Bitcoin کو 87,000 ڈالر کی سطح پر مضبوط مزاحمت کا سامنا ہے کیونکہ اس سطح پر پرافٹ بکنگ اور بڑے سیلرز فعال ہیں۔ جب بھی قیمت اس حد کو چھوتی ہے، فروخت کا دباؤ خریداروں کی قوت پر حاوی ہو جاتا ہے۔
"gold price forecast us iran ceasefire doubts keep xau usd under pressure" کے لیے 1008 نتائج۔
Bitcoin کو 87,000 ڈالر کی سطح پر مضبوط مزاحمت کا سامنا ہے کیونکہ اس سطح پر پرافٹ بکنگ اور بڑے سیلرز فعال ہیں۔ جب بھی قیمت اس حد کو چھوتی ہے، فروخت کا دباؤ خریداروں کی قوت پر حاوی ہو جاتا ہے۔
عالمی منڈی میں سونا $4,136.94 کی سطح پر بحال ہو گیا ہے جبکہ پاکستان میں 24 قیراط فی تولہ قیمت 438,000 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ پچھلی ڈیسک اپڈیٹ کے تضاد کے برعکس دونوں منڈیوں میں ایک ساتھ تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
ریاض کے ہنگامی اجلاس میں Mecca Defence Agreement کو فعال کرنے اور سعودی عرب میں عسکری تعیناتی کے اعلان نے خطے کی جیو پولیٹیکل (Geopolitical) صورت حال کو ایک بالکل نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔
پاکستان کی معیشت 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور 11.10 فیصد افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے بل بوتے پر توازن برقرار رکھے ہوئے ہے، جہاں روپیہ انٹربینک میں 277.10 پر مستحکم ہے۔
فنانشل مارکیٹس میں ہفتے کے آغاز پر ہی غیر معمولی ہلچل دیکھنے میں آئی ہے، جہاں دنیا کی سب سے بڑی کرنسیز کا ٹریڈنگ پیئر EURUSD کے تحت شدید دباؤ کا شکار ہو گئی۔ یورو کی قدر میں اس زبردست کمی نے اسے مئی 2025 کی کم ترین سطح پر لا کھڑا کیا ہے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس 11.10 فیصد افراطِ زر اور 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کی موجودگی کے باعث 40 بیسس پوائنٹس کی مثبت حقیقی شرحِ سود موجود ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی میٹنگ میں شرحِ سود میں 50 تا 100 بیسس پوائنٹس کمی کا راستہ صاف نظر آتا ہے۔
انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر 276.82 روپے پر ٹریڈ ہو رہا ہے جبکہ مثبت حقیقی شرح سود روپے کو بنیادی سہارا فراہم کر رہی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کا سیشن بریک آؤٹ کی ناکامی پر ختم ہوا۔ KSE-100 انڈیکس انٹرا ڈے ہائی 172,756 سے گر کر 168,155 پوائنٹس پر بند ہوا، جس سے تکنیکی ساخت میں واضح مندی کے اشارے مل رہے ہیں۔
امریکی 10 سالہ بانڈ ییلڈ 5.237% اور ڈالر انڈیکس 102.01 پر پہنچنے سے فیڈرل ریزرو کی سخت مالیاتی پالیسی کا تسلسل ثابت ہو رہا ہے۔ افراط زر کی 3.35% سطح پر موجودگی عالمی اثاثوں کے لیے اہم خطرہ ہے۔
یورپی یونین کے ممالک پر امریکی دباؤ کے بعد ہنگامی ڈیزل ذخائر جاری کرنے کے حوالے سے اہم مشاورت شروع ہو چکی ہے۔ موجودہ جغرافیائی سیاسی تنازعات اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے۔
USD/PKR کی کمی، DXY کا اضافہ اور US 10Y کی کمی نے سونے کی قیمت کو 440,400 روپے فی تولہ پر 0.14% نیچے لے آیا۔ تجزیہ میں عالمی ڈالر کی قوت اور بانڈ ییلڈ کی تبدیلیوں کو بنیادی محرک سمجھا گیا۔
USD/PKR کی گراوٹ، DXY کی بڑھوتری اور امریکی 10 سالہ بانڈ ییلڈ کے اضافے نے سونے کی قیمت (440,000 PKR/تولا) کو دباؤ میں رکھا۔ اس تجزیے میں محرکات، حمایت/مزاحمت اور پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے اہم نکات پیش کیے گئے ہیں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں