ستمبر کے مہینے کے لیے جاری ہونے والی اس رپورٹ نے نہ صرف وال اسٹریٹ (Wall Street) کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ دنیا بھر کے کرنسی اور کموڈٹی ٹریڈرز کو بھی نئی حکمت عملی اپنانے پر مجبور کر دیا۔
"delay in imf agreement decline in psx" کے لیے 1113 نتائج۔
ستمبر کے مہینے کے لیے جاری ہونے والی اس رپورٹ نے نہ صرف وال اسٹریٹ (Wall Street) کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ دنیا بھر کے کرنسی اور کموڈٹی ٹریڈرز کو بھی نئی حکمت عملی اپنانے پر مجبور کر دیا۔
ٹیتھر (Tether) کا سب سے بڑا سٹیبل کوائن USDT ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے بعد اپنے اصل گھر یعنی بٹ کوائن (Bitcoin) پر واپس آ رہا ہے۔ یہ پیش رفت کرپٹو انڈسٹری میں ایک نئے دور کا آغاز کر رہی ہے
امریکی 10 سالہ بانڈ ییلڈ 5.237% اور ڈالر انڈیکس 102.01 پر پہنچنے سے فیڈرل ریزرو کی سخت مالیاتی پالیسی کا تسلسل ثابت ہو رہا ہے۔ افراط زر کی 3.35% سطح پر موجودگی عالمی اثاثوں کے لیے اہم خطرہ ہے۔
برطانوی پاؤنڈ (GBP/USD) سیشن کے دوران 0.37% کی کمی کے ساتھ 1.32078 کی سطح پر معامله ہو رہا ہے۔ بینک آف انگلینڈ اور فیڈ کی پالیسیوں کا تفاوت اور امریکی بانڈ ییلڈز میں کمی فاریکس مارکیٹ میں نیا موڑ لا رہے ہیں۔
XAU/USD تقریباً 4,182.7 پر ہے۔ H1 پر 4,156–4,160 فوری سپورٹ کے طور پر اہم ہے۔ 4,133–4,135 کے قریب اگلی اہم سپورٹ نظر آتی ہے۔ اوپر کی جانب 4,204–4,212 ابتدائی ریزسٹینس ہے۔ اس کے بعد 4,228–4,252 کا زون اہم رکاوٹ بن سکتا ہے۔ D1 RSI تقریباً 41.11 ہے، جبکہ H4 RSI 49.34 اور H1 RSI 54.66 ہے۔ H1 مومینٹم میں بہتری ہے، لیکن D1 چارٹ ابھی واضح بُلش ریورسل کی تصدیق نہیں کرتا۔ 4,200 کے اوپر مستقل قیمت برقرار رہنا مزید ریکوری کے لیے اہم ہوگا۔ 4,156 کے نیچے کمزوری اور پھر 4,133 کے نیچے بریک ڈاؤن مزید دباؤ کی علامت ہوسکتا ہے۔
USD/PKR دستیاب مارکیٹ ڈیٹا میں 277.05 رہا؛ حتمی انٹربینک اختتامی نرخ کی الگ تصدیق ضروری ہے۔ عالمی ڈالر کی مضبوطی اور روپے کی محدود بہتری ایک ساتھ ممکن ہیں، کیونکہ دونوں کے محرکات مکمل طور پر یکساں نہیں۔ امریکی بانڈ ییلڈز فاریکس مارکیٹ کے لیے اہم ہیں، مگر ان میں ہر اضافہ لازماً ڈالر میں تیزی یا رسک آف ماحول کی تصدیق نہیں کرتا۔ یورو زون میں بلند مہنگائی کے ساتھ فرانس کے مالیاتی خطرات بھی EUR/USD پر اثر ڈال رہے ہیں۔ امریکی روزگار کی رپورٹ کے بعد ڈالر، بانڈ ییلڈز اور شرح سود کی توقعات میں تبدیلی اگلا اہم محرک ہوگی۔
یورپی یونین کے ممالک پر امریکی دباؤ کے بعد ہنگامی ڈیزل ذخائر جاری کرنے کے حوالے سے اہم مشاورت شروع ہو چکی ہے۔ موجودہ جغرافیائی سیاسی تنازعات اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے۔
برینٹ (Brent Crude Oil) 2.77 فیصد کم ہوکر 99.48 ڈالر، جبکہ WTI 3.61 فیصد گر کر 89.52 ڈالر فی بیرل رہا۔ فرانسیسی تجویز میں یورپی ممالک سے 50 ملین بیرل ڈیزل اور عالمی توانائی ایجنسی کے ارکان سے مزید 50 ملین بیرل خام تیل جاری کرنے کی بات شامل ہے۔ یورپی گیس آئل فیوچرز 5 فیصد سے زیادہ گر کر تقریباً 1,377 ڈالر فی میٹرک ٹن تک آئے۔ مذاکرات میں امریکا کی جانب سے یکطرفہ ڈیزل برآمدی پابندی نہ لگانے کی یقین دہانی بھی اہم معاملہ ہے۔ مجوزہ حجم کے ساتھ منظوری، ترسیل کا شیڈول اور ریفائنڈ ایندھن کی حقیقی دستیابی اگلا فیصلہ کن مرحلہ ہوں گے۔
ڈالر انڈیکس کی 101.94 کی سطح پر مضبوطی نے عالمی رسک‑آن لہر کو کمزور کر کے مارکیٹ کو خطرہ‑آف رجیم کی طرف موڑ دیا، حالانکہ امریکی CPI 3.35% پر مستحکم رہنے سے ڈس انفلیشن کی امید برقرار ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں زبردست فروخت کے دباؤ کی زد میں آ گئی ہیں جہاں برینٹ خام تیل 3.11 فیصد کمی کے ساتھ 99.13 ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی 4.02 فیصد گر کر 89.14 ڈالر پر آ گیا ہے۔ سپریڈ پھیلاؤ اور پرافٹ ٹیکنگ نے مارکیٹ کے سابقہ استحکام کو ختم کر دیا ہے۔
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت (Pakistan Petroleum Sales September 2026) میں ستمبر 2026 کے دوران سالانہ بنیادوں پر (YoY) 2 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد کُل فروخت 1.35 ملین ٹن پر آگئی ہے۔
24 قیراط سونا 2,000 روپے اضافے سے 440,636 روپے فی تولہ ہوگیا۔ 10 گرام سونا 377,774 روپے، جبکہ چاندی 50 روپے بڑھ کر 6,578 روپے فی تولہ رہی۔ مقامی نرخ کے ساتھ رپورٹ کردہ عالمی حوالہ 20 ڈالر بڑھ کر 4,181 ڈالر فی اونس ہوگیا۔ جمعہ کی تیزی نے جمعرات کی کمی کا تقریباً دو تہائی حصہ واپس لیا؛ دونوں سیشنز کی مجموعی تبدیلی اب بھی 1,000 روپے منفی ہے۔ پیر سے جمعہ تک جاری کردہ فی تولہ نرخ 437,336 سے 441,636 روپے کی پرائس رینج میں رہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں