اگست کی تجارتی رپورٹ Chinese Trade Balance نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ چینی معیشت عالمی سپلائی چین (Supply Chain) میں کتنی گہری جڑیں رکھتی ہے۔
"gold is trading in narrow range investors cautius waiting for us cpi report" کے لیے 1170 نتائج۔
اگست کی تجارتی رپورٹ Chinese Trade Balance نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ چینی معیشت عالمی سپلائی چین (Supply Chain) میں کتنی گہری جڑیں رکھتی ہے۔
فیڈرل ریزرو کی سخت مانیٹری پالیسی کی توقعات اور مشرق وسطیٰ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے نے سونے کی چال کو سست کر دیا ہے
ایشیائی انڈیکسز میں تیزی: جاپان کا Nikkei 225 تقریباً 2% اور جنوبی کوریا کا Kospi تقریباً 3% چڑھے، جبکہ جاپان کے علاوہ وسیع ایشیائی مارکیٹس میں بھی 0.9% اضافہ ہوا۔ امریکی روزگار کا دوہرا اثر: مضبوط US Jobs ڈیٹا نے عالمی نمو پر اعتماد بحال کیا، مگر ساتھ ہی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود طویل عرصے تک بلند رکھنے کے خدشات بھی برقرار رکھے۔ توانائی بحران میں استقامت: مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اور برینٹ تیل کے 96 ڈالر پر پہنچنے کے باوجود ایشیائی حصص میں کسی بڑے پیمانے کی فروخت (Sell-off) کا دباؤ نہیں دیکھا گیا۔ ین اور نکیئی کا باہمی ربط: ڈالر کے مقابلے جاپانی ین کی مضبوطی کے باوجود Nikkei کا بڑھنا ظاہر کرتا ہے کہ تیزی صرف کمزور کرنسی پر نہیں بلکہ کمپنیوں کی حقیقی طلب پر قائم ہے۔ امریکی تعطیل (Labor Day): آج امریکا میں تعطیل کے باعث وال اسٹریٹ اور کیش ٹریژری مارکیٹس بند ہیں؛ اس ریلی کی حتمی عالمی توثیق منگل کو امریکی سیشن کھلنے پر ہوگی۔
یورو بانڈ فنانسنگ: پاکستان نے دو حصوں (Dual-Tranche) پر مشتمل 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کیے، جن کے لیے عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے 6 ارب ڈالر کی زبردست مانگ سامنے آئی۔ مہنگائی کی بحالی: اگست میں قومی سالانہ CPI بڑھ کر 11.1 فیصد ہو گئی، جبکہ شہری کور افراطِ زر 8.8 فیصد اور دیہی کور 8.5 فیصد پر برقرار رہی۔ تجارتی خسارے کا پھیلاؤ: جولائی اور اگست میں تجارتی خسارہ 18.1 فیصد بڑھ کر 7.12 ارب ڈالر تک جا پہنچا، کیونکہ درآمدات کی رفتار برآمدات سے تقریباً دو گنا تیز رہی۔ اسٹیٹ بینک کے ذخائر: 28 اگست تک مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر 17.12 ارب ڈالر اور مجموعی ملکی سیال ذخائر 22.53 ارب ڈالر رہے، جبکہ انٹربینک میں USD/PKR ریٹ 277.41 پر مستحکم رہا۔ عالمی تیل کا خطرہ: برینٹ خام تیل ہفتے کے اختتام پر 92.68 ڈالر پر بند ہوا؛ 5 ستمبر سے ڈیزل کی قیمت میں 3.74 روپے کا اضافہ معیشت میں پیداواری لاگت کے نئے خدشات پیدا کر رہا ہے۔
Novartis اور Ionis کی پیلکارسن (Pelacarsen) نامی تجرباتی دوا بڑے تیسرے مرحلے کے کلینیکل ٹرائل میں قلبی واقعات کم کرنے کا بنیادی ہدف حاصل نہیں کر سکی۔ دوا نے Lp(a) کی سطح واضح طور پر کم کی، مگر اس حیاتیاتی بہتری سے دل کے دورے، فالج، قلبی موت یا فوری خون رسانی کے طریقۂ علاج کی ضرورت میں مطلوبہ کمی ثابت نہیں ہوئی۔ خبر کے بعد Ionis کے حصص تقریباً 12 فیصد اور اسی شعبے میں دوا تیار کرنے والی Amgen کے حصص تقریباً 5 فیصد نیچے آئے۔ مکمل مطالعہ ابھی شائع نہیں ہوا اور تفصیلی نتائج ایک آئندہ طبی کانفرنس میں پیش کیے جائیں گے، اس لیے ناکامی کی مکمل سائنسی تشریح ابھی باقی ہے۔ اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ pelacarsen کی ناکامی صرف اس مخصوص دوا سے متعلق ہے یا Lp(a) کو نشانہ بنانے والی دوسری زیرِ تیاری ادویات کے لیے بھی خطرے کا اشارہ ہے۔
0.7200AUD/USD کے قریب trade کر رہا ہے اور آسٹریلوی ڈالر کو RBA کی hawkish policy expectations سے support مل رہا ہے۔ US Dollar پر pressure بھی pair کو سہارا دے رہا ہے۔ 0.7200 اہم resistance ہے۔ اس کے اوپر breakout کی صورت میں 0.7250 اور 0.7300 اگلے levels ہو سکتے ہیں۔ جبکہ 0.7100 اہم support ہے۔ اس کے نیچے جانے سے pair 0.7050 کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ Traders کی توجہ RBA، Fed، Australian inflation اور US jobs data پر رہے گی۔
کریکن کی پیرنٹ کمپنی پےورڈ نے اپنی ابتدائی عوامی پیشکش (initial public offering یا IPO) کو سال 2027 کی دوسری سہ ماہی تک ملتوی کر دیا ہے۔
USD/JPY پر Yen کی قدر میں اضافے کے باعث دباؤ برقرار ہے۔ BOJ کی ممکنہ Rate Hike توقعات Yen کو سپورٹ دے رہی ہیں۔ US data، Fed policy اور Treasury yields بھی Pair کی سمت کے لیے اہم رہیں گے۔ Technical Analysis میں 159.33، 158.57 اور 158.00 اہم Support جبکہ 160.18، 160.39 اور 160.88 اہم Resistance levels ہیں۔
EUR/USD پر اس وقت دباؤ ہے اور Pair 1.1600 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔ مضبوط US Dollar، بلند Treasury Yields، Geopolitical Risks اور کمزور German Retail Sales یورو کو متاثر کر رہے ہیں۔ دوسری جانب Eurozone Inflation میں اضافہ اور ECB کی ممکنہ Rate Hike یورو کو سپورٹ دے سکتی ہے۔ ٹیکنیکل طور پر 1.1580، 1.1550 اور 1.1500 اہم Support Levels ہیں، جبکہ 1.1620، 1.1650 اور 1.1710 اہم Resistance Levels ہیں۔ 1.1580 سے نیچے Break ہونے پر مزید کمی جبکہ 1.1650 سے اوپر واپسی پر Recovery کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) ستمبر کے آغاز میں مضبوط دکھائی دے رہا ہے، جسے فیڈ کی ہاکش توقعات، بلند US Treasury Yields اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی سے سپورٹ مل رہی ہے۔ 10 سالہ Treasury Yield تقریباً 4.78% تک پہنچ چکی ہے، جبکہ بلند تیل کی قیمتیں مہنگائی کے خدشات بڑھا رہی ہیں۔ تکنیکی طور پر 99.75 سے 100.00 اہم Resistance Zone ہے، جبکہ 99.00 اور 98.70 سے 98.75 اہم Support Levels ہیں۔ اب ISM Manufacturing PMI، JOLTS اور Nonfarm Payrolls جیسے امریکی اعداد و شمار DXY کی اگلی سمت کے لیے اہم ہوں گے۔ مضبوط ڈیٹا ڈالر کو مزید سپورٹ دے سکتا ہے، جبکہ کمزور ڈیٹا DXY پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) اپنی 'bearish trend continuation' کو برقرار رکھے ہوئے ہے، جو $4,454.99 کی سابقہ سپورٹ سطح کے نیچے ایک مستحکم 'daily close' کے بعد مزید مضبوط ہوئی ہے۔ DXY کی مسلسل مضبوطی سونے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ مقامی مارکیٹ میں 24 قیراط فی تولہ سونا 455,500 روپے پر مستحکم ہے۔
اگست میں COMEX Gold میں تقریباً 9.4 فیصد اضافہ ہوا جو بلاشبہ عمدہ ماہانہ کارکردگی ہے، لیکن آخری سیشن میں spot price دباؤ کا شکار رہی۔ September Fed rate hike کی market-implied probability تقریباً 64 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ 10-year Treasury yield بڑھ کر 4.764 فیصد پر ریکارڈ ہوئی۔ مشرق وسطیٰ میں U.S.-Iran کشیدگی اور Brent crude کے $90 سے اوپر جانے کے باوجود سونے کی قیمتوں کا نہ بڑھنا واضح کرتا ہے کہ فی الوقت rates concerns نے safe-haven demand کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ستمبر کے دوران سونے (Gold) کی اگلی سمت کا فیصلہ محض geopolitical headlines پر نہیں بلکہ U.S. payrolls، inflation data، Treasury yields اور Fed expectations کا باہمی تعلق پر منحضر ہو گا۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں