امریکی افراطِ زر 3.35 فیصد پر جمود کا شکار رہنے کے بعد ڈالر انڈیکس (DXY) 102.21 کی سطح تک پہنچ گیا ہے، جس سے عالمی مالیاتی مارکیٹوں میں خطرہ ٹالنے کے رجحان کو تقویت مل رہی ہے۔
"british pound reached on one yeas highest level us dollar on defensive side" کے لیے 1186 نتائج۔
امریکی افراطِ زر 3.35 فیصد پر جمود کا شکار رہنے کے بعد ڈالر انڈیکس (DXY) 102.21 کی سطح تک پہنچ گیا ہے، جس سے عالمی مالیاتی مارکیٹوں میں خطرہ ٹالنے کے رجحان کو تقویت مل رہی ہے۔
ڈجیٹل اثاثہ جات اور روایتی فنانس کے درمیان پُل کا کردار ادا کرنے والی خبروں میں، کرپٹو ایکسچینج کریکن (Kraken) کی آپریٹر کمپنی پے وارڈ (Payward) نے سنگاپور گلف بینک (Singapore Gulf Bank SGB) کے ساتھ ایک اہم شراکت داری کا اعلان کیا ہے
پاکستان کی مچھیوں اور سمندری خوراک کی برآمدات یعنی Pakistan Seafood Exports میں رواں مالی سال کے پہلے سہ ماہی (1QFY27) کے دوران شاندار اضافہ دیکھا گیا ہے۔
جاپانی وزیراعظم ثنائ تاکائچی (Sanae Takaichi) نے پارلیمنٹ سے اپنے پالیسی خطاب میں مالیاتی نظم و ضبط (Fiscal Discipline) قائم رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
فنانشل مارکیٹس میں ہفتے کے آغاز پر ہی غیر معمولی ہلچل دیکھنے میں آئی ہے، جہاں دنیا کی سب سے بڑی کرنسیز کا ٹریڈنگ پیئر EURUSD کے تحت شدید دباؤ کا شکار ہو گئی۔ یورو کی قدر میں اس زبردست کمی نے اسے مئی 2025 کی کم ترین سطح پر لا کھڑا کیا ہے
بینک آف جاپان کے ڈپٹی گورنر شینیچی اوچیڈا نے ایک اہم بیان میں انکشاف کیا ہے کہ BOJ AI Monetary Policy کے فیصلوں میں اب ایک مرکزی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس 11.10 فیصد افراطِ زر اور 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کی موجودگی کے باعث 40 بیسس پوائنٹس کی مثبت حقیقی شرحِ سود موجود ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی میٹنگ میں شرحِ سود میں 50 تا 100 بیسس پوائنٹس کمی کا راستہ صاف نظر آتا ہے۔
آسٹریلین ڈالر نے امریکی لیبر مارکیٹ کے کمزور اعداد و شمار کے بعد ایشیائی سیشن کے آغاز میں مثبت رجحان دکھاتے ہوئے 0.6950 کی سطح کو عبور کر لیا ہے۔ اس وقت مارکیٹ کے شرکاء اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ کس طرح امریکہ اور آسٹریلیا کے معاشی اشاریے AUDUSD کو متاثر کر رہے ہیں۔
امریکی افراط زر کی 3.35 فیصد سطح اور 10 سالہ ٹریژری ییلڈ کے 5.277 فیصد پر استحکام نے فیڈرل ریزرو کی سخت پالیسی طویل تر رکھنے کی توثیق کر دی ہے، جس سے ڈالر انڈیکس 101.92 پر کھڑا ہو کر عالمی اثاثوں کو متاثر کر رہا ہے۔
پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق ہیڈلائن افراط زر 11.10 فیصد پر آنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کے باعث مثبت حقیقی شرح سود بحال ہو چکی ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی اجلاس میں مزید ریٹ کٹ کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔
یورپی یونین کے ممالک پر امریکی دباؤ کے بعد ہنگامی ڈیزل ذخائر جاری کرنے کے حوالے سے اہم مشاورت شروع ہو چکی ہے۔ موجودہ جغرافیائی سیاسی تنازعات اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے۔
ڈالر انڈیکس کی 101.94 کی سطح پر مضبوطی نے عالمی رسک‑آن لہر کو کمزور کر کے مارکیٹ کو خطرہ‑آف رجیم کی طرف موڑ دیا، حالانکہ امریکی CPI 3.35% پر مستحکم رہنے سے ڈس انفلیشن کی امید برقرار ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں