جاپانی وزیراعظم ثنائ تاکائچی (Sanae Takaichi) نے پارلیمنٹ سے اپنے پالیسی خطاب میں مالیاتی نظم و ضبط (Fiscal Discipline) قائم رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
"litecoin value increased with record buying and profit" کے لیے 775 نتائج۔
جاپانی وزیراعظم ثنائ تاکائچی (Sanae Takaichi) نے پارلیمنٹ سے اپنے پالیسی خطاب میں مالیاتی نظم و ضبط (Fiscal Discipline) قائم رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر شدید فروخت کا رجحان دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں KSE100 انڈیکس ایک ہزار پوائنٹس پوائنٹس نیچے آ گیا۔ عالمی معاشی دباؤ، بڑھتی ہوئی امریکی ٹریژری ییلڈز ، اور مقامی معاشی اشاریوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔
بینک آف جاپان کے ڈپٹی گورنر شینیچی اوچیڈا نے ایک اہم بیان میں انکشاف کیا ہے کہ BOJ AI Monetary Policy کے فیصلوں میں اب ایک مرکزی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔
یورو اور امریکی ڈالر (EUR/USD) کی قیمت 1.12500 کے قریب استحکام کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) کے 102.37 پر پہنچنے کے باوجود EUR/USD میں +0.22% کا مثبت تحرک دیکھا جا رہا ہے، جس سے مارکیٹ میں متوازن خریدو فروخت کی عکاسی ہوتی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 انڈیکس 168,155 پر گراوٹ کے ساتھ بند ہوا، جبکہ کارپوریٹ نتائج کے سیزن سے قبل انسٹی ٹیوشنل فنڈز کا توجہ بینکنگ، ای اینڈ پی اور فرٹیلائزر سیکٹرز پر مرکوز ہے۔
آسٹریلین ڈالر نے امریکی لیبر مارکیٹ کے کمزور اعداد و شمار کے بعد ایشیائی سیشن کے آغاز میں مثبت رجحان دکھاتے ہوئے 0.6950 کی سطح کو عبور کر لیا ہے۔ اس وقت مارکیٹ کے شرکاء اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ کس طرح امریکہ اور آسٹریلیا کے معاشی اشاریے AUDUSD کو متاثر کر رہے ہیں۔
عالمی فاریکس مارکیٹ میں امریکی ڈالر انڈیکس 101.92 کی سطح پر منجمد ہے، جب کہ بینک آف انگلینڈ کے اشاروں نے GBP/USD کو 1.32204 تک اٹھایا اور پاکستانی روپیہ 276.83 پر مستحکم ہوا۔
امریکی افراط زر کی 3.35 فیصد سطح اور 10 سالہ ٹریژری ییلڈ کے 5.277 فیصد پر استحکام نے فیڈرل ریزرو کی سخت پالیسی طویل تر رکھنے کی توثیق کر دی ہے، جس سے ڈالر انڈیکس 101.92 پر کھڑا ہو کر عالمی اثاثوں کو متاثر کر رہا ہے۔
پاکستان انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر 276.83 روپے کی سطح پر دیکھا جا رہا ہے۔ 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور مثبت حقیقی شرح سود کے باعث روپیہ محدود رینج میں مستحکم ہے۔ پڑھیں مکمل فاریکس تجزیہ۔
پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق ہیڈلائن افراط زر 11.10 فیصد پر آنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کے باعث مثبت حقیقی شرح سود بحال ہو چکی ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی اجلاس میں مزید ریٹ کٹ کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔
پاکستان کی معیشت 11.50% پالیسی ریٹ اور 11.10% افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ بیرونی کھاتوں کے استحکام اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت USD/PKR 276.83 پر متوازن قائم ہے۔
ڈالر انڈیکس (DXY) کی 101.92 پر پیش قدمی کے نتیجے میں عالمی سونا $4,140.52 کی سطح پر آ گیا ہے۔ پاکستان میں 24 قیراط سونا 441,000 روپے فی تولہ پر برقرار ہے جبکہ تکنیکی ڈھانچہ بئریش دباؤ کی نشان دہی کر رہا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں