ڈیجیٹل اثاثہ جات کی مارکیٹ میں حالیہ دنوں ایک دلچسپ رجحان دیکھنے میں آیا ہے جہاں اسپاٹ بٹ کوائن ETFs سے مسلسل دوسرے روز سرمائے کا انخلا ریکارڈ کیا گیا
"business day closed on negative trend in us stocks due to cautius market mood" کے لیے 1171 نتائج۔
ڈیجیٹل اثاثہ جات کی مارکیٹ میں حالیہ دنوں ایک دلچسپ رجحان دیکھنے میں آیا ہے جہاں اسپاٹ بٹ کوائن ETFs سے مسلسل دوسرے روز سرمائے کا انخلا ریکارڈ کیا گیا
امریکی ڈالر انڈیکس جو کہ دنیا کی چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر (USD) کی قدر کا پیمانہ ہے، ایشیائی سیشن کے دوران مسلسل چوتھے روز بھی دباؤ کا شکار ہے اور یہ تقریباً 98.70 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
پاکستانی روپیہ انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی استحکام دکھا رہا ہے، جو 277.28 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ صورتحال عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی درآمدی دباؤ کے درمیان ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے۔
ایشیائی انڈیکسز میں تیزی: جاپان کا Nikkei 225 تقریباً 2% اور جنوبی کوریا کا Kospi تقریباً 3% چڑھے، جبکہ جاپان کے علاوہ وسیع ایشیائی مارکیٹس میں بھی 0.9% اضافہ ہوا۔ امریکی روزگار کا دوہرا اثر: مضبوط US Jobs ڈیٹا نے عالمی نمو پر اعتماد بحال کیا، مگر ساتھ ہی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود طویل عرصے تک بلند رکھنے کے خدشات بھی برقرار رکھے۔ توانائی بحران میں استقامت: مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اور برینٹ تیل کے 96 ڈالر پر پہنچنے کے باوجود ایشیائی حصص میں کسی بڑے پیمانے کی فروخت (Sell-off) کا دباؤ نہیں دیکھا گیا۔ ین اور نکیئی کا باہمی ربط: ڈالر کے مقابلے جاپانی ین کی مضبوطی کے باوجود Nikkei کا بڑھنا ظاہر کرتا ہے کہ تیزی صرف کمزور کرنسی پر نہیں بلکہ کمپنیوں کی حقیقی طلب پر قائم ہے۔ امریکی تعطیل (Labor Day): آج امریکا میں تعطیل کے باعث وال اسٹریٹ اور کیش ٹریژری مارکیٹس بند ہیں؛ اس ریلی کی حتمی عالمی توثیق منگل کو امریکی سیشن کھلنے پر ہوگی۔
یورو بانڈ فنانسنگ: پاکستان نے دو حصوں (Dual-Tranche) پر مشتمل 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کیے، جن کے لیے عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے 6 ارب ڈالر کی زبردست مانگ سامنے آئی۔ مہنگائی کی بحالی: اگست میں قومی سالانہ CPI بڑھ کر 11.1 فیصد ہو گئی، جبکہ شہری کور افراطِ زر 8.8 فیصد اور دیہی کور 8.5 فیصد پر برقرار رہی۔ تجارتی خسارے کا پھیلاؤ: جولائی اور اگست میں تجارتی خسارہ 18.1 فیصد بڑھ کر 7.12 ارب ڈالر تک جا پہنچا، کیونکہ درآمدات کی رفتار برآمدات سے تقریباً دو گنا تیز رہی۔ اسٹیٹ بینک کے ذخائر: 28 اگست تک مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر 17.12 ارب ڈالر اور مجموعی ملکی سیال ذخائر 22.53 ارب ڈالر رہے، جبکہ انٹربینک میں USD/PKR ریٹ 277.41 پر مستحکم رہا۔ عالمی تیل کا خطرہ: برینٹ خام تیل ہفتے کے اختتام پر 92.68 ڈالر پر بند ہوا؛ 5 ستمبر سے ڈیزل کی قیمت میں 3.74 روپے کا اضافہ معیشت میں پیداواری لاگت کے نئے خدشات پیدا کر رہا ہے۔
Novartis اور Ionis کی پیلکارسن (Pelacarsen) نامی تجرباتی دوا بڑے تیسرے مرحلے کے کلینیکل ٹرائل میں قلبی واقعات کم کرنے کا بنیادی ہدف حاصل نہیں کر سکی۔ دوا نے Lp(a) کی سطح واضح طور پر کم کی، مگر اس حیاتیاتی بہتری سے دل کے دورے، فالج، قلبی موت یا فوری خون رسانی کے طریقۂ علاج کی ضرورت میں مطلوبہ کمی ثابت نہیں ہوئی۔ خبر کے بعد Ionis کے حصص تقریباً 12 فیصد اور اسی شعبے میں دوا تیار کرنے والی Amgen کے حصص تقریباً 5 فیصد نیچے آئے۔ مکمل مطالعہ ابھی شائع نہیں ہوا اور تفصیلی نتائج ایک آئندہ طبی کانفرنس میں پیش کیے جائیں گے، اس لیے ناکامی کی مکمل سائنسی تشریح ابھی باقی ہے۔ اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ pelacarsen کی ناکامی صرف اس مخصوص دوا سے متعلق ہے یا Lp(a) کو نشانہ بنانے والی دوسری زیرِ تیاری ادویات کے لیے بھی خطرے کا اشارہ ہے۔
پاکستانی روپے نے آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی قدر میں مزید کمی دیکھی، جو 0.42% کی گراوٹ کے ساتھ 277.36 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ کمی درآمدی دباؤ اور عالمی ڈالر کی مضبوطی کے جاری رجحان کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ اہم مزاحمتی سطحوں پر دباؤ برقرار ہے۔
لندن اسٹاک ایکسچینج نے کرپٹو ایکسچینج کریکن کی بنیادی کمپنی پے ورڈ کے ساتھ اشتراک کیا ہے، جس کا مقصد برطانیہ کے بڑے اور اہم Stocks کو بلاک چین پر لانا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج PSX میں منگل کے روز تجارتی سیشن کے آغاز پر ہی نمایاں خریداری دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں بینچ مار KSE100 انڈیکس میں 400 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اگست میں COMEX Gold میں تقریباً 9.4 فیصد اضافہ ہوا جو بلاشبہ عمدہ ماہانہ کارکردگی ہے، لیکن آخری سیشن میں spot price دباؤ کا شکار رہی۔ September Fed rate hike کی market-implied probability تقریباً 64 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ 10-year Treasury yield بڑھ کر 4.764 فیصد پر ریکارڈ ہوئی۔ مشرق وسطیٰ میں U.S.-Iran کشیدگی اور Brent crude کے $90 سے اوپر جانے کے باوجود سونے کی قیمتوں کا نہ بڑھنا واضح کرتا ہے کہ فی الوقت rates concerns نے safe-haven demand کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ستمبر کے دوران سونے (Gold) کی اگلی سمت کا فیصلہ محض geopolitical headlines پر نہیں بلکہ U.S. payrolls، inflation data، Treasury yields اور Fed expectations کا باہمی تعلق پر منحضر ہو گا۔
Brent Crude Oil کی قیمت کا دوبارہ 90 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچنا اب محض Energy Stocks کی کہانی نہیں رہی، بلکہ اس کے اثرات یورپ کی Bonds Market اور Monetary Policy کی توقعات تک پہنچ چکے ہیں۔
WTI Oil کی قیمت مشرق وسطیٰ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات کے باعث مضبوط ہے۔ $86.90 اہم resistance ہے، جس کے اوپر breakout کی صورت میں قیمت $87.69 اور $90 کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ دوسری جانب $84 اہم support ہے۔ اس کے نیچے break ہونے پر قیمت $82 اور $80 کی طرف جا سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں Strait of Hormuz، US oil inventories اور geopolitical developments WTI کی سمت کے لیے اہم رہیں گے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں