فیڈرل بورڈ آف ریوینو (FBR) نے کوکنگ آئیل اور گھی کی مصنوعات فراہم کرنے والے رجسٹرڈ افراد کے لیے ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ (Input Tax Adjustment) کو آسان بناتے ہوئے اس میں اضافے کی اجازت دے دی ہے۔
"eurio technical analysis as bullish control continues instead of the decrease in the gains" کے لیے 553 نتائج۔
فیڈرل بورڈ آف ریوینو (FBR) نے کوکنگ آئیل اور گھی کی مصنوعات فراہم کرنے والے رجسٹرڈ افراد کے لیے ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ (Input Tax Adjustment) کو آسان بناتے ہوئے اس میں اضافے کی اجازت دے دی ہے۔
پیپلز بینک آف چائنا نے آج اپنے اعلان میں لون پرائم ریٹس (Loan Prime Rates LPR) کو بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت ایک سالہ لون پرائم ریٹ 3.00 فیصد اور پانچ سالہ لون پرائم ریٹ 3.50 فیصد پر قائم ہے۔
جاپان کے معروف مالیاتی ادارے ایس بی آئی گروپ نے حال ہی میں سٹیبل کوائن (stablecoin) ادائیگیوں کی معروف فرم "ڈی ٹی سی پے" کے 25 ملین ڈالر کے سیریز اے (Series A) فنڈنگ راؤنڈ میں اسٹریٹجک سرمایہ کاری مکمل کی ہے
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 انڈیکس نے آج 1.18% کے اضافے کے ساتھ 171,037 پوائنٹس پر بندش دی، جو 166,200 کی اہم سپورٹ سطح سے ایک مضبوط واپسی کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ حرکت پچھلے دن کے بیئرش بریک ڈاؤن کو کمزور کرتی ہے اور مارکیٹ میں رجحان کی تبدیلی کے امکانات کو بڑھاتی ہے، تاہم، پائیدار تیزی کے لیے مزید تصدیق درکار ہے۔
Silicon Valley کے سب سے بڑے شہر، سان ہوزے (San Jose) میں، رہائشیوں اور ماحولیاتی تنظیموں نے ان ڈیٹا سینٹر پروجیکٹس کے خلاف منظم تحریک شروع کر دی ہے جنہیں سرکاری حکام نےAI Data Centers انفراسٹرکچر کا مرکز بنانے کے لیے خوش آمدید کہا تھا۔
وزارتِ خزانہ کا ماننا ہے کہ نیٹ فسکل فلو میں کمی کو سرکاری اداروں کی مجموعی مالیاتی صحت خراب ہونے کے ساتھ جوڑنا ایک غلط فہمی ہے۔ یہ دونوں بالکل الگ پیمانے ہیں جنہیں آپس میں خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔
حال ہی میں پاکستان نے ایک تاریخی سنگ میل عبور کیا ہے جب اسے اس کے 1.75 ارب چینی یوان یا تقریباً 258 ملین امریکی ڈالر کے پائیدار پانڈا بانڈ پر بین الاقوامی اعزاز سے نوازا گیا
مصنوعی ذہانت اب انسانی مدد کے بغیر خود اپنے کوڈ کو بہتر بنانے کی صلاحیت حاصل کر رہی ہے، جو کہ ایک خطرناک اور تیز رفتار لامتناہی سلسلہ بن سکتا ہے۔
پاکستانی روپیہ (PKR) آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں مزید کمزور ہو کر 277.72 روپے پر بند ہوا، جو عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی مارکیٹ میں طلب کے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ پچھلے دن کی معمولی بہتری کا رجحان برقرار نہ رہ سکا، جس سے روپے پر قلیل مدتی دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج KSE-100 انڈیکس نے 166,206 کی انٹرا ڈے کم ترین سطح سے نمایاں ریکوری کرتے ہوئے 0.85% کے اضافے کے ساتھ 169,392 پر بندش دی ہے۔ یہ حرکت پچھلے دن کے بیئرش بریک ڈاؤن کے بعد ایک ممکنہ ریورسل اٹیمپٹ کی نشاندہی کرتی ہے، تاہم 170,000 کی نفسیاتی مزاحمتی سطح سے نیچے کی بندش اب بھی محتاط رویے کا تقاضا کرتی ہے۔
یمن کی حوثی فورسز کی طرف سے Houthis attack on Saudi Arabia اور باب المندب کے قریب بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کے حوالے سے شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
آج KSE-100 انڈیکس میں 3.82% کی نمایاں کمی دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں انڈیکس 167,971 پوائنٹس پر بند ہوا۔ یہ گراوٹ 170,000 کی اہم نفسیاتی اور تکنیکی سپورٹ سطح سے نیچے کی بندش کو ظاہر کرتی ہے، جو مارکیٹ میں ایک واضح بیئرش بریک ڈاؤن اور ڈیلیوریجنگ کے رجحان کی نشاندہی کرتی ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں