مشہور سٹیبل کوائن جاری کرنے والے ادارے سرکل نے سنگاپور سے تعلق رکھنے والی کراس بارڈر پیمنٹس کمپنی تیزا پے کو چار سو ملین ڈالر میں خریدنے کا معاہدہ طے کر لیا ہے۔
"eurio technical analysis as bullish control continues instead of the decrease in the gains" کے لیے 555 نتائج۔
مشہور سٹیبل کوائن جاری کرنے والے ادارے سرکل نے سنگاپور سے تعلق رکھنے والی کراس بارڈر پیمنٹس کمپنی تیزا پے کو چار سو ملین ڈالر میں خریدنے کا معاہدہ طے کر لیا ہے۔
EUR/USD اس وقت 1.1630 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے اور 1.1600 کے اہم support level سے اوپر برقرار ہے۔ مارکیٹ کی توجہ ECB کے ممکنہ 25 basis points rate hike اور Christine Lagarde کے comments پر ہے۔ 3.3Eurozone inflation فیصد تک پہنچنے سے ECB کے لیے inflation pressure اہم مسئلہ بن گیا ہے۔ دوسری جانب US CPI data اور بڑھتی ہوئی US Dollar oil prices اور Federal Reserve کی policy expectations کو متاثر کر سکتی ہیں۔ تکنیکی طور پر 1.1650 کے اوپر break ہونے سے 1.1700 اور 1.1750 کی طرف تیزی کا امکان بڑھ سکتا ہے، جبکہ 1.1600 سے نیچے break ہونے پر 1.1550 اور 1.1500 اہم levels بن سکتے ہیں۔ مجموعی طور پر EUR/USD کا outlook 1.1600 کے اوپر محتاط طور پر مثبت ہے، لیکن ECB اور US CPI کے دوران مارکیٹ میں volatility بڑھ سکتی ہے۔
نیشنل بیورو آف سٹیٹسٹکس آف چائنا کی جانب سے Chinese CPI کے جو اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں، وہ نہ صرف معاشی ماہرین کی توقعات کے عین مطابق ہیں بلکہ ان کے اندر مستقبل کے کئی اہم تجارتی اشارے بھی چھپے ہیں
امریکی ہنگامی خام تیل ذخیرہ (SPR) گزشتہ ہفتے تقریباً 12 لاکھ بیرل کم ہوکر 28 کروڑ 54 لاکھ بیرل رہ گیا؛ یہ نومبر 1982 کے بعد کم ترین سطح ہے۔ مارچ میں ذخیرہ تقریباً 41 کروڑ 50 لاکھ بیرل تھا؛ اس تقابلی مقدار سے موجودہ سطح تقریباً 12 کروڑ 96 لاکھ بیرل، یعنی 31 فیصد کم بنتی ہے۔ امریکہ نے 17 کروڑ 20 لاکھ بیرل جاری کرنے کا اعلان کیا تھا، جو عالمی سطح پر 40 کروڑ بیرل تیل اور تیار مصنوعات کی مربوط فراہمی کے منصوبے کا حصہ ہے۔ تبادلے کے تحت حاصل کیا گیا تیل کمپنیوں کو اضافی بیرل کے ساتھ واپس کرنا ہے؛ تاہم مستقبل کی واپسی موجودہ دستیاب ذخیرے میں شمار نہیں کی جاسکتی۔ Brent تقریباً 98 ڈالر کے آس پاس اور خلیجی رسد خطرات کی زد میں ہے؛ کم SPR فوری امریکی قلت ثابت نہیں کرتا، مگر نئے جھٹکے سے نمٹنے کی گنجائش محدود کرتا ہے۔ تجارتی ذخائر اور ملکی پیداوار اس سے الگ ہیں۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج شدید فروخت کا دباؤ دیکھنے میں آیا جب دنیا بھر میں بالخصوص مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے
جنوبی کوریا میں Stablecoins کا نفاذ نہ صرف ملکی ٹریڈرز کو اربوں ڈالر کی سالانہ فیس سے بچا سکتا ہے، بلکہ یہ ملک کے روایتی بینکنگ نظام اور مالیاتی استحکام کے لیے بھی گہرے اثرات کا حامل ہو سکتا ہے۔
یورپی بینکنگ کے شعبے میں ایک بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ آج اٹلی کے معروف مالیاتی ادارے UniCredit کو یورپی مرکزی بینک کی جانب سے ایک بہت بڑا ریگولیٹری ریلیف مل گیا ہے۔
یورپی اوپن میں STOXX 600 تقریباً 0.2 فیصد، DAX 0.3 فیصد اور CAC 40 تقریباً 0.4 فیصد نیچے رہے، جبکہ FTSE 100 تقریباً مستحکم رہا؛ یہ ابتدائی سیشن کی تصویر ہے، حتمی اختتامی قیمتوں کی رپورٹ نہیں۔ Brent تقریباً 98.5 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے سے توانائی رسد، کاروباری لاگت اور مہنگائی کے خدشات بڑھے، تاہم ہر یورپی شعبے پر اس کے اثرات یکساں نہیں ہوں گے۔ جرمن برآمدات جولائی میں ماہانہ 0.8 فیصد اور درآمدات 5.7 فیصد کم ہوئیں؛ تجارتی فاضل 21.3 ارب یورو ہوگیا، مگر برآمدات سالانہ بنیاد پر اب بھی بڑھی ہیں۔ Novartis میں تقریباً 8.8 فیصد کمی کا تعلق del-desiran کے مطالعے سے تھا، جبکہ Sandoz تقریباً 2.9 فیصد بڑھا؛ کمپنی مخصوص عوامل کو معاشی دباؤ سے الگ دیکھنا ضروری ہے۔ ECB کا فیصلہ 10 ستمبر کو متوقع ہے؛ اگست کا ابتدائی افراط زر 3.3 فیصد ہے، لیکن آئندہ پالیسی کے لیے توانائی کے ساتھ اجرتیں، بنیادی مہنگائی اور نمو بھی اہم ہیں۔
ایران نے امریکہ کے خلاف براہ راست Iran US economic warfare (ایران اور امریکہ کے درمیان اقتصادی جنگ) اور میزائل حملوں کی دھمکی دی ہے، جس سے نہ صرف خطے میں جنگ کا دائرہ وسیع ہونے کا خدشہ ہے بلکہ عالمی توانائی کی سپلائی لائنز بھی شدید خطرے میں ہیں۔
اگست کی تجارتی رپورٹ Chinese Trade Balance نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ چینی معیشت عالمی سپلائی چین (Supply Chain) میں کتنی گہری جڑیں رکھتی ہے۔
نامور عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز ریٹنگز (Moody’s Ratings) کے ایک تجزیے کے مطابق، پاکستان نے اس Hormuz Shock کو 2022 کے ہولناک تیل بحران کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر طریقے سے برداشت کیا ہے۔
نئی تاریخی بلند سطح: لندن میٹل ایکسچینج (LME) پر تانبا 14,533 ڈالر فی میٹرک ٹن کی نئی تاریخی بلند ترین سطح کو چھو گیا، جس نے جنوری کا ریکارڈ توڑ دیا۔ ذخائر کا جغرافیائی تضاد: امریکہ میں تانبے کے ذخائر ریکارڈ سطح پر پہنچ چکے ہیں، جبکہ چین (SHFE) اور لندن کے گوداموں میں فوری دستیاب دھات نایاب ہو رہی ہے۔ شنگھائی میں 85 فیصد کمی: چین میں شنگھائی فیوچرز ایکسچینج کے زیرِ نگرانی ذخائر مارچ کے وسط کی بلند سطح سے گر کر صرف 63,000 ٹن رہ گئے ہیں، جو جنوری 2024 کے بعد کم ترین سطح ہے۔ امریکی ٹیرف کا اثر: متوقع امریکی تجارتی محصولات اور قیمتوں کے فرق نے عالمی تانبے کے بہاؤ کا رخ زبردستی امریکی گوداموں کی طرف موڑ دیا ہے۔ فوری رسد کا خطرہ: اگر LME سے دھات کا اخراج جاری رہا اور چین میں سپلائی بحال نہ ہوئی، تو مجموعی عالمی پیداوار کے باوجود فزیکل مارکیٹ میں شدید تنگی برقرار رہے گی۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں