پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں آج سرمایہ کاروں کو اتار چڑھاؤ اور امید کی ملی جلی فضا کا سامنا ہے۔ جہاں PSX نے منگل کے روز ابتدائی لمحات میں شاندار بحالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 300 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا
"gold value decreased after jerome powell hawkish policy rate statement" کے لیے 688 نتائج۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں آج سرمایہ کاروں کو اتار چڑھاؤ اور امید کی ملی جلی فضا کا سامنا ہے۔ جہاں PSX نے منگل کے روز ابتدائی لمحات میں شاندار بحالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 300 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا
US CPI 3.35% پر مستحکم، 10 سالہ بانڈ ییلڈ 5.240% تک بڑھا اور ڈالر انڈیکس 101.27 پر مستحکم۔ فیڈ کی طویل عرصے تک بلند شرح سود کی پالیسی عالمی رسک‑آف کو مزید سخت کر رہی ہے۔
مالیاتی دنیا کے بڑے ناموں میں سے ایک Goldman Sachs نے اپنے تقریباً 100 بلین ڈالر کے ٹریژری فنڈ کو انسٹی ٹیوشنل کرپٹو فرموں کے لیے قابل رسائی بنا دیا ہے۔
ان دنوں گلوبل مارکیٹ میں USDCAD میں تیزی کا موضوع انتہائی زیرِ بحث ہے، جہاں کینیڈین ڈالر (CAD) کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں شدید دباؤ کا سامنا ہے۔
STOXX 600 ابتدائی یورپی تجارت میں 0.3 فیصد بڑھ کر 640.43 پوائنٹس پر پہنچا، لیکن شعبوں کی کارکردگی میں نمایاں فرق رہا۔ برطانیہ نے پہلی مرتبہ گھر خریدنے والوں کے لیے نئے ایکویٹی قرض پروگرام کا اعلان کیا ہے؛ مزید تفصیلات آئندہ ماہ کے بجٹ میں آنی ہیں۔ برطانوی ہاؤسنگ کمپنیوں کا اشاریہ تقریباً 16 فیصد بڑھا، بڑی کمپنیوں کے حصص میں 6 سے 23 فیصد تیزی آئی اور FTSE 250 تقریباً 1 فیصد اوپر رہا۔ برینٹ خام تیل میں 3 فیصد سے زیادہ اضافے کے ساتھ توانائی کے حصص بڑھے، جبکہ مضبوط ڈالر اور دھاتوں کی کمزوری سے کان کنی کا شعبہ دباؤ میں رہا۔ تیزی کے تسلسل کے لیے خریداری کا دوسرے شعبوں تک پھیلنا اہم ہوگا؛ تیل، بانڈ منافع اور ECB و BoE حکام کے بیانات اگلے نمایاں عوامل ہیں۔
SBP، Fed، ECB اور دیگر مرکزی بینکوں کے تازہ بیانات کے ساتھ ساتھ امریکی روزگار ڈیٹا نے ڈالر کو مضبوط کیا، جس سے پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی کمی آئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر ہی فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک KSE100 انڈیکس میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ معاشی اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے سائے میں سرمایہ کاروں کا رسک لینے کا رجحان محدود نظر آتا ہے
ایک طرف جہاں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت شرائط برقرار ہیں، وہیں دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے امریکہ اور تہران کے درمیان مذاکرات کی توقعات نے تجارتی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ دی ہے
BTC کی تازہ دستیاب قیمت تقریباً 85,000 ڈالر ہے؛ سات دن کی بلند سطح 87,330 ڈالر کے قریب رہی، اس لیے حالیہ بحالی کے باوجود پچھلی چوٹی ابھی دوبارہ حاصل نہیں ہوئی۔ 21 سے 25 ستمبر کے دوران امریکی Bitcoin ETF میں تقریباً 2.386 ارب ڈالر کی خالص آمد ہوئی؛ یہ مثبت طلب ہے، مگر تمام سرمایہ صرف ادارہ جاتی خریداروں کا نہیں سمجھا جاسکتا۔ BTC فنڈز کی روزانہ خالص آمد پیر کے 999 ملین سے جمعہ کو 134.5 ملین ڈالر رہ گئی؛ پانچوں سیشن مثبت تھے، لیکن خریداری کی روزانہ رفتار مسلسل کم ہوئی۔ ETH تقریباً 2,714 ڈالر ہے اور ہفتے میں 2,804 ڈالر تک جاچکا ہے؛ 2,750 سے 2,820 کی مزاحمت کے اوپر قیام اہم ہے، جبکہ ہفتہ وار ETF آمد تقریباً 690 ملین ڈالر رہی۔ BTC کے لیے 83,800 سے 84,000 کی حمایت اور 85,000 سے 85,800 کی مزاحمت قابلِ توجہ ہیں؛ ETH/BTC تقریباً 0.032 ہونے سے وسیع آلٹ کوائن گردش خودبخود ثابت نہیں ہوتی۔
US 10Y ییلڈ 5.184% پر مستحکم رہتے ہوئے 2 سالہ ییلڈ کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس سے عالمی سرکاری بانڈ مارکیٹ میں بیئر اسٹیپننگ کا رجحان واضح ہو رہا ہے۔
بٹ کوئن $84,499 پر مستحکم ہو رہا ہے جبکہ ڈیرائیوٹیوز مارکیٹ میں لیوریج کی صفائی کے بعد اب سپاٹ خریدار مارکیٹ کو سنبھال رہے ہیں۔ ایتھیریم $2,707 اور مقامی USDT/PKR ریٹ 276.94 روپے پر موجود ہے۔
خام تیل کی مارکیٹ میں تازہ ترین سیشن کے دوران شدید فروخت کا دباؤ دیکھا گیا ہے، جس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل 2.77 فیصد کمی کے ساتھ $97.44 فی بیرل پر آ گیا ہے۔ اس رپورٹ میں ہم بنیادی محرکات، برینٹ ڈبلیو ٹی آئی اسپریڈ اور مستقبل کے منظرناموں کا تفصیل سے جائزہ لیں گے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں