امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے ایرانی وفد کو ملک چھوڑنے کے احکامات، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت بیانات اور ایرانی پارلیمنٹ کے ردعمل نے ایک نئے معاشی محاذ کو جنم دیا ہے۔
Tag
14 مضامین
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے ایرانی وفد کو ملک چھوڑنے کے احکامات، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت بیانات اور ایرانی پارلیمنٹ کے ردعمل نے ایک نئے معاشی محاذ کو جنم دیا ہے۔
آج نئے ہفتے کے آغاز میں، مارکیٹ کا سب سے اہم موضوع EURUSD کی قدر میں کمی بن چکا ہے، جہاں یورو اور امریکی ڈالر (US Dollar) کا یہ جوڑا شدید دباؤ کے بعد نیچے آ گیا ہے۔
ایک طرف جہاں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت شرائط برقرار ہیں، وہیں دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے امریکہ اور تہران کے درمیان مذاکرات کی توقعات نے تجارتی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ دی ہے
سعودی East-West Pipeline میں منگل، 22 ستمبر کو محدود بہاؤ بحال ہونے کی اطلاعات آئیں؛ 11 ستمبر کے ڈرون حملے کے بعد یہ اہم متبادل راستہ بند تھا۔ خبر کے بعد Brent Crude دورانِ تجارت دو ڈالر سے زیادہ گر کر 97 ڈالر کے قریب آیا؛ یہ اس وقت کی قیمت تھی، بدھ کا تازہ نرخ یا منگل کی اختتامی قیمت نہیں۔ ذرائع نے مکمل بحالی کے لیے چھ سے آٹھ ہفتے بتائے ہیں۔ ابتدائی پمپنگ کم رفتار سے جاری ہے اور Saudi Aramco کا باضابطہ نظام الاوقات سامنے نہیں آیا۔ سابقہ بہاؤ تقریباً 40 لاکھ بیرل یومیہ تھا، جبکہ مجموعی گنجائش 70 لاکھ بیرل ہے؛ دونوں اعداد کو موجودہ برآمدات یا فوری اضافی عالمی رسد نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگلی تصدیق ینبع سے کارگو کی حقیقی لوڈنگ، مسلسل روانگی اور بڑھتے بہاؤ سے ہوگی؛ Strait of Hormuz کی بحالی ابھی شرائط سے جڑی ہے اور علاقائی خطرات باقی ہیں۔
دنیا کے سب سے بڑے خام تیل فراہم کنندہ سعودی عرب کی برآمدات اور اہم سمندری گزرگاہوں پر منڈلاتے ہوئے خطرات نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی تشویشناک ہیں
یمن کی حوثی فورسز کی طرف سے Houthis attack on Saudi Arabia اور باب المندب کے قریب بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کے حوالے سے شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں یمنی ساحل پر ہونے والی فوجی پیش رفت اور بحیرہ احمر (Red Sea) میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی فنانشل مارکیٹس اور کماڈٹی ٹریڈرز کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ Red Sea oil supply disruption کا خطرہ اب محض ایک نظریاتی بحث نہیں رہا بل
مشرق وسطیٰ کا خطہ ایک بار پھر عالمی معیشت کے لیے ایک بڑے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے، جہاں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور یمن کے ساحلی شہر Mocha Port پر ایران کے حمائت یافتہ حوثی باغیوں کے قبضے نے توانائی کی سپلائی چین کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
امریکی ہنگامی خام تیل ذخیرہ (SPR) گزشتہ ہفتے تقریباً 12 لاکھ بیرل کم ہوکر 28 کروڑ 54 لاکھ بیرل رہ گیا؛ یہ نومبر 1982 کے بعد کم ترین سطح ہے۔ مارچ میں ذخیرہ تقریباً 41 کروڑ 50 لاکھ بیرل تھا؛ اس تقابلی مقدار سے موجودہ سطح تقریباً 12 کروڑ 96 لاکھ بیرل، یعنی 31 فیصد کم بنتی ہے۔ امریکہ نے 17 کروڑ 20 لاکھ بیرل جاری کرنے کا اعلان کیا تھا، جو عالمی سطح پر 40 کروڑ بیرل تیل اور تیار مصنوعات کی مربوط فراہمی کے منصوبے کا حصہ ہے۔ تبادلے کے تحت حاصل کیا گیا تیل کمپنیوں کو اضافی بیرل کے ساتھ واپس کرنا ہے؛ تاہم مستقبل کی واپسی موجودہ دستیاب ذخیرے میں شمار نہیں کی جاسکتی۔ Brent تقریباً 98 ڈالر کے آس پاس اور خلیجی رسد خطرات کی زد میں ہے؛ کم SPR فوری امریکی قلت ثابت نہیں کرتا، مگر نئے جھٹکے سے نمٹنے کی گنجائش محدود کرتا ہے۔ تجارتی ذخائر اور ملکی پیداوار اس سے الگ ہیں۔
عالمی مارکیٹس میں جب بھی جغرافیائی سیاسی ( تنازعات شدت اختیار کرتے ہیں، تو اس کے براہ راست اثرات توانائی کے شعبے اور کموڈیٹیز کی قیمتوں پر پڑتے ہیں۔ موجودہ تناظر میں، US Iran conflict نے سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف حالیہ بیان اور ایرانی قیادت کے سخت ردعمل نے سرمایہ کاروں کو ایک بار پھر محتاط کر دیا ہے۔
جنگ صرف میدانِ جنگ کو نہیں ہلاتی بلکہ اس کے اثرات دنیا کی معیشت، تیل کی قیمتوں اور فنانشل مارکیٹس تک پہنچتے ہیں۔ US Iran War نے بھی عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے
WTI Crude Oil Prices اس وقت توجہ کا مرکز بن گئیں جب ایران کی جانب سے امریکی حملوں کے جواب میں میزائل داغے گئے۔ اس کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو چوکنا کر دیا ہے، کیونکہ دنیا کے ایک اہم ترین تجارتی راستے یعنی آبنائے ہرمز (Strait Of Hormuz) پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ( نے ایران کے خلاف ایک انتہائی سخت، غیر معمولی اور تباہ کن معاشی کارروائی شروع کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے
✓ شکریہ! آپ کی سبسکرپشن کامیابی سے درج ہو گئی۔
پہلا ڈائجسٹ آپ کے انباکس میں جلد پہنچے گا۔
آپ کے پسندیدہ معاشی شعبے، سونا صرافہ، فاریکس اور پی ایس ایکس ایکسچینج کی روزانہ یا ہفتہ وار آپ ڈیٹس براہِ راست اِن باکس میں وصول کریں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں