عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت $4,193.10 فی اونس اور پاکستان میں 24 قیراط سونا 439,500 روپے فی تولہ تک پہنچ گیا ہے۔ ڈالر انڈیکس 101.28 پر قائم رہنے سے مارکیٹ میں رینج باؤنڈ ٹریڈنگ دیکھی جا رہی ہے۔
"state bank of pakistan increased the interest rate" کے لیے 1131 نتائج۔
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت $4,193.10 فی اونس اور پاکستان میں 24 قیراط سونا 439,500 روپے فی تولہ تک پہنچ گیا ہے۔ ڈالر انڈیکس 101.28 پر قائم رہنے سے مارکیٹ میں رینج باؤنڈ ٹریڈنگ دیکھی جا رہی ہے۔
EUR/USD اس وقت 1.1334 کے قریب trade کر رہا ہے۔ امریکی ڈالر کی مضبوطی یورو پر دباؤ بڑھا رہی ہے۔ یورپی معاشی اعداد و شمار بھی اہم رہیں گے۔ 1.1310 اہم support ہے۔ 1.1360 پہلی اہم resistance ہے۔ اس سطح سے اوپر قیمت میں مزید بحالی دیکھی جا سکتی ہے۔ 1.1310 کے نیچے کمی سے 1.1280 اور 1.1250 کی طرف دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
فارماسیوٹیکل انڈسٹری (Pharmaceutical Industry) کے معروف ادارے فیروزسنز لیبارٹریز لمیٹڈ (Ferozsons Laboratories Limited) نے مالی سال 2026 کے لیے اپنے مالیاتی نتائج کا اعلان کر دیا ہے
مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک نیا اور تاریخی موڑ اس وقت آیا جب معروف AI لیب Anthropic نے اپنے آئی پی او (Initial Public Offering) پراسپیکٹس کا باضابطہ اعلان کیا
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے معاشی شمولیت کو فروغ دینے اور مالیاتی وسائل تک آسان رسائی فراہم کرنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ ریگولیٹر نے مائیکرو فنانس اور ہاؤسنگ لونز کی زیادہ سے زیادہ حد کو بڑھا کر 5 ملین روپے کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
حکومتِ پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF Review) کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں اس بات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا کہ کس طرح خطے کے حالات نے ملکی معاشی رفتار کو متاثر کیا۔
فی الوقت، AUDUSD جوڑا 0.7016 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے، جب کہ سرمایہ کاروں کی تمام تر توجہ ریزرو بینک آف آسٹریلیا کے آنے والے مانیٹری پالیسی (Monetary policy) کے فیصلے پر مرکوز ہے۔
آج پاکستان کی صرافہ مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت (Per Tola Gold Price in Pakistan) میں ایک بڑی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس نے سرمایہ کاروں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔
ان دنوں گلوبل مارکیٹ میں USDCAD میں تیزی کا موضوع انتہائی زیرِ بحث ہے، جہاں کینیڈین ڈالر (CAD) کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں شدید دباؤ کا سامنا ہے۔
امریکی فیڈرل ریزرو کی سخت پالیسی اور 10 سالہ ییلڈ کی 5.184 فیصد کی بلند سطح نے عالمی منڈیوں میں ری پرائسنگ کے عمل کو جاری رکھا ہوا ہے۔ افراط زر کے 3.35 فیصد پر قائم رہنے سے ابھرتی ہوئی معیشتوں پر شدید دباؤ ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر ہی فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک KSE100 انڈیکس میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ معاشی اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے سائے میں سرمایہ کاروں کا رسک لینے کا رجحان محدود نظر آتا ہے
عالمی معاشی تناظر میں افراط زر کے اعداد و شمار میں نرمی اور مرکزی بینکوں کے نرم موقف کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ امریکی CPI 3.35% اور DXY 101.16 پر موجود ہیں جس سے کراس ایٹ منڈیوں میں نئی حرکیات جنم لے رہی ہیں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں