برطانوی پاؤنڈ (GBP/USD) سیشن کے دوران 0.37% کی کمی کے ساتھ 1.32078 کی سطح پر معامله ہو رہا ہے۔ بینک آف انگلینڈ اور فیڈ کی پالیسیوں کا تفاوت اور امریکی بانڈ ییلڈز میں کمی فاریکس مارکیٹ میں نیا موڑ لا رہے ہیں۔
"uk cpi data released which caused declined in british pound" کے لیے 1143 نتائج۔
برطانوی پاؤنڈ (GBP/USD) سیشن کے دوران 0.37% کی کمی کے ساتھ 1.32078 کی سطح پر معامله ہو رہا ہے۔ بینک آف انگلینڈ اور فیڈ کی پالیسیوں کا تفاوت اور امریکی بانڈ ییلڈز میں کمی فاریکس مارکیٹ میں نیا موڑ لا رہے ہیں۔
XAU/USD تقریباً 4,182.7 پر ہے۔ H1 پر 4,156–4,160 فوری سپورٹ کے طور پر اہم ہے۔ 4,133–4,135 کے قریب اگلی اہم سپورٹ نظر آتی ہے۔ اوپر کی جانب 4,204–4,212 ابتدائی ریزسٹینس ہے۔ اس کے بعد 4,228–4,252 کا زون اہم رکاوٹ بن سکتا ہے۔ D1 RSI تقریباً 41.11 ہے، جبکہ H4 RSI 49.34 اور H1 RSI 54.66 ہے۔ H1 مومینٹم میں بہتری ہے، لیکن D1 چارٹ ابھی واضح بُلش ریورسل کی تصدیق نہیں کرتا۔ 4,200 کے اوپر مستقل قیمت برقرار رہنا مزید ریکوری کے لیے اہم ہوگا۔ 4,156 کے نیچے کمزوری اور پھر 4,133 کے نیچے بریک ڈاؤن مزید دباؤ کی علامت ہوسکتا ہے۔
USD/PKR دستیاب مارکیٹ ڈیٹا میں 277.05 رہا؛ حتمی انٹربینک اختتامی نرخ کی الگ تصدیق ضروری ہے۔ عالمی ڈالر کی مضبوطی اور روپے کی محدود بہتری ایک ساتھ ممکن ہیں، کیونکہ دونوں کے محرکات مکمل طور پر یکساں نہیں۔ امریکی بانڈ ییلڈز فاریکس مارکیٹ کے لیے اہم ہیں، مگر ان میں ہر اضافہ لازماً ڈالر میں تیزی یا رسک آف ماحول کی تصدیق نہیں کرتا۔ یورو زون میں بلند مہنگائی کے ساتھ فرانس کے مالیاتی خطرات بھی EUR/USD پر اثر ڈال رہے ہیں۔ امریکی روزگار کی رپورٹ کے بعد ڈالر، بانڈ ییلڈز اور شرح سود کی توقعات میں تبدیلی اگلا اہم محرک ہوگی۔
یورپی یونین کے ممالک پر امریکی دباؤ کے بعد ہنگامی ڈیزل ذخائر جاری کرنے کے حوالے سے اہم مشاورت شروع ہو چکی ہے۔ موجودہ جغرافیائی سیاسی تنازعات اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے۔
ڈالر انڈیکس کی 101.94 کی سطح پر مضبوطی نے عالمی رسک‑آن لہر کو کمزور کر کے مارکیٹ کو خطرہ‑آف رجیم کی طرف موڑ دیا، حالانکہ امریکی CPI 3.35% پر مستحکم رہنے سے ڈس انفلیشن کی امید برقرار ہے۔
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت (Pakistan Petroleum Sales September 2026) میں ستمبر 2026 کے دوران سالانہ بنیادوں پر (YoY) 2 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد کُل فروخت 1.35 ملین ٹن پر آگئی ہے۔
24 قیراط سونا 2,000 روپے اضافے سے 440,636 روپے فی تولہ ہوگیا۔ 10 گرام سونا 377,774 روپے، جبکہ چاندی 50 روپے بڑھ کر 6,578 روپے فی تولہ رہی۔ مقامی نرخ کے ساتھ رپورٹ کردہ عالمی حوالہ 20 ڈالر بڑھ کر 4,181 ڈالر فی اونس ہوگیا۔ جمعہ کی تیزی نے جمعرات کی کمی کا تقریباً دو تہائی حصہ واپس لیا؛ دونوں سیشنز کی مجموعی تبدیلی اب بھی 1,000 روپے منفی ہے۔ پیر سے جمعہ تک جاری کردہ فی تولہ نرخ 437,336 سے 441,636 روپے کی پرائس رینج میں رہے۔
EUR/USD 1.12700 پر -0.18% گرا، جبکہ DXY 101.84 پر -0.25% کم ہوا۔ USD کی کمزوریت کے باوجود یورپی کرنسی کی کمی نے پہلے کی اپ‑ٹرن تھیسس کو بدل دیا۔
ستمبر میں سالانہ مہنگائی 10.3 فیصد رہی، جو اگست کے مقابلے میں 0.8 فیصد پوائنٹ کم ہے۔ ماہانہ قیمتیں 1.3 فیصد بڑھیں؛ اگست میں اضافہ 1.2 فیصد تھا۔ شہری اور دیہی دونوں اشاریوں میں بجلی کے چارجز 15.28 فیصد بڑھے، جبکہ موٹر فیول کا اضافہ بالترتیب 10.76 اور 11.13 فیصد رہا۔ ٹماٹر اور مرغی سستے ہوئے، لیکن قومی سطح پر خوراک اور مشروبات کا مجموعی اشاریہ ماہانہ 0.19 فیصد بڑھا۔ خوراک اور توانائی کے بغیر بنیادی مہنگائی (Core Inflation) میں کمی آئی، تاہم توانائی کی بڑھتی لاگت شرح سود کے آئندہ فیصلوں کے لیے اہم رہے گی۔
آج EURUSD کی محدود رینج اس بات کا احاطہ کر رہی ہے کہ کس طرح امریکی نان فارم پے رولز رپورٹ اور افراط زر کے اعداد و شمار اس اہم کرنسی جوڑے کی اگلی سمت کا تعین کر رہے ہیں
عالمی مارکیٹ میں ڈالر انڈیکس کی مضبوطی کے باوجود XAU/USD کی قیمت $4,180.88 پر مستحکم رہی۔ پاکستان میں 24 قیراط فی تولہ سونا 441,200 روپے پر ٹریڈ ہو رہا ہے، جبکہ تکنیکی سیٹ اپ کنسولیڈیشن کا اشارہ دے رہا ہے۔
جمعہ کے روز ٹریڈنگ کے آغاز میں ہی بینچ مارک انڈیکس میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی، جس نے طویل مدتی سرمایہ کاروں اور ڈے ٹریڈرز دونوں کو ایک بار پھر محتاط ہونے پر مجبور کر دیا۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں