عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں واضح تقسیم دیکھی جا رہی ہے۔ برینٹ خام تیل 102.85 ڈالر پر مضبوط ہے جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 90.65 ڈالر تک گر گیا ہے، جس سے دونوں کا فرق 12.20 ڈالر ہو گیا ہے۔
"silver price recovered above 27 dollars as us bonds yields plunged 13 points" کے لیے 950 نتائج۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں واضح تقسیم دیکھی جا رہی ہے۔ برینٹ خام تیل 102.85 ڈالر پر مضبوط ہے جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 90.65 ڈالر تک گر گیا ہے، جس سے دونوں کا فرق 12.20 ڈالر ہو گیا ہے۔
جاپانی وزیراعظم ثنائ تاکائچی (Sanae Takaichi) نے پارلیمنٹ سے اپنے پالیسی خطاب میں مالیاتی نظم و ضبط (Fiscal Discipline) قائم رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
عالمی انرجی مارکیٹس میں آج اس وقت ایک اہم موڑ دیکھا گیا جب Crude Oil Prices میں Middle East Crisis کے تناظر میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
ٹیتھر (Tether) کا سب سے بڑا سٹیبل کوائن USDT ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے بعد اپنے اصل گھر یعنی بٹ کوائن (Bitcoin) پر واپس آ رہا ہے۔ یہ پیش رفت کرپٹو انڈسٹری میں ایک نئے دور کا آغاز کر رہی ہے
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت (Pakistan Petroleum Sales September 2026) میں ستمبر 2026 کے دوران سالانہ بنیادوں پر (YoY) 2 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد کُل فروخت 1.35 ملین ٹن پر آگئی ہے۔
24 قیراط سونا 2,000 روپے اضافے سے 440,636 روپے فی تولہ ہوگیا۔ 10 گرام سونا 377,774 روپے، جبکہ چاندی 50 روپے بڑھ کر 6,578 روپے فی تولہ رہی۔ مقامی نرخ کے ساتھ رپورٹ کردہ عالمی حوالہ 20 ڈالر بڑھ کر 4,181 ڈالر فی اونس ہوگیا۔ جمعہ کی تیزی نے جمعرات کی کمی کا تقریباً دو تہائی حصہ واپس لیا؛ دونوں سیشنز کی مجموعی تبدیلی اب بھی 1,000 روپے منفی ہے۔ پیر سے جمعہ تک جاری کردہ فی تولہ نرخ 437,336 سے 441,636 روپے کی پرائس رینج میں رہے۔
ستمبر میں سالانہ مہنگائی 10.3 فیصد رہی، جو اگست کے مقابلے میں 0.8 فیصد پوائنٹ کم ہے۔ ماہانہ قیمتیں 1.3 فیصد بڑھیں؛ اگست میں اضافہ 1.2 فیصد تھا۔ شہری اور دیہی دونوں اشاریوں میں بجلی کے چارجز 15.28 فیصد بڑھے، جبکہ موٹر فیول کا اضافہ بالترتیب 10.76 اور 11.13 فیصد رہا۔ ٹماٹر اور مرغی سستے ہوئے، لیکن قومی سطح پر خوراک اور مشروبات کا مجموعی اشاریہ ماہانہ 0.19 فیصد بڑھا۔ خوراک اور توانائی کے بغیر بنیادی مہنگائی (Core Inflation) میں کمی آئی، تاہم توانائی کی بڑھتی لاگت شرح سود کے آئندہ فیصلوں کے لیے اہم رہے گی۔
پاکستان کی معیشت 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور 11.10 فیصد افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے زمرے میں داخل ہو چکی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر، آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد اور ترسیلاتِ زر کے سہارے USD/PKR 277.10 کی سطح پر مستحکم ہے جبکہ KSE-100 انڈیکس 168,637 پوائنٹس پر موجود ہے۔
USD/PKR 276.98 پر 0.31% کمی، DXY 101.81 پر اضافہ اور مرکزی بینکوں کے تازہ بیانات نے عالمی کرنسیوں میں واضح فرق پیدا کیا۔ اس تجزیے میں سگنلز، مارکیٹ ردعمل اور آئندہ خطرات کی جانچ کی گئی ہے۔
USD/PKR کی گراوٹ، DXY کی بڑھوتری اور امریکی 10 سالہ بانڈ ییلڈ کے اضافے نے سونے کی قیمت (440,000 PKR/تولا) کو دباؤ میں رکھا۔ اس تجزیے میں محرکات، حمایت/مزاحمت اور پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے اہم نکات پیش کیے گئے ہیں۔
آج ایشیئن سیشنز کے دوران US Dollar Index دو ماہ کی بلند ترین سطح پر برقرار ہے جس کی سب سے بڑی وجہ یو ایس ٹریژری ییلڈز میں مسلسل اضافہ ہے۔ دنیا بھر میں افراط زر کے دباؤ اور مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات نے گلوبل فنانشل مارکیٹس کو ہلا کر رکھ دیا ہے
پاکستان کے بنیادی معاشی اشاریے مسلسل استحکام کی دلالت کر رہے ہیں۔ 11.50 فیصد کے پالیسی ریٹ اور 11.10 فیصد کے افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے فریم ورک نے KSE-100 انڈیکس کو 169,969 کے سنگ میل پر پہنچا دیا ہے جبکہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 276.98 کی سطح پر مستحکم ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں