ایران جنگ طویل عرصے تک جاری نہیں رہے گی ٹرمپ، مزاحمت جاری رہے گی پاسداران انقللاب
★اہم نکات
- •امریکی مؤقف: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایران کے خلاف حالیہ کشیدگی یا ممکنہ کارروائی US Iran Conflict زیادہ طویل عرصے تک نہیں چلے گا۔
- •ایرانی قیادت کا ردعمل: سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور سیکورٹی کونسل کے حکام نے امریکہ کو سخت جواب دینے اور "نئی حکمت عملی" اپنانے کا عندیہ دیا ہے۔
- •مارکیٹ کا ردعمل: خبر شائع ہونے کے وقت ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (West Texas Intermediate - WTI) کروڈ آئل معمولی کمی کے ساتھ 91.12 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
- •تجربہ کارانہ نقطہ نظر: جیو پولیٹیکل تنازعات اکثر عارضی اتار چڑھاؤ لاتے ہیں، لیکن افراط زر میں اضافے سپلائی چین میں رکاوٹ کا خطرہ طویل مدتی ٹرینڈ کو بدل سکتا ہے۔
عالمی مارکیٹس میں اس وقت سب سے بڑی بحث مڈل ایسٹ کی بدلتی ہوئی صورتحال US Iran Conflict اور اس کے توانائی کی مارکیٹس پر پڑنے والے اثرات پر ہو رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف حالیہ بیان اور ایرانی قیادت کے سخت ردعمل نے سرمایہ کاروں کو ایک بار پھر محتاط کر دیا ہے۔
جہاں ایک طرف US Iran Conflict کے عارضی یا محدود رہنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، وہیں دوسری طرف مارکیٹ میں غیر یقینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس تفصیلی بلاگ پوسٹ میں ہم اس بحران کے مارکیٹ پر اثرات، تاریخ کے تناظر میں اس کی حیثیت اور ٹریڈرز کے لیے لائحہ عمل کا جائزہ لیں گے۔
US Iran Conflict اور اس کے اثرات
جب بھی مڈل ایسٹ میں تناؤ بڑھتا ہے، توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوتے ہیں، جس سے قیمتوں میں اچانک اتار چڑھاؤ آتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان کہ یہ لڑائی زیادہ طویل نہیں ہوگی، مارکیٹ کے لیے ایک طرح سے نفسیاتی ریلیف کا باعث بن رہا ہے۔ تاہم، ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی کے بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ تہران بھی سخت گیر پالیسی کے تحت تیاری کر رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ WTI Crude Oil فی الحال 91.12 ڈالر کے ارد گرد محتاط انداز میں ٹریڈ کر رہی ہے۔
ٹریڈنگ کے تجربے سے اہم مشاہدہ
اپنے ٹریڈنگ کیریئر کے دوران میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی مڈل ایسٹ میں تناؤ بڑھتا ہے، خوردہ سرمایہ کار (Retail Traders) افواہوں پر فوری لانگ یا شارٹ پوزیشنز لے لیتے ہیں، جبکہ بڑے ادارے (Institutional Players) مارکیٹ کے اصل Order Flow اور Technical Support Levels کا انتظار کرتے ہیں۔
2019 اور اس کے بعد کے کئی جیو پولیٹیکل بحرانوں میں یہی دیکھا گیا کہ ابتدائی گھبراہٹ کے بعد مارکیٹ نے اکثر اپنے بنیادی ٹرینڈ کی طرف واپسی کی۔
اختتامیہ۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری یہ کشیدگی اور ایک دوسرے کے خلاف بیانات عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کے لیے ایک اہم موڑ ہیں۔
اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ مؤقف کہ یہ لڑائی زیادہ لمبی نہیں چلے گی، مارکیٹ کے لیے ایک پرسکون عنصر ہے، لیکن تہران کی طرف سے "نئی حکمت عملی" کا اعلان اس بات کا غماز ہے کہ صورتحال کسی بھی وقت پلٹ سکتی ہے۔
ایک ماہر مارکیٹ سٹریٹجسٹ کے طور پر میرا ماننا ہے کہ کامیاب سرمایہ کار وہ ہوتے ہیں جو شور شرابے اور سیاسی بیانات سے بالاتر ہو کر Data، Risk Management اور مارکیٹ کے حقیقی ڈھانچے پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔
بحران کے یہ لمحات خطرات کے ساتھ ساتھ اچھے مواقع بھی لے کر آتے ہیں، بشرطیکہ تیاری مکمل ہو۔
آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا آپ کے نزدیک یہ کشیدگی تیل کی قیمتوں کو سو ڈالر سے اوپر لے جائے گی یا مارکیٹ اسے جلد ہضم کر لے گی؟ نیچے کمنٹس سیکشن میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں!
Source: Reuters News Agency https://www.reuters.com
اہم وضاحت۔
Urdu Markets کی جانب سے فراہم کردہ تمام معلومات، تجزیے، اعداد و شمار، خبریں، مارکیٹ ڈیٹا اور دیگر مواد صرف معلوماتی اور تعلیمی مقاصد کے لیے پیش کیے جاتے ہیں۔ یہ مواد کسی بھی صورت میں مالیاتی، سرمایہ کاری یا ٹریڈنگ مشورہ تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔
قارئین کسی بھی Trading Decision، سرمایہ کاری یا دیگر مالیاتی فیصلے سے قبل اپنی تحقیق کریں اور ضرورت کے مطابق کسی مستند مالیاتی مشیر سے مشورہ حاصل کریں۔ Urdu Markets اپنی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کی بنیاد پر کیے گئے کسی بھی Trading Decision یا سرمایہ کاری کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ نقصان یا منافع کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا۔
⚠ تجزیہ ڈسکلیمر
یہ تجزیہ صرف تعلیمی و معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور اسے سرمایہ کاری کا مشورہ نہ سمجھا جائے۔ مارکیٹ میں نقصان کا خطرہ موجود ہے؛ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنی تحقیق کریں یا مستند مالی مشیر سے رجوع کریں۔📩 یہ مضمون پسند آیا؟
روزانہ ایسی ہی تازہ مارکیٹ نیوز + ای میل پر
متعلقہ موضوعات
متعلقہ مضامین
3 مضامینتبصرے
0 گفتگو
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کرنے والے آپ بن سکتے ہیں۔