گزشتہ روز کے سیشن میں تقریباً ایک فیصد کی گراوٹ کے بعد KSE100 انڈیکس نے جمعرات کی صبح زبردست واپسی کی۔ کاروبار کے ابتدائی منٹوں میں انڈیکس 950 سے زائد پوائنٹس اوپر چلا گیا اور 175734.10 کی سطح تک پہنچ گیا۔
"psx got bullish momentum after financing deal news with united arab emirates" کے لیے 845 نتائج۔
گزشتہ روز کے سیشن میں تقریباً ایک فیصد کی گراوٹ کے بعد KSE100 انڈیکس نے جمعرات کی صبح زبردست واپسی کی۔ کاروبار کے ابتدائی منٹوں میں انڈیکس 950 سے زائد پوائنٹس اوپر چلا گیا اور 175734.10 کی سطح تک پہنچ گیا۔
آج PSX میں نئے کارباری ہفتے کا پہلا دن ہے۔ تاہم اس بار اسٹاک مارکیٹ میں معمول کی سرگرمیوں میں اختتام ہفتہ کو پیش آنیوالے سیاسی واقعات کا معاشی ردعمل آنے کا امکان ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا کے ایس ای 100 انڈیکس 0.72 فیصد کمی کے ساتھ 168,695 پوائنٹس پر بند ہو گیا۔ ٹریڈنگ کے دوران 170,000 کی اہم حمایتی سطح ٹوٹنے کے بعد فروخت کے دباؤ میں اضافہ دیکھا گیا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے ایرانی وفد کو ملک چھوڑنے کے احکامات، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت بیانات اور ایرانی پارلیمنٹ کے ردعمل نے ایک نئے معاشی محاذ کو جنم دیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کے سیشن کا اختتام 169,969 پوائنٹس پر ہوا جہاں KSE-100 انڈیکس نے 0.63 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا۔ دن کے دوران انڈیکس نے 172,756 کی بلند ترین سطح کو چھوا مگر اوپری سطحوں پر پرافٹ ٹیکنگ کے باعث 170,000 سے ذرا نیچے بند ہوا۔
پاکستان کی معاشی صورتحال میں افراط زر 11.10 فیصد اور اسٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ 11.50 فیصد رہنے سے مثبت حقیقی شرح سود کا فریم ورک برقرار ہے۔ ڈالر 276.88 روپے کی سطح پر مستحکم ہے جبکہ KSE-100 انڈیکس 169,600 پوائنٹس کی سطح پر مضبوط تجارتی سگنل فراہم کر رہا ہے۔
تیل اور گیس کے شعبے میں پاکستان کی سب سے بڑی کمپنی آئل اینڈ گیس ڈیویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (PINSTECH) کے ساتھ ایک اہم معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ معاہدہ ملک میں OGDCL Lithium Exploration کے سفر کا آغاز کر رہا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر ہی فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک KSE100 انڈیکس میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ معاشی اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے سائے میں سرمایہ کاروں کا رسک لینے کا رجحان محدود نظر آتا ہے
پاکستان کی معاشی بحالی کا عمل تیز تر ہو گیا ہے جہاں 11.10 فیصد افراطِ زر اور 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کے ساتھ حقیقی شرح سود مثبت زون میں ہے۔ ترسیلاتِ زر اور آئی ایم ایف پروگرام کی بدولت روپیہ 276.96 پر مستحکم ہے جبکہ کے ایس ای 100 انڈیکس 170,765 کی نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج ( PSX) میں جمعہ کے روز کاروبار کے آغاز پر زبردست خریداری کا رجحان دیکھا گیا، جس کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی اور مصالحت کی خبریں تھیں۔ بینچ مارک KSE100 انڈیکس میں چار سو سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی آئندہ میٹنگ میں پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس کی کمی کر سکتی ہے۔ اگست میں افراط زر 11.10% پر آ گیا ہے، جو موجودہ پالیسی ریٹ 11.50% سے کم ہے، جس سے حقیقی شرح سود مثبت ہو گئی ہے۔ یہ صورتحال معاشی سرگرمیوں کو سہارا دینے کے لیے شرح سود میں کمی کی راہ ہموار کرتی ہے۔
پاکستان کی معیشت میں آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات اور متوازن بیرونی کھاتوں کے باعث استحکام آ رہا ہے۔ افراطِ زر میں کمی کے بعد مرکزی بینک کی طرف سے شرح سود میں مزید نرمی کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں