پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج KSE-100 انڈیکس نے دن کی نچلی سطح 166,206 سے ایک نمایاں ریکوری دکھاتے ہوئے 170,512 پر بندش دی۔ یہ مضبوط واپسی 170,000 کی نفسیاتی سپورٹ پر خریداروں کی دلچسپی اور مارکیٹ میں رینج باؤنڈ کنسولیڈیشن کے رجحان کی تصدیق کرتی ہے۔
"us pce report released which caused uncertainity in us dollar index" کے لیے 560 نتائج۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج KSE-100 انڈیکس نے دن کی نچلی سطح 166,206 سے ایک نمایاں ریکوری دکھاتے ہوئے 170,512 پر بندش دی۔ یہ مضبوط واپسی 170,000 کی نفسیاتی سپورٹ پر خریداروں کی دلچسپی اور مارکیٹ میں رینج باؤنڈ کنسولیڈیشن کے رجحان کی تصدیق کرتی ہے۔
یمنی حوثیوں Houthis Rebels کی جانب سےآبنائے باب المندب کے قریب واقع انتہائی اسٹریٹجک جزیرے 'پرم' پر کنٹرول حاصل کرنے اور ساحلی قصبے دھوباب پر قبضے کی خبروں نے عالمی سطح پر سپلائی چین کے بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 انڈیکس نے آج دن کے نچلے ترین سطح سے نمایاں ریکوری کرتے ہوئے 170,735 پوائنٹس پر بندش دی ہے۔ یہ 170,000 کی نفسیاتی سپورٹ سطح پر استحکام اور وسیع البنیاد فروخت کے بجائے رینج باؤنڈ کنسولیڈیشن کے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔
سرگودھا سے تعلق رکھنے والی معروف زرعی برآمد کنندہ کمپنی SE Fruits and Vegetable Limited نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر اپنے Initial Public Offering (IPO) کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔
Kalshi کا ارادہ ہے کہ وہ کریپٹو کرنسی (Cryptocurrency) کی دنیا کی ایک مقبول ترین پروڈکٹ — یعنی پرپیچوئل فیوچرز (Perpetual Futures) کو امریکی اسٹاک مارکیٹ میں لے کر آئے۔
پاکستانی ادارہ شماریات کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، کیڑے مار ادویات، زرعی مشینری، کیمیکلز اور کھادوں کی درآمدات میں اہم تبدیلیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔
بلاک چین کمپنی Ripple نے اپنے 1 بلین ڈالر کی لاگت سے خریدی گئی کارپوریٹ ٹریژری سروسز میں AI agents کو متعارف کروا دیا ہے۔ یہ قدم روایتی فنانس اور جدید ٹیکنالوجی کے امتزاج کی ایک بہترین مثال ہے
امریکی صدر Donald Trump کا یہ طنزیہ اور مسکراتے ہوئے دیا گیا Iran War کے حوالے سے بیان دراصل سیاست اور سفارتکاری کا ایک ایسا انوکھا انداز ہے جو صرف ان کی ہی شخصیت کا خاصہ ہے۔
آج جمعہ کے روز ٹریڈنگ کے آغاز ہی میں PSX کو ایک طرح سے مارکیٹ کریش کا سامنا کرنا پڑا، جہاں بینچ مارک KSE100 انڈیکس تقریباً 2600 پوائنٹس تک گر گیا
گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں یمنی ساحل پر ہونے والی فوجی پیش رفت اور بحیرہ احمر (Red Sea) میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی فنانشل مارکیٹس اور کماڈٹی ٹریڈرز کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ Red Sea oil supply disruption کا خطرہ اب محض ایک نظریاتی بحث نہیں رہا بل
مشرق وسطیٰ کا خطہ ایک بار پھر عالمی معیشت کے لیے ایک بڑے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے، جہاں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور یمن کے ساحلی شہر Mocha Port پر ایران کے حمائت یافتہ حوثی باغیوں کے قبضے نے توانائی کی سپلائی چین کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
سعودی عرب کی خام تیل کی پیداوار گزشتہ 36 سالوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ خطے میں جاری تنازعات، اہم سمندری گزرگاہوں کی بندش اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں نے سعودی عرب کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنی سپلائی میں نمایاں کمی کرے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں