Brent Crude Oil آج یورپی سیشنز کے دوران 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد کو عبور کرتے ہوئے چھ ہفتے کی نئی بلندی پر پہنچ گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ میں شدت اختیار کرتی ہوئی کشیدگی اور اہم بحری گزرگاہوں پر ہونے والے حملے ہیں۔
"usdjpy trading in narrow range with fears of change in monetary policy" کے لیے 597 نتائج۔
Brent Crude Oil آج یورپی سیشنز کے دوران 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد کو عبور کرتے ہوئے چھ ہفتے کی نئی بلندی پر پہنچ گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ میں شدت اختیار کرتی ہوئی کشیدگی اور اہم بحری گزرگاہوں پر ہونے والے حملے ہیں۔
معروف انسٹی ٹیوشنل پلیٹ فارم "بٹ مائن ایمریشن ٹیکنالوجیز" نے کرپٹو مارکیٹ میں ایک اور بڑی ہلچل مچاتے ہوئے کروڑوں ڈالر کی مالیت کے مزید ایتھیریئم ٹوکن خرید لیے ہیں۔
او جی ڈی سی ایل (OGDCL) اور ماری (MARI) کی معاونت سے سندھ میں لنڈالی-1 کنویں سے گیس کی پیداوار کا آغاز کر دیا گیا ہے
امریکی وزارت خزانہ نے ایران کے ایوی ایشن سیکٹر کے خلاف سخت ترین اقدامات کا اعلان کیا۔ اس جامع اقدام کے تحت تہران پر اقتصادی دباؤ کو مزید بڑھاتے ہوئے مجموعی طور پر 36 نئے اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے تنازع اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث PSX میں شدید فروخت کا رجحان دیکھا گیا، جس سے KSE100 انڈیکس سینکڑوں پوائنٹس نیچے آ گیا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی آنے والی مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کے اجلاس میں شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کا امکان ہے۔ یہ کمی کم ہوتی ہوئی افراطِ زر اور معاشی سرگرمیوں کو متحرک کرنے کی ضرورت کے پیش نظر ہے۔ تاہم، بیرونی کھاتوں پر دباؤ اور عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال SBP کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
مشہور سٹیبل کوائن جاری کرنے والے ادارے سرکل نے سنگاپور سے تعلق رکھنے والی کراس بارڈر پیمنٹس کمپنی تیزا پے کو چار سو ملین ڈالر میں خریدنے کا معاہدہ طے کر لیا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے دعوی کیا ہے کہ اردن میں امریکی فوجی اڈوں US Military Bases پر ایران کے میزائل حملوں کا دوسرا مرحلہ جاری ہے جبکہ دوسری طرف سینٹکام نے پانچ ایرانی آئل ٹینکر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,370 کی اہم تکنیکی سپورٹ پر استحکام دکھا رہی ہے، جہاں DXY میں معمولی کمی نے 'technical rebound' کی کوشش کو جنم دیا ہے۔ تاہم، امریکی ٹریژری ییلڈز میں مسلسل اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی سخت مانیٹری پالیسی کے امکانات سونے پر بنیادی دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں، جو کسی بھی تیزی کی حرکت کو محدود کر سکتے ہیں۔
ایشیائی سیشن کے دوران مغربی ٹیکساس انٹرمیڈیٹ یعنی WTI Crude Oil کی قیمتیں مسلسل تیسرے روز بڑھتے ہوئے تقریباً 92.30 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کر رہی ہیں۔
AP نے امریکی اہلکار کے حوالے سے ایرانی ٹینکروں پر نئی امریکی کارروائی رپورٹ کی ہے؛ ایرانی سرکاری ٹی وی نے خارک اور جاسک کے قریب حملوں کی اطلاع دی۔ امریکی اہلکار نے کارروائی کو بحری جنگی جہاز پر ایرانی میزائل حملوں کی کوشش کا جواب قرار دیا؛ یہ مؤقف اہلکار سے منسوب ہے، آزاد فوجی تحقیق کا نتیجہ نہیں۔ CENTCOM نے 5 ستمبر کو تین ایرانی ٹینکروں کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا تھا؛ تازہ حملوں کے تمام اہداف اور نقصان کی تفصیلی عوامی تصدیق باقی ہے۔ خارک ایران کی خام تیل برآمدات کا مرکزی مقام ہے، جبکہ جاسک ہرمز کے مشرق میں واقع ہے؛ ٹینکروں پر حملے اور برآمدی ٹرمینل کو نقصان الگ حقائق ہیں۔ تیل پہلے ہی 100 ڈالر کے قریب رہا ہے؛ مسلسل حملے جہاز رانی، بیمہ اور برآمدی لاگت بڑھا سکتے ہیں، مگر تازہ کارروائی سے رسد میں کمی کی مقدار ابھی واضح نہیں۔
امریکی ہنگامی خام تیل ذخیرہ (SPR) گزشتہ ہفتے تقریباً 12 لاکھ بیرل کم ہوکر 28 کروڑ 54 لاکھ بیرل رہ گیا؛ یہ نومبر 1982 کے بعد کم ترین سطح ہے۔ مارچ میں ذخیرہ تقریباً 41 کروڑ 50 لاکھ بیرل تھا؛ اس تقابلی مقدار سے موجودہ سطح تقریباً 12 کروڑ 96 لاکھ بیرل، یعنی 31 فیصد کم بنتی ہے۔ امریکہ نے 17 کروڑ 20 لاکھ بیرل جاری کرنے کا اعلان کیا تھا، جو عالمی سطح پر 40 کروڑ بیرل تیل اور تیار مصنوعات کی مربوط فراہمی کے منصوبے کا حصہ ہے۔ تبادلے کے تحت حاصل کیا گیا تیل کمپنیوں کو اضافی بیرل کے ساتھ واپس کرنا ہے؛ تاہم مستقبل کی واپسی موجودہ دستیاب ذخیرے میں شمار نہیں کی جاسکتی۔ Brent تقریباً 98 ڈالر کے آس پاس اور خلیجی رسد خطرات کی زد میں ہے؛ کم SPR فوری امریکی قلت ثابت نہیں کرتا، مگر نئے جھٹکے سے نمٹنے کی گنجائش محدود کرتا ہے۔ تجارتی ذخائر اور ملکی پیداوار اس سے الگ ہیں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں