آج 19 اگست 2026 کو انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں 277.75 روپے پر بند ہوا، جو کہ گزشتہ روز کے مقابلے میں 0.20% کی معمولی گراوٹ کو ظاہر کرتا ہے۔
"australian dollar fell on 4 months low after chairman fed statement" کے لیے 540 نتائج۔
آج 19 اگست 2026 کو انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں 277.75 روپے پر بند ہوا، جو کہ گزشتہ روز کے مقابلے میں 0.20% کی معمولی گراوٹ کو ظاہر کرتا ہے۔
آج 18 اگست 2026 کو کرپٹو مارکیٹ میں بٹ کوائن نے معمولی اضافہ دکھایا جبکہ ایتھیریم مستحکم رہا۔ پاکستانی P2P مارکیٹ میں USDT کی قدر 277.70 روپے رہی۔
آج 18 اگست 2026 کو پاکستانی مارکیٹ میں 24 قیراط سونے کی قیمت 453,700 روپے فی تولہ پر برقرار رہی جبکہ عالمی مارکیٹ میں XAU/USD $4,393.80 پر مستحکم ہے۔ DXY 99.67 پر ٹریڈ کر رہا ہے، جو سونے کے لیے ممکنہ طور پر منفی رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔
آج کرپٹو مارکیٹ میں Bitcoin اور Ethereum میں معمولی تیزی دیکھی گئی جبکہ پاکستانی P2P مارکیٹ میں USDT/PKR کی قدر میں معمولی کمی آئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 انڈیکس 180,502 پوائنٹس پر بند ہوا، معمولی تبدیلی کے ساتھ۔ سرمایہ کار آئندہ حکومتی پالیسیوں اور معاشی اشاروں کا انتظار کر رہے ہیں۔
آج 17 اگست 2026 کو سونے کی قیمتیں مقامی اور عالمی منڈیوں میں مستحکم رہیں، پاکستانی مارکیٹ میں 24 قیراط سونا 453,700 روپے فی تولہ پر برقرار ہے جبکہ عالمی سطح پر XAU/USD $4,392.20 پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔
آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی بہتری دیکھی گئی، جبکہ عالمی سطح پر DXY انڈیکس میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
آج 16 اگست 2026 کو کرپٹو مارکیٹ میں Bitcoin اور Ethereum دونوں میں معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ پاکستانی P2P مارکیٹ میں USDT/PKR کی قیمت 277.57 روپے پر مستحکم رہی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں KSE-100 انڈیکس آج 0.12% کی معمولی گراوٹ کے ساتھ 180,105 پوائنٹس پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں نے دن بھر محتاط رویہ اپنائے رکھا۔
16 اگست 2026 کو سونے کی عالمی اور مقامی قیمتیں بغیر کسی بڑی تبدیلی کے مستحکم رہیں، جبکہ ڈالر انڈیکس (DXY) 99.64 پر مستحکم رہا۔
آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں 277.78 روپے پر بند ہوا، جس میں 0.31% کا اضافہ دیکھا گیا۔ مہنگائی اور عالمی DXY انڈیکس روپے پر اثرانداز۔
امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی IAEA کے آئندہ اجلاس میں ایران کے معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک بھیجنے والی قرارداد کی حمایت کر رہے ہیں۔ رائٹرز کی جانب سے دیکھے گئے مجوزہ متن کے مطابق قرارداد IAEA کے ڈائریکٹر جنرل سے موجودہ اور سابقہ قراردادیں سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو منتقل کرنے کا مطالبہ کرے گی۔ مجوزہ قرارداد ابھی باضابطہ طور پر جمع نہیں ہوئی، اس لیے ایران کو سلامتی کونسل رپورٹ کیا جانا ابھی منظور شدہ فیصلہ نہیں۔ IAEA کے مطابق ایران نے بمباری سے متاثرہ تنصیبات تک مکمل رسائی بحال نہیں کی اور ایجنسی افزودہ یورینیم کے ذخائر کی موجودہ مقدار کی تصدیق نہیں کر پا رہی۔ اگر قرارداد منظور ہوتی ہے تو یہ تقریباً 20 سال بعد ایران کے جوہری معاملے کو IAEA بورڈ سے سلامتی کونسل تک لے جانے کی ایک بڑی سفارتی کشیدگی ہوگی۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں