عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,420 کی اہم سپورٹ سطح کے قریب مستحکم ہے، جبکہ DXY میں معمولی کمی نے قلیل مدتی ریلیف فراہم کی ہے۔ تاہم، امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی سخت پالیسی کے امکانات سونے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
"eurozone sentix investor confidence data released which caused decline in euro" کے لیے 575 نتائج۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,420 کی اہم سپورٹ سطح کے قریب مستحکم ہے، جبکہ DXY میں معمولی کمی نے قلیل مدتی ریلیف فراہم کی ہے۔ تاہم، امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی سخت پالیسی کے امکانات سونے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
پاکستانی روپے (PKR) میں انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے، جو 277.60 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ رجحان درآمدی ادائیگیوں کے دباؤ، عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی طلب میں اضافے کا نتیجہ ہے۔ پچھلی 276.50 کی سطح اب اہم سپورٹ کے طور پر کام کر رہی ہے، جبکہ مارکیٹ نئی مزاحمت کی سطحوں کو جانچ رہی ہے۔
KSE-100 انڈیکس نے 174,600 کی اہم سپورٹ سطح سے نیچے گرنے کے بعد ایک مثبت ریکوری کا مظاہرہ کیا ہے، جو مارکیٹ میں استحکام کی کوششوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم، انڈیکس اب بھی اپنی اوپننگ سے نیچے ہے، اور وسیع تر مارکیٹ کی شرکت کے بغیر پائیدار رجحان کی تصدیق مشکل ہے۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,420 کی نفسیاتی سپورٹ کے قریب استحکام دکھا رہی ہے، جبکہ DXY میں معمولی کمی نے قلیل مدتی ریلیف فراہم کی ہے۔ تاہم، امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی سخت مانیٹری پالیسی کے امکانات سونے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں، جس سے 'bearish trend continuation' کا رجحان غالب ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں انٹربینک مارکیٹ میں اپنی قدر میں مزید کمی کا شکار ہے، جو 277.60 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات ہیں۔
بنیادی سفارش: نارجس بینک انویسٹمنٹ مینجمنٹ (NBIM) نے اپنے بانڈ اشاریے میں سرکاری بانڈز کا وزن 70 فیصد سے کم کر کے 50 فیصد کرنے کی باضابطہ تجویز دی ہے۔ امریکی ٹریژریز پر اثر: نئی ساخت نافذ ہونے کی صورت میں امریکی سرکاری قرض میں فنڈ کی ہولڈنگز میں اندازاً 80 ارب ڈالر کی کمی بن سکتی ہے۔ وزن میں ردوبدل: بینچ مارک میں امریکی سرکاری قرض کا حصہ 34.1 فیصد سے کم ہو کر 21.9 فیصد رہ جائے گا، تاہم مجموعی امریکی ڈالر اثاثوں کا وزن 52.5 فیصد کے قریب مستحکم رہے گا۔ نفاذ کا ٹائم فریم: یہ فوری فروخت نہیں ہے؛ قانون سازوں کی منظوری کی صورت میں بھی اس پالیسی پر عملی عمل درآمد 2027 کے وسط سے پہلے متوقع نہیں۔ حکمتِ عملی کا اصل رخ: یہ پیش رفت امریکی ڈالر سے انخلا نہیں، بلکہ امریکی سرکاری بانڈز سے سرمایہ نکال کر نسبتاً زیادہ منافع بخش مارگیج بیکڈ سیکیورٹیز اور دیگر امریکی کارپوریٹ قرضوں میں منتقل کرنے کی اندرونی ری بیلنسنگ ہے۔
Revolut کو امریکہ میں قومی بینک قائم کرنے کے لیے OCC کی مشروط منظوری مل گئی ہے، جو مارچ میں دی گئی درخواست کے بعد ایک اہم قانونی پیش رفت ہے۔ کمپنی کے مطابق اگلا مرحلہ FDIC سے ڈپازٹ انشورنس، Federal Reserve سے متعلقہ منظوری اور OCC کی آخری اجازت حاصل کرنا ہے۔ مجوزہ بینک کا صدر دفتر Stamford, Connecticut میں ہوگا اور Revolut تقریباً 95 ملین ڈالر ابتدائی سرمایہ فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ امریکی بینک چیکنگ اکاؤنٹس، قسطوں پر قرض، کریڈٹ کارڈ اور زرمبادلہ کی خدمات پیش کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے، جبکہ کمپنی اسٹیبل کوائن متعارف کرانے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ یہ منظوری حتمی بینکاری لائسنس نہیں۔ 2027 میں آغاز اس بات پر منحصر ہے کہ باقی نگران شرائط اور منظوریوں کا عمل مکمل ہوتا ہے یا نہیں۔
چینی کمرشل بینکوں Chinese Banks نے حال ہی میں US Treasury Bonds کی خریداری کا آغاز کیا ہے، جو کہ ان کی روایتی سرمایہ کاری کی حکمت عملی سے ایک بڑا انحراف ہے۔
پی ایل ایل نے واضح کیا ہے کہ اگر ۶.۷۵ ارب روپے کے بقایا جات جلد ادا نہ کیے گئے، تو ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (RLNG) کی سپلائی کو کم یا معطل کیا جا سکتا ہے۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) نے $4,454.99 کی اہم سطح سے اوپر 'daily close' دے کر قلیل مدتی استحکام کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم DXY کی مضبوطی اور بڑھتی ہوئی امریکی ٹریژری ییلڈز سونے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اس پیش رفت نے پچھلی 'bearish invalidation' سطح کو چیلنج کیا ہے، لیکن مجموعی 'bearish trend' اب بھی غالب ہے۔
پاکستانی روپے نے آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی قدر میں مزید کمی دیکھی، جو 0.42% کی گراوٹ کے ساتھ 277.36 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ کمی درآمدی دباؤ اور عالمی ڈالر کی مضبوطی کے جاری رجحان کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ اہم مزاحمتی سطحوں پر دباؤ برقرار ہے۔
توانائی کی عالمی مارکیٹس میں اس وقت شدید غیر یقینی صورتحال جاری ہے۔، جہاں WTI Crude Oil prices Strait of Hormuz آبنائے ہرمز کے گرد گھومتی ہوئی صورتحال اور جغرافیائی سیاسی تنازعات کی وجہ سے قیمتیں 89.50 ڈالر کے قریب مستحکم ہیں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں