پاکستانی روپے (PKR) نے امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر میں مزید کمی کی ہے، انٹربینک مارکیٹ میں 277.87 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس گراوٹ کی اہم وجوہات ہیں۔
"stock value of deutche bank declined another test barrometer for global financial system" کے لیے 521 نتائج۔
پاکستانی روپے (PKR) نے امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر میں مزید کمی کی ہے، انٹربینک مارکیٹ میں 277.87 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس گراوٹ کی اہم وجوہات ہیں۔
جنگ صرف میدانِ جنگ کو نہیں ہلاتی بلکہ اس کے اثرات دنیا کی معیشت، تیل کی قیمتوں اور فنانشل مارکیٹس تک پہنچتے ہیں۔ US Iran War نے بھی عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے
امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) ستمبر کے آغاز میں مضبوط دکھائی دے رہا ہے، جسے فیڈ کی ہاکش توقعات، بلند US Treasury Yields اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی سے سپورٹ مل رہی ہے۔ 10 سالہ Treasury Yield تقریباً 4.78% تک پہنچ چکی ہے، جبکہ بلند تیل کی قیمتیں مہنگائی کے خدشات بڑھا رہی ہیں۔ تکنیکی طور پر 99.75 سے 100.00 اہم Resistance Zone ہے، جبکہ 99.00 اور 98.70 سے 98.75 اہم Support Levels ہیں۔ اب ISM Manufacturing PMI، JOLTS اور Nonfarm Payrolls جیسے امریکی اعداد و شمار DXY کی اگلی سمت کے لیے اہم ہوں گے۔ مضبوط ڈیٹا ڈالر کو مزید سپورٹ دے سکتا ہے، جبکہ کمزور ڈیٹا DXY پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) اپنی 'bearish trend continuation' کو برقرار رکھے ہوئے ہے، جو $4,454.99 کی سابقہ سپورٹ سطح کے نیچے ایک مستحکم 'daily close' کے بعد مزید مضبوط ہوئی ہے۔ DXY کی مسلسل مضبوطی سونے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ مقامی مارکیٹ میں 24 قیراط فی تولہ سونا 455,500 روپے پر مستحکم ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر میں کمی جاری رکھے ہوئے ہے، جو 277.70 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی روپے کی کمزوری کی بنیادی وجوہات ہیں۔
موجودہ صورتحال میں USDJPY دنیا بھر کے ٹریڈرز کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، کیونکہ ِ ین کے مقابلے میں امریکی ڈالر م160.00 کے اہم نفسیاتی ہندسے کے قریب اپنی پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے۔
اگست میں COMEX Gold میں تقریباً 9.4 فیصد اضافہ ہوا جو بلاشبہ عمدہ ماہانہ کارکردگی ہے، لیکن آخری سیشن میں spot price دباؤ کا شکار رہی۔ September Fed rate hike کی market-implied probability تقریباً 64 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ 10-year Treasury yield بڑھ کر 4.764 فیصد پر ریکارڈ ہوئی۔ مشرق وسطیٰ میں U.S.-Iran کشیدگی اور Brent crude کے $90 سے اوپر جانے کے باوجود سونے کی قیمتوں کا نہ بڑھنا واضح کرتا ہے کہ فی الوقت rates concerns نے safe-haven demand کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ستمبر کے دوران سونے (Gold) کی اگلی سمت کا فیصلہ محض geopolitical headlines پر نہیں بلکہ U.S. payrolls، inflation data، Treasury yields اور Fed expectations کا باہمی تعلق پر منحضر ہو گا۔
DXY 99.50 کے قریب مضبوط ہے اور Fed Rate Hike کی توقعات ڈالر کو سپورٹ دے رہی ہیں۔ Treasury Yields بھی بلند ہیں۔ 99.50 اہم سپورٹ ہے، جبکہ 99.75 اور 100.00 اہم اوپر کی سطحیں ہیں۔ آنے والا US Economic Data ڈالر کی اگلی سمت کے لیے اہم ہوگا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں آج KSE-100 انڈیکس نے 1.05 فیصد کی نمایاں گراوٹ کے ساتھ 176,976 پوائنٹس پر بندش دی، جو 177,000 کی نفسیاتی سطح سے نیچے ہے۔ مارکیٹ کی وسعت اور ٹرن اوور میں کمی نے سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے محتاط رویے اور ایک واضح رجحان کی عدم موجودگی کو نمایاں کیا ہے۔
صرافہ بازار میں Per Tola Gold Price In Pakistan میں آج ہونیوالی 1800 روپے فی تولہ کی نمایاں کمی نے سرمایہ کاروں، خریداروں اور مارکیٹ تجزیہ کاروں کی توجہ حاصل کی ہے۔
پاکستانی معیشت اور آٹو موبائل انڈسٹری کے لیے ایک نئے اور سنہرے باب کا آغاز ہو چکا ہے۔ پاک سوزوکی (Pak Suzuki) نے اپنی تاریخ میں پہلی بار جاپانی معیار کی منی گاڑیاں برونائی کو برآمد کرنا شروع کر دی ہیں۔
ہانگ کانگ اسٹاک ایکسچینج (HKEX) میں MicroBT کی جانب سے ہانگ کانگ کے پہلے Bitcoin and Gold ETF کا آغاز بھی اسی نوعیت کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں