معاشی دنیا میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب European Stock Markets اور بانڈز میں ایک شاندار تیزی دیکھنے میں آئی۔ سرمایہ کاروں کی تمام تر توجہ اب جمعہ کو آنے والے اہم US Nonfarm Payroll اور مرکزی بینک کے عہدیداروں کے بیانات پر مرکوز ہے
"indices news" کے لیے 625 نتائج۔
معاشی دنیا میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب European Stock Markets اور بانڈز میں ایک شاندار تیزی دیکھنے میں آئی۔ سرمایہ کاروں کی تمام تر توجہ اب جمعہ کو آنے والے اہم US Nonfarm Payroll اور مرکزی بینک کے عہدیداروں کے بیانات پر مرکوز ہے
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) اپنی 'bearish trend continuation' کو برقرار رکھے ہوئے ہے، جو $4,454.99 کی سابقہ سپورٹ سطح کے نیچے ایک مستحکم 'daily close' کے بعد مزید مضبوط ہوئی ہے۔ DXY کی مسلسل مضبوطی سونے پر دباؤ ڈال رہی ہے، جبکہ امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ 'non-yielding' سونے کی کشش کو کم کر رہا ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر میں مزید کمی کا شکار ہے، جو 277.43 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ گراوٹ درآمدی ادائیگیوں کے مسلسل دباؤ اور مقامی مارکیٹ میں ڈالر کی طلب میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف حالیہ بیان اور ایرانی قیادت کے سخت ردعمل نے سرمایہ کاروں کو ایک بار پھر محتاط کر دیا ہے۔
کرپٹو مارکیٹ میں Bitcoin اور Ethereum نے معمولی ریکوری کی کوشش کی لیکن اہم مزاحمتی سطحوں کو توڑنے میں ناکام رہے، جس کے بعد اب ایک معمولی گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔ میکرو اکنامک دباؤ اور ڈیریویٹوز مارکیٹ میں محتاط پوزیشننگ رینج باؤنڈ کنسولیڈیشن کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج KSE-100 انڈیکس نے 177,000 کی اہم نفسیاتی اور تکنیکی سطح سے نیچے ایک فیصلہ کن بریک ڈاؤن دکھایا۔ مارکیٹ کی وسعت میں کمی اور بڑھتے ہوئے ٹرن اوور نے اس گراوٹ کی تصدیق کی، جو سرمایہ کاروں کے محتاط رویے اور ایک نئے منفی رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) اپنی 'bearish trend continuation' کو برقرار رکھے ہوئے ہے، جو $4,454.99 کی سابقہ سپورٹ سطح کے نیچے ایک مستحکم 'daily close' کے بعد مزید مضبوط ہوئی ہے۔ DXY کی مسلسل مضبوطی سونے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ مقامی مارکیٹ میں بھی قیمتوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) نے امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر میں مزید کمی کی ہے، انٹربینک مارکیٹ میں 277.87 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس گراوٹ کی اہم وجوہات ہیں۔
جنگ صرف میدانِ جنگ کو نہیں ہلاتی بلکہ اس کے اثرات دنیا کی معیشت، تیل کی قیمتوں اور فنانشل مارکیٹس تک پہنچتے ہیں۔ US Iran War نے بھی عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے
تبدیلی صرف چین کی مانیٹری پالیسی کا ایک اشارہ نہیں بلکہ US Dollar اور Chinese Yuan کے درمیان طاقت کے توازن، چینی برآمدات اور عالمی کرنسی مارکیٹ کے لیے بھی اہم پیغام رکھتی ہے
آج کرپٹو مارکیٹ میں Bitcoin اور Ethereum نے معمولی ریکوری کی کوشش کی، لیکن وسیع تر میکرو اکنامک دباؤ اور ڈیریویٹوز مارکیٹ میں محتاط پوزیشننگ کے باعث اہم مزاحمتی سطحوں کو توڑنے میں ناکام رہے۔ Bitcoin $78,000 کی سطح سے نیچے مستحکم ہے، جو موجودہ رینج باؤنڈ رجحان کی تصدیق کرتا ہے۔
آج KSE-100 انڈیکس نے 177,000 کی نفسیاتی سطح سے نیچے بندش دی، جو مارکیٹ میں محتاط رویے اور ایک واضح رجحان کی عدم موجودگی کی نشاندہی کرتا ہے۔ کمزور مارکیٹ وسعت اور ٹرن اوور میں کمی نے اس منفی جھکاؤ کو مزید تقویت بخشی۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں