مشرق وسطیٰ کے تنازع اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث PSX میں شدید فروخت کا رجحان دیکھا گیا، جس سے KSE100 انڈیکس سینکڑوں پوائنٹس نیچے آ گیا۔
"suits from sec is creating problems for legal tokens according to the experts" کے لیے 588 نتائج۔
مشرق وسطیٰ کے تنازع اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث PSX میں شدید فروخت کا رجحان دیکھا گیا، جس سے KSE100 انڈیکس سینکڑوں پوائنٹس نیچے آ گیا۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,370 کی اہم تکنیکی سپورٹ پر استحکام دکھا رہی ہے، جہاں DXY میں معمولی کمی نے 'technical rebound' کی کوشش کو جنم دیا ہے۔ تاہم، امریکی ٹریژری ییلڈز میں مسلسل اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی سخت مانیٹری پالیسی کے امکانات سونے پر بنیادی دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں، جو کسی بھی تیزی کی حرکت کو محدود کر سکتے ہیں۔
نیشنل بیورو آف سٹیٹسٹکس آف چائنا کی جانب سے Chinese CPI کے جو اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں، وہ نہ صرف معاشی ماہرین کی توقعات کے عین مطابق ہیں بلکہ ان کے اندر مستقبل کے کئی اہم تجارتی اشارے بھی چھپے ہیں
ایشیائی سیشن کے دوران مغربی ٹیکساس انٹرمیڈیٹ یعنی WTI Crude Oil کی قیمتیں مسلسل تیسرے روز بڑھتے ہوئے تقریباً 92.30 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کر رہی ہیں۔
امریکی ہنگامی خام تیل ذخیرہ (SPR) گزشتہ ہفتے تقریباً 12 لاکھ بیرل کم ہوکر 28 کروڑ 54 لاکھ بیرل رہ گیا؛ یہ نومبر 1982 کے بعد کم ترین سطح ہے۔ مارچ میں ذخیرہ تقریباً 41 کروڑ 50 لاکھ بیرل تھا؛ اس تقابلی مقدار سے موجودہ سطح تقریباً 12 کروڑ 96 لاکھ بیرل، یعنی 31 فیصد کم بنتی ہے۔ امریکہ نے 17 کروڑ 20 لاکھ بیرل جاری کرنے کا اعلان کیا تھا، جو عالمی سطح پر 40 کروڑ بیرل تیل اور تیار مصنوعات کی مربوط فراہمی کے منصوبے کا حصہ ہے۔ تبادلے کے تحت حاصل کیا گیا تیل کمپنیوں کو اضافی بیرل کے ساتھ واپس کرنا ہے؛ تاہم مستقبل کی واپسی موجودہ دستیاب ذخیرے میں شمار نہیں کی جاسکتی۔ Brent تقریباً 98 ڈالر کے آس پاس اور خلیجی رسد خطرات کی زد میں ہے؛ کم SPR فوری امریکی قلت ثابت نہیں کرتا، مگر نئے جھٹکے سے نمٹنے کی گنجائش محدود کرتا ہے۔ تجارتی ذخائر اور ملکی پیداوار اس سے الگ ہیں۔
بینک آف انگلینڈ ) کے گورنر اینڈریو بیلی (Andrew Bailey) کی جانب سے برطانوی پارلیمنٹ کی ٹریژری کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر افراط زر اور مانیٹری پالیسی پر گواہی دینا معاشی حلقوں میں ایک انتہائی اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج شدید فروخت کا دباؤ دیکھنے میں آیا جب دنیا بھر میں بالخصوص مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے
جنوبی کوریا میں Stablecoins کا نفاذ نہ صرف ملکی ٹریڈرز کو اربوں ڈالر کی سالانہ فیس سے بچا سکتا ہے، بلکہ یہ ملک کے روایتی بینکنگ نظام اور مالیاتی استحکام کے لیے بھی گہرے اثرات کا حامل ہو سکتا ہے۔
عالمی مارکیٹس میں ایک بار پھر جغرافیائی سیاسی تناؤ سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ مغربی ٹیکساس انٹرمیڈیٹ، جو کہ امریکی خام تیل کی قیمتوں کا بنیادی معیار ہے، میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
GBP/USD اس وقت 1.3550 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے اور پاؤنڈ کو معمولی مثبت رفتار حاصل ہے۔ 1.3600 اہم Resistance ہے، جبکہ 1.3471 اہم Support Level ہے۔ US Inflation Data، UK GDP اور Federal Reserve اور Bank of England کی Monetary Policy توقعات اگلی سمت کے لیے اہم رہیں گی۔ 1.3600 سے اوپر Breakout مزید تیزی کا راستہ کھول سکتا ہے، جبکہ 1.3471 سے نیچے کمی کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
EUR/USD نے 1.1600 کے اوپر اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہوئی ہے، جبکہ کمزور US Dollar نے Euro کو support دیا ہے۔ ECB کی interest rate expectations اورpair US inflation data کی اگلی direction کے لیے اہم رہیں گے۔ 1.1600 اہم Support ہے جبکہ 1.1650 اور 1.1700 اہم Resistance Levels ہیں۔ اگر price 1.1700 کے اوپر breakout دیتی ہے تو 1.1800 کی طرف مزید upside کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب 1.1600 کے نیچے break ہونے سے 1.1550 اور 1.1500 کی طرف downside کا risk بڑھ سکتا ہے۔
ایران نے امریکہ کے خلاف براہ راست Iran US economic warfare (ایران اور امریکہ کے درمیان اقتصادی جنگ) اور میزائل حملوں کی دھمکی دی ہے، جس سے نہ صرف خطے میں جنگ کا دائرہ وسیع ہونے کا خدشہ ہے بلکہ عالمی توانائی کی سپلائی لائنز بھی شدید خطرے میں ہیں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں