آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں 277.78 روپے پر بند ہوا، جس میں 0.31% کا اضافہ دیکھا گیا۔ مہنگائی اور عالمی DXY انڈیکس روپے پر اثرانداز۔
"usdchf plunged after swiss spi beats expectations in march" کے لیے 367 نتائج۔
آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں 277.78 روپے پر بند ہوا، جس میں 0.31% کا اضافہ دیکھا گیا۔ مہنگائی اور عالمی DXY انڈیکس روپے پر اثرانداز۔
EURUSD کا جوڑا 1.1580 کی سطح کے قریب مستحکم ہو رہا ہے۔ لیکن ابھی تک واضح سمت اختیار کرنے میں ناکام ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے اور کشیدگی کے غیر حل شدہ رہنے کے باعث سونا Correction کا شکار ہوا اور ہفتے کا اختتام تقریباً بغیر کسی بڑی تبدیلی کے ہوا۔
مارکیٹ میں اچھی Trading Strategy کے باوجود ایک غلط ٹریڈ بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک کامیاب ٹریڈر صرف منافع کے امکانات نہیں دیکھتا۔ بلکہ نقصان کی حد بھی پہلے سے طے کرتا ہے۔
اس تفصیلی مضمون میں ہم جانیں گے کہ Central Bank کیا ہے، یہ کیسے کام کرتا ہے، اور اس کے فیصلے عالمی و علاقائی معیشت کو کس طرح متاثر کرتے ہیں۔
افراط زر صرف اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کا نام نہیں۔ بلکہ یہ ایک ایسا خاموش طوفان ہے۔ جو کسی بھی ملک کی معیشت، کرنسی کی قدر اور عوام کی قوتِ خرید کو اندر سے کمزور کر دیتا ہے۔
امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی IAEA کے آئندہ اجلاس میں ایران کے معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک بھیجنے والی قرارداد کی حمایت کر رہے ہیں۔ رائٹرز کی جانب سے دیکھے گئے مجوزہ متن کے مطابق قرارداد IAEA کے ڈائریکٹر جنرل سے موجودہ اور سابقہ قراردادیں سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو منتقل کرنے کا مطالبہ کرے گی۔ مجوزہ قرارداد ابھی باضابطہ طور پر جمع نہیں ہوئی، اس لیے ایران کو سلامتی کونسل رپورٹ کیا جانا ابھی منظور شدہ فیصلہ نہیں۔ IAEA کے مطابق ایران نے بمباری سے متاثرہ تنصیبات تک مکمل رسائی بحال نہیں کی اور ایجنسی افزودہ یورینیم کے ذخائر کی موجودہ مقدار کی تصدیق نہیں کر پا رہی۔ اگر قرارداد منظور ہوتی ہے تو یہ تقریباً 20 سال بعد ایران کے جوہری معاملے کو IAEA بورڈ سے سلامتی کونسل تک لے جانے کی ایک بڑی سفارتی کشیدگی ہوگی۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں