عالمی مارکیٹس میں توانائی کا بحران اس وقت اپنے عروج پر ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ Saudi Oil Crisis اور مشرقِ وسطیٰ میں حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے۔
"news commodities" کے لیے 680 نتائج۔
عالمی مارکیٹس میں توانائی کا بحران اس وقت اپنے عروج پر ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ Saudi Oil Crisis اور مشرقِ وسطیٰ میں حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے۔
موجودہ عالمی معاشی منظر نامے میں امریکی حکومت کے بانڈزکیYields میں ہونے والا تاریخی اضافہ پوری معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اس صورتحال نے ایک بار پھر ان قیاس آرائیوں کو تقویت دی ہے کہ فیڈرل ریزرو بانڈز مارکیٹ میں مداخلت کرنیوالا ہے۔
پاکستانی روپیہ (PKR) آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں مزید گراوٹ کا شکار ہوا، جو عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی مارکیٹ میں بنیادی طلب کے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ پچھلے دن کی معمولی بہتری کا رجحان برقرار نہ رہ سکا۔
Bitcoin $77,000 کی اہم مزاحمتی سطح کو عبور کرنے میں ناکام رہا ہے، جس سے اس کی بیئرش کنسولیڈیشن جاری ہے۔ ایتھیریم کی نسبتی کمزوری اور ڈیریویٹوز میں اوپن انٹرسٹ میں کمی پائیدار تیزی کے لیے اعتماد کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں آج KSE-100 انڈیکس نے 3.80% کی نمایاں کمی کے ساتھ 168,022 پوائنٹس پر بندش دی، جو پچھلے دن کی ریکوری کو مکمل طور پر ختم کر گیا۔ یہ گراوٹ 166,200 کی اہم سپورٹ سطح کے قریب ایک بیئرش بریک ڈاؤن اور وسیع پیمانے پر فروخت کے دباؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔
عالمی مارکیٹس میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھائو ہمیشہ سے سرمایہ کاروں کے لیے ایک پُرجوش اور حساس موضوع رہا ہے۔ آج ڈبلیو ٹی آئی خام تیل میں اس وقت نمایاں کمی دیکھنے میں آئی جب یہ 100 ڈالر فی بیرل کے قریب آ گیا۔
آج یورو سٹیٹ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جولائی کے مہینے میں Eurozone Industrial Production میں 0.1 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی
فنانشل مارکیٹس اور کرپٹو انڈسٹری کی تاریخ میں کچھ لمحات ایسے آتے ہیں جو طویل مدتی سمت کا تعین کرتے ہیں۔ Clarity Act کی امریکی سینیٹ میں ناکامی ایسا ہی ایک اہم موڑ ہے، جس نے سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
مصنوعی ذہانت اب انسانی مدد کے بغیر خود اپنے کوڈ کو بہتر بنانے کی صلاحیت حاصل کر رہی ہے، جو کہ ایک خطرناک اور تیز رفتار لامتناہی سلسلہ بن سکتا ہے۔
پاکستانی روپیہ (PKR) آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں مزید کمزور ہو کر 277.72 روپے پر بند ہوا، جو عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی مارکیٹ میں طلب کے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ پچھلے دن کی معمولی بہتری کا رجحان برقرار نہ رہ سکا، جس سے روپے پر قلیل مدتی دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔
عالمی بانڈ ییلڈز میں تاریخی اضافہ دنیا بھر کی حکومتوں، کارپوریٹ اداروں اور عالمی مارکیٹس کے لیے ایک بہت بڑا امتحان بن چکا ہے۔ 2008 کے مالیاتی بحران کے بعد پہلی بار حکومتوں کے قرض لینے کے اخراجات اس سطح پر پہنچ گئے ہیں جہاں معاشی ترقی اور بڑھتے ہوئے قرضوں کے بوجھ کے درمیان توازن برقرار رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔
کرپٹو انڈسٹری میں اتار چڑھاؤ اس وقت عروج پر پہنچ گیا جب Clarity Act پر امریکی سینیٹ میں ووٹنگ کے تناظر میں Bitcoin کی قیمت لڑھک کر 77,000 ڈالر تک آ گئی۔ کرپٹو کرنسی (cryptocurrency) مارکیٹ کے لیے یہ دن انتہائی اہم نوعیت کا حامل ہے کیونکہ امریکی سینیٹ (US Senate) میں کلیدی ضابطہ جاتی بل پر کارروائی جاری ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں