حالیہ برسوں میں وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان بڑھتے ہوئے معاشی روابط نے پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات کو ایک نئی سمت دی ہ
"gold trades in narrow range as investors are cautius" کے لیے 562 نتائج۔
حالیہ برسوں میں وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان بڑھتے ہوئے معاشی روابط نے پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات کو ایک نئی سمت دی ہ
عالمی جیو پولیٹیکل کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فضائی حملوں کے بعد ایران کے ردعمل کے خدشات نے عالمی فنانشل مارکیٹس میں ایک بڑا زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ اس ناگہانی صورتحال نے نہ صرف روایتی اسٹاک مارکیٹس اور بانڈز کو ہلایا ہے بلکہ ڈیجیٹل اثاثوں، بالخصوص Crypto Market کو بھی شدید دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔
1.3500GBP/USD کے قریب دباؤ میں ہے۔ US Dollar کی مضبوطی نے Pound Sterling پر دباؤ بڑھایا ہے۔ US Treasury Yields بھی Dollar کو سپورٹ کر رہی ہیں۔ مارکیٹ Fed کی آئندہ پالیسی پر نظر رکھ رہی ہے۔ UK میں Pound کو بھی مختلف اقتصادی خدشات کا سامنا ہے۔ Technical Analysis میں 1.3500 اہم Support ہے۔ 1.3450 اور 1.3400 اگلے Support Levels ہیں۔ اوپر 1.3550 اور 1.3600 اہم Resistance Levels ہیں۔ 1.3650 اور 1.3780 مزید اہم Resistance ہیں۔ 1.3500 سے نیچے جانے پر مزید کمی کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ 1.3550 سے اوپر آنے پر recovery کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ مارکیٹ کی توجہ اب US Jobs Data اور Fed کے اگلے فیصلے پر ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر شدید فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک KSE100 انڈیکس ابتدائی کاروبار کے دوران تقریباً 1300 پوائنٹس تک گر گیا
آج ایشیائی سیشنز میں بھی عالمی بانڈ مارکیٹس میں شدید فروخت کا رجحان دیکھا گیا ہے، جس کے نتیجے میں سرکاری بانڈز کی Yields اور قرض لینے کے اخراجات کئی دہائیوں کی بلند سطحوں تک پہنچ گئے ہیں۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) اپنی 'bearish trend continuation' کو برقرار رکھے ہوئے ہے، جو $4,454.99 کی سابقہ سپورٹ سطح کے نیچے ایک مستحکم 'daily close' کے بعد مزید مضبوط ہوئی ہے۔ DXY کی مسلسل مضبوطی سونے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ مقامی مارکیٹ میں بھی قیمتوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) نے امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر میں مزید کمی کی ہے، انٹربینک مارکیٹ میں 277.87 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس گراوٹ کی اہم وجوہات ہیں۔
ریزرو بینک آف نیوزی لینڈ نے اپنیMonetary Policy میٹنگ کے بعد شرح سود میں 25 بنیادی پوائنتس کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 2.50 فیصد سے بڑھا کر 2.75 فیصد کر دیا ہے
امریکی ڈالر میں کچھ کمزوری کی وجہ سےآج لندن سیشن کے دوران EUR/USD میں محدود تیزی رہی، لیکن ابھی بھی Fed اور ECB کی monetary policy expectations کے درمیان فرق کی وجہسے pair کی مجموعی direction متاثر ہو رہی ہے۔ آنے والے یورپی معاشی ڈیٹا میں بہتری یورو کو support فراہم کر سکتی ہے، اس کے برعکس اگر امریکی data بہتری دکھاتے ہیں تو dollar کی demand دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔ دوسری طرف U.S. Treasury yields اور German Bund yields کے درمیان spread کا فرق بھی EUR/USD کے لیے نہایت اہم ہے۔ موجودہ price action کے حالات دیکھتے ہووے traders ابھی کسی واضح ڈائریکشن کے لیے macro signals کا انتظار کر رہے ہیں، اس لیے London session میں ہونے والی initial move کو final trend سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔
0.72level AUD/USD کے قریب محتاط انداز میں ٹریڈ کر رہا ہے۔ RBA کی سخت پالیسی کی توقعات Australian Dollar کو سپورٹ دے رہی ہیں، جبکہ مضبوط US Dollar اور Fed کی Interest Rate expectations pair کی تیزی کو محدود کر رہی ہیں۔ Australia اور US کے Economic Data، Inflation، Employment، Treasury Yields، China کی Economy اور Global Risk Sentiment اگلی سمت کے لیے اہم رہیں گے۔ Technical طور پر 0.7150، 0.7120 اور 0.7080 اہم Support Levels ہیں، جبکہ 0.7200، 0.7206 اور 0.7250 اہم Resistance Levels ہیں۔ 0.7206 کے اوپر breakout تیزی کو مضبوط کر سکتا ہے، جبکہ 0.7150 کے نیچے break مزید کمی کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔
امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) ستمبر کے آغاز میں مضبوط دکھائی دے رہا ہے، جسے فیڈ کی ہاکش توقعات، بلند US Treasury Yields اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی سے سپورٹ مل رہی ہے۔ 10 سالہ Treasury Yield تقریباً 4.78% تک پہنچ چکی ہے، جبکہ بلند تیل کی قیمتیں مہنگائی کے خدشات بڑھا رہی ہیں۔ تکنیکی طور پر 99.75 سے 100.00 اہم Resistance Zone ہے، جبکہ 99.00 اور 98.70 سے 98.75 اہم Support Levels ہیں۔ اب ISM Manufacturing PMI، JOLTS اور Nonfarm Payrolls جیسے امریکی اعداد و شمار DXY کی اگلی سمت کے لیے اہم ہوں گے۔ مضبوط ڈیٹا ڈالر کو مزید سپورٹ دے سکتا ہے، جبکہ کمزور ڈیٹا DXY پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔
Global Bond Yields میں مسلسل اضافہ، Inflation کے دباؤ اور مشرق وسطی میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں