s10s اسپریڈ 85.5 بیسس پوائنٹس تک پہنچ گیا ہے۔ بڑھتا ہوا ٹرم پریمیم عالمی قرض منڈیوں میں دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
امریکی افراط زر کی 3.35 فیصد سطح اور 10 سالہ ٹریژری ییلڈ کے 5.277 فیصد پر استحکام نے فیڈرل ریزرو کی سخت پالیسی طویل تر رکھنے کی توثیق کر دی ہے، جس سے ڈالر انڈیکس 101.92 پر کھڑا ہو کر عالمی اثاثوں کو متاثر کر رہا ہے۔
Ethereum پچھلی چوٹی سے پیچھے ہٹنے کے بعد $2,696 کے قریب ایک تنگ انٹرا ڈے رینج میں داخل ہو گیا ہے، جہاں سرمایہ کار اگلے فیصلے کے منتظر ہیں۔
بٹ کوائن نے 0.52 فیصد اضافے کے ساتھ 85,012 ڈالر کی سطح حاصل کر لی ہے۔ موجودہ مارکیٹ سٹرکچر، 84,713 ڈالر کی کلیدی انٹرا ڈے سپورٹ اور آگے کے اہم محرکات کا جامع تجزیہ۔
بٹ کوئن 84,620 ڈالر کے پسپائی کے بعد 85,012 ڈالر پر بحال ہوا ہے جبکہ ایتھیریم 2,696 ڈالر پر مستحکم ہے۔ پاکستانی مارکیٹ میں USDT 276.81 روپے پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔
پاکستان انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر 276.83 روپے کی سطح پر دیکھا جا رہا ہے۔ 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور مثبت حقیقی شرح سود کے باعث روپیہ محدود رینج میں مستحکم ہے۔ پڑھیں مکمل فاریکس تجزیہ۔
پاکستان کی معیشت 11.50% پالیسی ریٹ اور 11.10% افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ بیرونی کھاتوں کے استحکام اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت USD/PKR 276.83 پر متوازن قائم ہے۔
ڈالر انڈیکس (DXY) کی 101.92 پر پیش قدمی کے نتیجے میں عالمی سونا $4,140.52 کی سطح پر آ گیا ہے۔ پاکستان میں 24 قیراط سونا 441,000 روپے فی تولہ پر برقرار ہے جبکہ تکنیکی ڈھانچہ بئریش دباؤ کی نشان دہی کر رہا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں