پاکستان میں افراط زر کی شرح 11.10% تک نیچے آنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس پالیسی ریٹ کو 11.50% سے مزید کم کرنے کی گنجائش پیدا ہو چکی ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا آنے والا فیصلہ معاشی نمو اور مالیاتی استحکام کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا۔
"silver price recovered above 27 dollars as us bonds yields plunged 13 points" کے لیے 950 نتائج۔
پاکستان میں افراط زر کی شرح 11.10% تک نیچے آنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس پالیسی ریٹ کو 11.50% سے مزید کم کرنے کی گنجائش پیدا ہو چکی ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا آنے والا فیصلہ معاشی نمو اور مالیاتی استحکام کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا۔
عالمی فنانشل مارکیٹس (Global Financial Markets) میں حالیہ دنوں کے دوران ایک بار پھر شدیداتار چڑ ھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز ایک طرف فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کی جانب سے شرح سود (Interest Rates) میں متوقع اضافے ہیں، تو دوسری طرف مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں اضافہ ہے۔
فی الوقت، AUDUSD جوڑا 0.7016 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے، جب کہ سرمایہ کاروں کی تمام تر توجہ ریزرو بینک آف آسٹریلیا کے آنے والے مانیٹری پالیسی (Monetary policy) کے فیصلے پر مرکوز ہے۔
یورپی سینٹرل بینک کی صدر کرسٹین لیگارڈ نے حال ہی میں ایک اہم بیان میں واضح کیا ہے کہ زون کی معیشت کا پھیلاؤ مختلف شعبوں اور ملکوں میں جاری ہے، تاہم ECB کیلئے افراط زر میں عالمی حالات کی وجہ سے اضافے کے تحت حالات اب زیادہ چیلنجنگ ہوتے جا رہے ہیں۔
اٹک ریفائنری لمیٹڈ نے حال ہی میں اپنی سالانہ رپورٹ میں ایک نہایت اہم منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ملک میں ایک نیا 50,000 بیرل یومیہ کا جدید ڈیپ کنورژن پلانٹ قائم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے
امریکی فیڈرل ریزرو کی سخت پالیسی اور 10 سالہ ییلڈ کی 5.184 فیصد کی بلند سطح نے عالمی منڈیوں میں ری پرائسنگ کے عمل کو جاری رکھا ہوا ہے۔ افراط زر کے 3.35 فیصد پر قائم رہنے سے ابھرتی ہوئی معیشتوں پر شدید دباؤ ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر ہی فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک KSE100 انڈیکس میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ معاشی اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے سائے میں سرمایہ کاروں کا رسک لینے کا رجحان محدود نظر آتا ہے
عالمی مارکیٹس اور کرپٹو انڈسٹری میں ایک بار پھر جغرافیائی سیاسی تناؤ کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نومبر کے وسطی مدتی انتخابات سے قبل ایران پر مزید فوجی حملوں کے امکان کو رد نہ کرنے کے بعد، Bitcoin اور Nasdaq futures میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر تیزی کی جانب گامزن ہیں جہاں برینٹ 0.91 فیصد اضافے کے ساتھ $98.33 پر آگیا ہے۔ ڈبلیو ٹی آئی اور برینٹ کے درمیان اسپریڈ میں کمی امریکی طلب کی مضبوطی اور اوپیک پلس کے سپلائی کنٹرول کی عکاسی کرتی ہے۔
امریکہ اور چین نے اپنے تجارتی معاہدے میں دو ماہ کی توسیع کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ واشنگٹن میں صدر شی جن پنگ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی دوسری سربراہی ملاقات کے اہم ترین نتائج میں سے ایک ہے
BTC کی تازہ دستیاب قیمت تقریباً 85,000 ڈالر ہے؛ سات دن کی بلند سطح 87,330 ڈالر کے قریب رہی، اس لیے حالیہ بحالی کے باوجود پچھلی چوٹی ابھی دوبارہ حاصل نہیں ہوئی۔ 21 سے 25 ستمبر کے دوران امریکی Bitcoin ETF میں تقریباً 2.386 ارب ڈالر کی خالص آمد ہوئی؛ یہ مثبت طلب ہے، مگر تمام سرمایہ صرف ادارہ جاتی خریداروں کا نہیں سمجھا جاسکتا۔ BTC فنڈز کی روزانہ خالص آمد پیر کے 999 ملین سے جمعہ کو 134.5 ملین ڈالر رہ گئی؛ پانچوں سیشن مثبت تھے، لیکن خریداری کی روزانہ رفتار مسلسل کم ہوئی۔ ETH تقریباً 2,714 ڈالر ہے اور ہفتے میں 2,804 ڈالر تک جاچکا ہے؛ 2,750 سے 2,820 کی مزاحمت کے اوپر قیام اہم ہے، جبکہ ہفتہ وار ETF آمد تقریباً 690 ملین ڈالر رہی۔ BTC کے لیے 83,800 سے 84,000 کی حمایت اور 85,000 سے 85,800 کی مزاحمت قابلِ توجہ ہیں؛ ETH/BTC تقریباً 0.032 ہونے سے وسیع آلٹ کوائن گردش خودبخود ثابت نہیں ہوتی۔
ایتھیریم کی قیمت 2,714 ڈالر کی سطح پر برقرار ہے جہاں لیئر 2 نیٹ ورکس کی بڑھتی ہوئی لیکویڈیٹی اور اسٹیکنگ ییلڈز کی استواری مارکیٹ کو تحرک فراہم کر رہی ہیں۔ جانئے اہم سپورٹ اور ریزسٹنس لیولز۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں