یورپی یونین کے ممالک پر امریکی دباؤ کے بعد ہنگامی ڈیزل ذخائر جاری کرنے کے حوالے سے اہم مشاورت شروع ہو چکی ہے۔ موجودہ جغرافیائی سیاسی تنازعات اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے۔
"pakistani current account report released first surplus recorded in three years" کے لیے 1120 نتائج۔
یورپی یونین کے ممالک پر امریکی دباؤ کے بعد ہنگامی ڈیزل ذخائر جاری کرنے کے حوالے سے اہم مشاورت شروع ہو چکی ہے۔ موجودہ جغرافیائی سیاسی تنازعات اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے۔
برینٹ (Brent Crude Oil) 2.77 فیصد کم ہوکر 99.48 ڈالر، جبکہ WTI 3.61 فیصد گر کر 89.52 ڈالر فی بیرل رہا۔ فرانسیسی تجویز میں یورپی ممالک سے 50 ملین بیرل ڈیزل اور عالمی توانائی ایجنسی کے ارکان سے مزید 50 ملین بیرل خام تیل جاری کرنے کی بات شامل ہے۔ یورپی گیس آئل فیوچرز 5 فیصد سے زیادہ گر کر تقریباً 1,377 ڈالر فی میٹرک ٹن تک آئے۔ مذاکرات میں امریکا کی جانب سے یکطرفہ ڈیزل برآمدی پابندی نہ لگانے کی یقین دہانی بھی اہم معاملہ ہے۔ مجوزہ حجم کے ساتھ منظوری، ترسیل کا شیڈول اور ریفائنڈ ایندھن کی حقیقی دستیابی اگلا فیصلہ کن مرحلہ ہوں گے۔
ڈالر انڈیکس کی 101.94 کی سطح پر مضبوطی نے عالمی رسک‑آن لہر کو کمزور کر کے مارکیٹ کو خطرہ‑آف رجیم کی طرف موڑ دیا، حالانکہ امریکی CPI 3.35% پر مستحکم رہنے سے ڈس انفلیشن کی امید برقرار ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں زبردست فروخت کے دباؤ کی زد میں آ گئی ہیں جہاں برینٹ خام تیل 3.11 فیصد کمی کے ساتھ 99.13 ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی 4.02 فیصد گر کر 89.14 ڈالر پر آ گیا ہے۔ سپریڈ پھیلاؤ اور پرافٹ ٹیکنگ نے مارکیٹ کے سابقہ استحکام کو ختم کر دیا ہے۔
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت (Pakistan Petroleum Sales September 2026) میں ستمبر 2026 کے دوران سالانہ بنیادوں پر (YoY) 2 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد کُل فروخت 1.35 ملین ٹن پر آگئی ہے۔
24 قیراط سونا 2,000 روپے اضافے سے 440,636 روپے فی تولہ ہوگیا۔ 10 گرام سونا 377,774 روپے، جبکہ چاندی 50 روپے بڑھ کر 6,578 روپے فی تولہ رہی۔ مقامی نرخ کے ساتھ رپورٹ کردہ عالمی حوالہ 20 ڈالر بڑھ کر 4,181 ڈالر فی اونس ہوگیا۔ جمعہ کی تیزی نے جمعرات کی کمی کا تقریباً دو تہائی حصہ واپس لیا؛ دونوں سیشنز کی مجموعی تبدیلی اب بھی 1,000 روپے منفی ہے۔ پیر سے جمعہ تک جاری کردہ فی تولہ نرخ 437,336 سے 441,636 روپے کی پرائس رینج میں رہے۔
EUR/USD 1.12700 پر -0.18% گرا، جبکہ DXY 101.84 پر -0.25% کم ہوا۔ USD کی کمزوریت کے باوجود یورپی کرنسی کی کمی نے پہلے کی اپ‑ٹرن تھیسس کو بدل دیا۔
USD/JPY تقریباً 158.03 پر ہے۔ 158.25–158.50 کے اوپر قیمت برقرار رہنا مزید تیزی کی پہلی اہم شرط ہے۔ 157.30–157.50 فوری سپورٹ ہے، جبکہ 156.80–157.00 کے نیچے بریک ڈاؤن حالیہ ریکوری کو کمزور کرسکتا ہے۔ بڑے پرائس ایکشن میں ستمبر کی گراوٹ کے بعد 153.50 کے قریب سے ریکوری ہوئی ہے، جبکہ قلیل مدتی پرائس ایکشن میں خریداروں نے Higher Highs and Higher Lows بنانے کی کوشش کی ہے۔ بینک آف جاپان (BoJ) نے ستمبر میں پالیسی ریٹ بڑھا کر 1.25 فیصد کردیا تھا، جبکہ امریکی فیڈرل ریزرو نے 16 ستمبر کو Fed Funds Target Range کو بڑھا کر 3.75–4.00 فیصد کردیا۔ آج مارکیٹ کی توجہ امریکی Nonfarm Payrolls (NFP)، بے روزگاری کی شرح اور اجرتوں کے اعداد پر ہے، کیونکہ یہ امریکی شرح سود اور ڈالر کی سمت کے لیے اہم ہوسکتے ہیں۔ ستمبر کے لیے مارکیٹ کی توقع تقریباً 90,000 نئی ملازمتوں اور 4.1 فیصد بے روزگاری کی شرح کی ہے۔
آج EURUSD کی محدود رینج اس بات کا احاطہ کر رہی ہے کہ کس طرح امریکی نان فارم پے رولز رپورٹ اور افراط زر کے اعداد و شمار اس اہم کرنسی جوڑے کی اگلی سمت کا تعین کر رہے ہیں
Ethereum نے $2,727 کی نئی بلند ترین سطح عبور کی ہے، جس سے پچھلے دن کی رینج‑بریک آؤٹ کی توثیق اور اوپر کی سمت کی توقع پیدا ہوتی ہے۔
بٹ کوائن (BTC/USD) نے 2.22 فیصد اضافے کے بعد 85,940 ڈالر پر پوزیشن سنبھال لی ہے۔ کنسولیڈیشن زون کے بریک آؤٹ اور 86,752 ڈالر کے یومیہ ہائی کے بعد ادارہ جاتی ڈیمانڈ اور ہالوِنگ سپلائی ڈائنامکس کا جائزہ۔
بٹ کوئن نے 83,000 ڈالر کی طویل اصلاحی رینج کو توڑتے ہوئے 85,939 ڈالر پر بریک آؤٹ درج کیا ہے۔ ایتھیریم میں معمولی پیش رفت کے ساتھ پاکستانی P2P مارکیٹ میں USDT مستحکم بنا ہوا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں